عبدالصمد خان اچکزئی: ایک عظیم سیاست دان اور قوم پرست رہنما

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

\"samiپختونوں کی تاریخ میں ایک ایسا لیڈر بھی گذرا ہے، جو ایک قوم پرست، جمہوریت پرست، ایک مربی معلم، ایک حقیقت پسند قلمکار، آزادی پسند رہنما، انسانی حقوق کا علمبردار تھا۔ وہ ایک لبرل سماج کے متلاشی عبدالصمد خان اچکزئی المعروف ”خان شہید“ تھے۔ وہ عظیم رہنما جنہوں اپنی زندگی کے 32 سال جیل کے سلاخوں کے پیچھے اس لیے گزارے تھے، کہ ان کی قوم آزادی، جمہوریت اور چین کی زندگی گزار سکے۔

ایک دن جب محمود خان اچکزئی کے گھر میں ایک اجنبی آدمی داخل ہوا، تو وہ بھاگ کر امی کے پاس اس اجنی کی دریافت کرنے پہنچے، تو امی کاجواب تھا، یہ تو آپ کے والد ہیں، جو تمہاری پیدائش سے پہلے جیل میں قید ہو گئے تھے۔ عبدالصمد خان اچکزئی ٰ1907 کو جنوبی پختونخوا کی تحصیل گلستان گاؤں، عنایت االلہ کاریز کے اس وطن دوست حمید زئی قبیلہ کے جلوزئی شاخ برخوردار کے گھر پیدا ہوئے۔ ان کے والد محترم کا نام نور محمد خان اچکزئی تھا، جو محمود خان اچکزئی کا دادا تھے۔

میں جب بھی محمود خان اچکزئی کو اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہو کر، بے باک، اور نڈر انداز میں تقریر کرتے دیکھتا ہوں، تو مجھے ”خان اچکزئی“ کی یاد آتی ہے، جو ان کے والد کے پردادا تھے، اور احمد شاہ ابدالی کے ساتھ بحیثیت ایک کمانڈر پانی پت کی تیسری لڑائی میں لڑے تھے۔ اور نہایت دلیری سے فتح یاب بھی ہوئے تھے۔

\"achak-zai\"  عبدالصمد خان نے اسکول کی تعلیم کے ساتھ ساتھ پشتو، عربی، فارسی زبانیں بھی سیکھ لیں اور فقہ، احادیث اور تفصیل کا مطالعہ کیا۔ جب صمد خان کی عمر 11 سال تھی، تب انہوں نے سکول کے طالب علموں کے ایک جلوس کی قیادت کی تھی، جو پشتونوں نے اپنے وطن کے خلاف سازشوں کی مخالفت میں نکالا تھا۔ عبدالصمد خان اچکزئی نے اپنے سیاسی سفر کا آغاز، فرنگی سامراج کی مخالفت سے شروع کیا تھا، جو اس وقت کے طاقتور حکمران تھے۔ خان شہید یہ سمجھ رہے تھے کہ اگر فکری و نظریاتی سیاست سے قوم کو بیدار نہیں کیا گیا، تو یہ قوم ہمیشہ کے لیے غلامی کی آغوش میں چلی جائے گی۔ لہٰذا وہ بہت کم عمری میں مزاحمت کا علم تھام کر اور ان جابر اور ظالم قوتوں کے خلاف عملی طورپر میدان میں آگئے۔

