کوئلے کی کان کے کارکن کے گھر سے نکلنے والا ’ہیرا‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کوئلے کی کان میں کام کرنے والے ایک افغان کارکن کی بیٹی شمسیہ علی زادہ نے یونیورسٹی میں داخلے کے امتحان میں ٹاپ کر کے قدامت پسند افغان معاشرے میں ایک نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ شمسیہ اب ڈاکٹر بننے کے خواب دیکھ رہی ہے۔

افغانستان کی وزارت تعلیم کے مطابق 18 سالہ شمسیہ علی زادہ نے کابل یونیورسٹی میں داخلے کے امتحان میں نہ صرف حصہ لیا بلکہ اس امتحان میں حصہ لینے والے ایک لاکھ ستر ہزار طلبا و طالبات میں وہ اول نمبر پر رہی۔ شمسیہ کے والد شمالی افغانستان میں کوئلے کی ایک کان میں مزدوری کرتے ہیں۔ تاہم انہیں شوق تھا کہ وہ شمسیہ کو اعلیٰ تعلیم کے زیور سے آراستہ کریں۔ اس کے لیے انہوں نے اپنے خاندان کو کابل منتقل کر دیا۔ شمسیہ نے امتحان میں ٹاپ کرنے پر اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے خبر رساں ادارے روئٹرز کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا، ”یہ میرا میری فیملی کی طرف احساس ذمہ داری ہے، جس نے مجھے اس مقام پر پہنچایا ہے۔ اب یہ میرا خواب ہے کہ میں میڈیکل کی تعلیم حاصل کروں اور اپنے ہم وطنوں کی خدمت کروں۔“

مبارکیں ایک نازک وقت پر

شمسیہ علی زادہ کی اتنی بڑی کامیابی تمام افعان لڑکیوں کے لیے ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کے ٹاپ کرنے کی خبر عام ہوتے ہی افغانستان کی وزارت تعلیم نے انہیں سابق افغان صدر حامد کرزئی، افغانستان متعینہ امریکی چارج دے افیئرز اور دیگر غیر ملکی مندوبین کی طرف سے مبارکباد کا پیغام بھیجا۔ اس خبر نے جہاں ملک میں ایک خوشی کی فضا قائم کر دی وہاں اس وقت کو افغانستان کے لیے ایک حساس وقت بھی سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ کابل حکومت طالبان عسکریت پسندوں کے نمائندوں کے ساتھ امن مذاکرات بھی کر رہی ہے۔

یہ وہی انتہا پسند عناصر ہیں، جنہوں نے 1997 ء تا 2001 ء اپنے حکومتی دور میں لڑکیوں کو اسکول جانے سے محروم کر دیا تھا۔ تاہم علی زادہ نے کہا، ”میں سیاست کو اپنی تعلیم کی راہ میں نہیں آنے دوں گی۔“ اس نے ایک بیان میں کہا، ”مجھے طالبان کی واپسی کے بارے میں کچھ خدشات ہیں لیکن میں امید کا دامن نہیں چھوڑنا چاہتی کیونکہ میرے خواب میرے خوف سے کہیں زیادہ بڑے ہیں۔“

طالبان کے موقف میں تبدیلی

طالبان کا کہنا ہے کہ وہ اپنے رویے اور موقف میں تبدیلی لائے ہیں۔ اب وہ لڑکیوں کو تعلیم حاصل کرنے دیں گے۔ تب بھی بہت سے لوگوں کو یہ خدشہ ہے کہ اگر طالبان کو دوبارہ سیاسی طاقت اور اثر و رسوخ حاصل ہوا، تو افغانستان میں خواتین کے حقوق پھر سے بری طرح پامال ہوں گے۔

اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق افغانستان میں اب بھی 2.2 ملین بچیاں اسکول جانے سے محروم ہیں اور معاشرے میں خواندہ خواتین کی شرح 30 فیصد سے بھی کم ہے۔ اس موقع پر امریکی چارج دے افیئرز روس ولسن نے اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا، ”آپ کی شان و ذکاوت اور تحمل ناقابل تردید ہیں، جس طرح آپ کے کارنامے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ افغانستان میں دو دہائیوں میں کتنی ترقی کی ہے۔“

ادھر سابق افغان صدر حامد کرزئی نے بھی ایک بیان میں کہا ہے، ”علی زادہ اور دیگر نوجوانوں کی اس امتحان میں کامیابی افغانستان میں روشن مستقبل کی امید کی علامت ہے۔“

بشکریہ ڈٰ ڈبلیو

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کشور مصطفیٰ

یہ مضامین ڈوئچے ویلے شعبہ اردو کی سیینیئر ایڈیٹر کشور مصطفی کی تحریر ہیں اور ڈوئچے ویلے کے تعاون سے ہم مضمون شائع کر رہے ہیں۔

kishwar-mustafa has 45 posts and counting.See all posts by kishwar-mustafa