عبدالصمد خان اچکزئی برصغیر اور پختونخوا کی تحریک آزادی کے ان اولین رہنمائوں میں سے تھے جن میں باچا خان، کاکا صنوبر حسین مومند اور ان جیسے دیگر عظیم رہنما شامل تھے۔ آپ نے اپنی تمام زندگی ہم وطنوں، مظلوم قومیتوں اور مظلوم عوام کو قومی، سیاسی، معاشی، سماجی غلامی سے نجات دلانے کی جدوجہد میں گزاری۔ وطن کی آزادی اور پشتون قوم کو متحد رکھنے کے لیے خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی نے اس وقت کی انگریز سرکار کی تمام مراعات کو ٹھکرا دیا تھا، جس میں انھیں تحریک آزادی سے دست بردار کرنے کے لیے طرح طرح کے ہتھکنڈے استعمال کیے گئے۔ انگریزوں نے عبدالصمد خان اچکزئی کو اے سی چمن بنانے کی بھی آفر کی لیکن اس عظیم مجاہد نے اپنے وطن کے عشق میں سہولتوں کی بجائے، مراعات حاصل کرنے کی بجائے پرخار راہوں پر چلنے کا فیصلہ کیا اور اس جرم عظیم پر اس وقت کے حکمرانوں نے ان پر ظلم کے پہاڑ توڑنے شروع کیے اور طرح طرح کی اذیتیں دی گئیں۔ قافلہ آزادی کے اس عظیم سالار کو ہر طرح سے ٹارچر کیا گیا۔\"abdus-samad-achakzai-bacha-khan\"

دسمبر1929کو لاہور میں کانگریس کے خلاف نوجوان بھارت سبھا اور کیرتی کسان کے سالانہ اجلاس منعقد ہو رہے تھے۔ خان اپنے دو ساتھیوں قاضی محمد قاہر خان اور عبیدااللہ خان کے ساتھ لاہور گئے اور ان تنظیموں کے اجلاس کے مقررین میں سے ڈاکٹر سیف الدین اور کاکا صنوبر حسین مومند کی تقریریں انھیں زیادہ پسند آئیں۔

لاہور سے واپسی پر اور سیاسی کام کے آغاز کے ساتھ ہی عبدالصمد خان اچکزئی اور ان کے بڑے بھائی حاجی عبدالسلام خان اچکزئی، محمد ایوب خان اور عیسیٰ خان کو گرفتار کرکے کوئٹہ لے جایا گیا۔ اس وقت ایک وطن دوست رہنما میر یوسف خان مگسی کو بھی اسی الزام کے تحت گرفتار کرکے مستونگ جیل میں رکھا گیا۔ انھوں نے بھی لاہور کانگریس میں شرکت کی تھی۔ یوسف مگسی کو جب عبدالصمد اچکزئی اور ان کے رفقاء کی گرفتاری کا عمل ہوا تو وہ بھی ان کے رفقاء کی طرح بہت خوش ہوئے اور اس واقعے پر ایک پرجوش نظم بھی لکھی۔ خان شہید اور ان کے ساتھیوں کا کیس جس جرگے کے سپرد ہوا وہ سب شاہی جرگے کے اراکین تھے۔ جرگے نے انھیں دو، دو سال قید کی سزا سنائی، سزا سنانے کے بعد انھیں کوئٹہ جیل لاکر جیل میں ٹاٹ نما کپڑے اور بیڑیاں پہنائی گئی۔ جیل میں قیدیوں سے توہین آمیز سلوک پر خان شہید نے کھانا کھانے سے انکار کیا، جیل سے رہا ہوتے ہی آپ بمبئی چلے گئے اور لندن گول \"jawaharlal_nehru_with_abdul_samad_khan_and_sheikh_abdullah_in_1946\"میز کانفرنس میں شمولیت کے لیے جانے والے رہنمائوں سے ملاقاتیں کی اور جنوبی پختونخوا کے مسائل اور اصلاحات کے متعلق اپنا لکھا ہوا کتابچہ تقسیم کیا اور بمبئی سے واپسی کے بعد زور و شور سے سیاسی کام میں مشغول ہوگئے۔

1932میں جیکب آباد کے مقام پر بلوچستان کانفرنس منعقد کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اس میں پشتون اور بلوچوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ 1933میں بلوچستان کانفرنس کے سلسلے میں منعقدہ حیدرآباد کے سالانہ اجلاس میں بھی شرکت کی جس سے واپسی پر پھر گرفتار ہوئے اور جرگے کی سفارش پر تین سال قید کی سزا دی گئی۔ 1936میں جیل سے رہا ہوتے ہی استقلال اخبار کا اجرا کیا اور اس کے ایڈیٹر مقرر ہوئے اور یوسف علی خان مگسی کے نام پر عزیز پریس قائم کیا، اخبار کا اکثر کام رضا کارانہ ہوتا تھا۔ جس دن اخبار چھپتا تمام ساتھی پریس پہنچ کر اخبار لے جاتے، کچھ ڈاک کے ذریعے بھیج دیے جاتے اور جو شہر میں تقسیم کرنے ہوتے تھے وہ سائیکلوں پر سوار ہو کر ساتھی خود تقسیم کرآتے اور اس طرح صحافت کے میدان کو وطن کی آزادی کے لیے کام میں لائے۔ اس اخبار کو 1950میں حکومت نے بند کیا۔

1938میں محب وطن نوجوانوں کی ایک سیاسی تنظیم انجمن وطن کے نام سے قائم کی اور وطن کی آزادی کے لیے برصغیر پاک و ہند کے دیگر آزادی پسندوں سے رابطہ قائم رکھا اور ان تمام تحریکوں میں حصہ لیا جن کا مقصد انگریزوں کو دیس سے باہر کرنا تھا۔ سیاسی جد وجہد میں پشتونوں نے بھرپور حصہ لیا اور ایسے کارنامے سر انجام دیے جن پر دنیا بھر کی آزادی پسند اقوام فخر کرسکتی ہیں۔\"ackakzai\"

عبدالصمد خان اچکزئی شہید نے پشاور، مچھ، ہری پور، لاہور کے شاہی قلعے، منٹگمری، مالٹا اور جزائر انڈیمان (کالے پانی) کی صعوبتیں بہادری اور جرأت سے برداشت کیں۔ 23 اپریل 1930 کو قصہ خوانی پشاور میں پشتون آزادی پسندوں پر گورے فوجیوں نے بے دریغ گولیاں چلائی اور سینکڑوں پشتون شہید اور زخمی ہوئے۔ جن فوجیوں نے نہتے پشتونوں پر گولیاں چلانے سے انکار کیا، انگریز سرکار نے ان کو گرفتار کرکے سخت ترین سزائیں دی۔ خیبر پختونخوا میں مردان، ٹکر، بنوں، ہاتھی خیل، کوہاٹ، پڑانگ، سپن تنگی اور کئی دیگر مقامات پر پشتونوں پر انتہائی تشدد کیا گیا اور ہزاروں پشتون شہید کردیے گئے لیکن آزادی وطن کی جد وجہد تیز سے تیز تر ہوتی گئی۔ ’’ہندوستان چھوڑدو‘‘ تحریک میں چودہ ہزار پشتون سیاسی کارکن قید ہوئے۔ بابڑہ کے قصاب خان عبدالقیوم خان کے دور میں سینکڑوں پشتون شہید کیے گئے اور قیدی پشتونوں کے ساتھ انسانیت سوز سلوک کیا گیا۔ خان شہید چھ سال مسلسل قید و بند کے بعد 1954میں رہا ہوئے تو ’’ورورپشتون‘‘ کے نام سے سیاسی تنظیم قائم کی اور اسے 1956میں نیشنل عوامی پارٹی میں ضم کیا گیا۔

آپ نے انجمن وطن اور ور ور پشتون سے لے کر نیپ پشتون خوا کے قیام تک جس اولوالعزمی سے عوامی تحریک کو منظم کرنے کے لیے انتھک کام کیا اور جس بلند \"samad-khan\"حوصلے سے قید وبند کے کم و بیش 32سال گزارے وہ مظلوم اقوام کی تاریخ میں ہمیشہ باعث فخر رہیں گے۔ خان شہید عبدالصمد خان اچکزئی آزادی اور جمہوریت کے انتھک اور جانباز سپاہی تھے۔ دو دسمبر 1973 کو صبح 4 بجے جب وہ کوئٹہ میں شارع جمال الدین افغانی پر اپنے رہائش گاہ میں سورہے تھے تو دشمنوں نے ان پر سوتے میں دو دستی بم گرا کر ان کو شہید کر دیا۔ آج ان کی برسی کے موقعہ پر میں کی تحریک آزادی کے بطل جلیل کو کم و بیش ساٹھ ہزار افراد نے ان کے آبائی گائوں غازیوں کی دھرتی انقلابی گلستان میں شہداء کے قبرستان میں سپرد خاک کیا۔
قافلہ آزادی کے اس عظیم سیاسی سپہ سالار کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •