ٹوماہاک میزائل کی ریورس انجینئرنگ سے بابر میزائل کی تیاری کا نواز شریف کا دعویٰ کتنا درست ہے؟

فرحت جاوید - بی بی سی اردو، اسلام اباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف نے بدھ کو لندن میں امریکی میزائل کی ریورس انجینئرنگ سے پاکستانی بابر میزائل کی تیاری کا دعویٰ کیا تو میڈیا اور سوشل میڈیا پر یہ سوال گردش کرنے لگا کہ یہ دعویٰ کس حد تک درست ہے۔

صحافیوں سے بات چیت میں نواز شریف نے کہا تھا کہ’آدھے میزائل تو میں نے تیار کروائے ہیں اور یہ جو ٹوماہاک ہے وہ بھی نواز شریف نے بنوایا تھا۔ وہ ہم بلوچستان سے لے کر آئے تھے جب کلنٹن نے افغانستان پر راکٹ چلائے تھے۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ ‘ان میزائلوں میں سے ایک ثابت مل گیا۔ اس کو ہم لے کر آئے اور اس کی بیک انجینیئرنگ (ریورس انجینیئرنگ) ہوئی، ہم نے اس کو بنا دیا۔ یار کوئی چھوٹی موٹی خدمات نہیں ہیں ہماری اور ہمیں فخر ہے کہ ہم نے یہ خدمت کی ہے۔’

اس موقع پر سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے ان کی تصحیح کی اور بتایا کہ میزائل ٹوماہاک نہیں کروز تھے، جس پر نواز شریف نے دہرایا کہ وہ کروز میزائل کی بات کر رہے ہیں۔ خیال رہے کہ ٹوماہاک میزائل کروز میزائل ہی ہے۔

تاہم پاکستان سرکاری سطح پر بابر سمیت دیگر میزائلز کو مقامی سطح پر ملکی سائنسدانوں اور انجینئرز کے ذریعے تیار کرنے کا دعویٰ کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان کا آبدوز سے کروز میزائل کا کامیاب تجربہ

پاکستان: کروز میزائل بابر کا کامیاب تجربہ

پاکستان کے بابر۔3 میزائل تجربے پر انڈیا میں شکوک و شبہات

پاکستان کا سٹیلتھ ٹیکنالوجی کے حامل کروز میزائل کا کامیاب تجربہ

اس دعوے کا پس منظر کیا ہے؟

یہ واقعہ ہے اگست 1998 کا جب امریکہ نے بحیرۂ عرب سے آپریشن ’انفینٹ ریچ‘ کے نام سے افغانستان میں عالمی شدت پسند تنظیم القاعدہ کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا۔

اس آپریشن کا مقصد افغانستان کے علاقے خوست میں موجود اسامہ بن لادن کے ٹھکانے اور شدت پسند تنظیم القاعدہ کے تربیتی مراکز کو نشانہ بنانا تھا۔ اسی آپریشن کے تحت سوڈان میں بھی ایسے ہی ایک ٹھکانے کو تباہ کیا جانا تھا۔

یہ کارروائی اُسی مہینے تنزانیہ اور کینیا میں امریکی سفارتخانوں میں القاعدہ کی طرف سے بم دھماکوں کا بدلہ لینے کے لیے کی گئی تھی۔ ان دھماکوں میں ایک اندازے کے مطابق امریکی شہریوں سمیت 224 افراد ہلاک اور چار ہزار سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

اسٹیو کول کی کتاب گھوسٹ وارز کے مطابق وائٹ ہاؤس میں اس معاملے پر بحث ہوئی تھی کہ پاکستان کو اس کارروائی کے متعلق بتایا جائے یا نہیں کیونکہ کارروائی میں استعمال ہونے والے ٹوما ہاک کروز میزائل نے بلوچستان کی فضا سے گزرتے ہوئے افغانستان پہنچنا تھا۔

بعض امریکی دفاعی اہلکاروں کا خیال تھا کہ ’یہ میزائل بلوچستان میں پاکستان کی ایک مبینہ ایٹمی سائٹ سے گزریں گے تو ہو سکتا ہے کہ پاکستان انھیں انڈیا کی کوشش سمجھ کر تباہ کر دے‘، جبکہ دوسری طرف یہ رائے بھی تھی کہ پاکستان کو بتا دیا گیا تو قوی امکان ہے کہ یہ خفیہ معلومات اسامہ بن لادن کو پہنچا دی جائیں۔‘

اس لیے فیصلہ ہوا کہ آپریشن کے بارے میں کارروائی سے صرف دس منٹ پہلے پاکستان کو بتایا جائے گا۔ یوں 20 اگست کو میزائل فائر ہونے سے صرف دس منٹ پہلے اس وقت کے امریکی سفیر نے فوجی سربراہ جنرل جہانگیر کرامت کو آگاہ کیا کہ یہ کروز میزائل پاکستان کی فضائی حدود سے گزریں گے۔

بابر 3

EPA
پاکستان کے بابر-3 میزائل کے کامیاب تجربے کے دعوے پر انڈیا میں شبہات پائے جاتے ہیں

مگر ہوا یہ کہ 20 اگست کو مکران کی ساحلی پٹی اور ہوشب کے غیر آباد علاقوں میں کچھ مقامی افراد کو سمجھ نہ آنے والے جنگی سامان کا ملبہ ملا۔

بی بی سی نے اسی بارے میں ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر ثمر مبارک مند سے بات کی جو نیسکام کے بانی اور پاکستان کے میزائل اینڈ ریسرچ پروگرام کے ڈائریکٹر رہ چکے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ اس وقت افغانستان میں اسامہ بن لادن کے مبینہ ٹھکانوں پر 72 ٹوما ہاک میزائل داغے گئے تھے۔’چونکہ ان سب نے افغان صوبے خوست تک پہنچنے کے لیے پاکستان کی فضا سے گزرنا تھا، یہی وجہ ہے کہ دو میزائل بظاہر فنی خرابی کی وجہ سے بلوچستان کے غیرآباد علاقوں میں گرے۔‘

پاکستان اس وقت اپنے ایٹمی پروگرام کی وجہ سے نوے کی دہائی سے ہی امریکہ کی جانب سے دفاعی ساز و سامان کی خرید و فروخت پر پابندیوں کی زد میں تھا۔ اسی برس پاکستان نے ایٹمی دھماکے کیے تو یہ دفاعی اور معاشی پابندیاں مزید سخت ہو چکی تھیں۔

اس وقت کے اخبارات کے مطابق امریکی کروز میزائلز ٹوماہاک کا ملبہ بلوچستان میں مکران کی ساحلی پٹی کے قریب خاران کے علاقے میں دو مختلف مقامات پر ملا تھا۔ مقامی افراد نے قانون نافذ کرنے والے اداروں اطلاع دی تو یہ ملبہ قبضے میں لے لیا گیا اور فوری طور پر فوج نے اسے اپنے سٹرٹیجک پروگرام سے منسلک اداروں کے حوالے کیا تاکہ اس پر تحقیق کر سکیں۔

مگر یہ میزائل کس حالت میں ملے تھے، اس پر متضاد رائے پائی جاتی ہے۔ اس وقت پینٹاگون نے اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا تھا۔ تاہم یہ کہا جاتا ہے کہ اس دور میں پاکستان اور خاص طور پر چین کروز میزائل ٹیکنالوجی کے حصول کے لیے کوشاں تھے۔

واشنگٹن پوسٹ نے اپنی ایک خبر میں اسلام آباد میں ایک سرکاری افسر کے حوالے سے دعویٰ کیا تھا کہ ’حیران کن طور پر پاکستان کو یہ میزائل سالم حالت میں ملے تھے۔‘

تاہم ڈاکٹر ثمر مبارک مند اس سے اتفاق نہیں کرتے، وہ کہتے ہیں کہ ’یہ میزائل نہایت نازک ہوتا ہے اور یہ بات مضحکہ خیز ہے کہ وہ زمین پر گرے اور اس کے ٹکرے ٹکڑے نہ ہو جائیں۔ یہ سچ ہے کہ پاکستان کو اس علاقے سے میزائل ملے مگر وہ چند ٹکڑے تھے، تباہ شدہ ملبے اور چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں پر کیا ریسرچ کی جا سکتی ہے؟‘

ڈاکٹر ثمر مبارک مند بتاتے ہیں کہ پاکستان سے امریکہ نے یہ ملبہ واپس مانگا بھی نہیں تھا، ’ہمارے پاس امریکہ کی ایسی کوئی درخواست آئی ہی نہیں تھی اور دوسرا یہ کہ یہ تو محض کوڑے کرکٹ کا ڈھیر تھا جو بے سود تھا۔ امریکہ ملبہ مانگتا تو واپس بھی کر دیتے۔‘

واضح رہے کہ اس وقت کے امریکہ کے محکمہ دفاع کے اہلکاروں نے کہا تھا کہ اگر ایسا ہوا بھی ہے تو یہ خطرے کی بات نہیں کیونکہ ٹوماہاک طویل عرصے سے اوپن مارکیٹ میں موجود ہیں، یہاں تک عراق میں جنگ کے دوران کئی میزائل ضائع ہوئے مگر عراق یا کوئی اور ملک ان کی ریورس انجنئیرنگ نہیں کر سکا تھا۔

ایک سابق امریکی فوجی لیفٹیننٹ جنرل تھامس جی میکنرنی نے کہا تھا کہ ’یہ میزائل ایک شیشے کی مانند ٹوٹ کر گرتا ہے، یہ بہت نازک ہوتا ہے۔‘

تاہم 2009 میں امریکی اخبارات میں یہ خبریں شائع ہوئی تھیں کہ امریکہ کی انٹیلی جنس ایجنسیز کو پاکستان کے ایک ایسے میزائل تجربے کے بارے میں اطلاعات ملی ہیں جسے خفیہ رکھا گیا تھا۔ امریکی انٹیلی جنس نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ پاکستان نے 1980 کی دہائی میں امریکہ سے خریدے گئے ہارپون نامی میزائل کی ریورس انجنیئرنگ کی ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ نے ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے انھیں ’من گھڑت‘ قرار دیا تھا اور ایک منفرد پیشکش کی تھی کہ امریکہ چاہے تو اپنے بیچے گئے میزائل سسٹم کا جائزہ لے سکتا ہے جسے ہرگز نہیں چھیڑا گیا۔ اس وقت کے وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ ’پاکستان اپنا میزائل سسٹم بنانے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے اور پاکستانی سائنسدان اس کام پر عبور رکھتے ہیں۔‘

یہ خبریں پاکستان کی جانب سے بابر کروز میزائل کے تجربے کی بعد منظرعام پر آئی تھیں۔ واضح رہے کہ بابر میزائل کی صلاحیت اور ڈیزائن ہارپون اور ٹوماہاک میزائل سے مشابہت رکھتی ہے۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق اس وقت پاکستان کے ایک سینئر افسر نے اس میزائل کے ملبے کو ’خدا کا تحفہ‘ قرار دیا تھا تاہم یہ بھی وضاحت کی گئی تھی کہ ’ابھی یہ علم نہیں کہ یہ میزائل کس حالت میں ملا تھا۔‘

نواز شریف کا کروز میزائل کے متعلق دعویٰ کتنا درست ہے؟

ڈاکٹر ثمر مبارک مند اس بیان پر رائے دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’یہ بیان غلط ہے کہ پاکستان نے ٹوماہاک کو ریورس انجینئر یا نقل کیا۔ یہ تکنیکی طورپر بھی ممکن نہیں، کیونکہ ساخت کاپی کر بھی لیں تو اصل کام تو سافٹ وئیر کا ہوتا ہے جس کا مکمل کنٹرول مینوفیکچرر کے پاس ہوتا ہے۔‘

وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کے سائنسدانوں نے خود دن رات ان پروگرامز پر کام کیا ہے اور مقامی سطح پر یہ میزائل تیار کیے ہیں۔ خیال رہے کہ بابر کروز میزائل پر کام کا آغاز سنہ 2000 کے بعد شروع ہوا تھا اور 2005 میں بابر ون کا کامیاب تجربہ کیا گیا تھا۔

پاکستان نے 2017 میں سمندر کی تہہ سے زمین پر مار کرنے والے اور سٹیلتھ ٹیکنالوجی کے حامل بابر تھری کروز میزائل کا تجربہ کیا تھا اور اس طرح یہ دنیا کا پانچواں ملک بن گیا تھا جس نے اپنا ٹرائیڈ مکمل کیا۔ یعنی پاکستان نے زمین، فضا اور سمندر کی تہہ سے ایٹمی ہتھیار فائر کرنے کی صلاحیت حاصل کرلی تھی۔

اس وقت پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ بابر کروز تھری میزائل اپنے ہدف کو سو فیصد تک درست نشانہ بناتا ہے، اس خاصیت کی وجہ سے یہ میزائل ایٹمی کے بجائے روایتی وار ہیڈ بھی لے جا سکتا ہے۔

ڈاکٹر ثمر مبارک مند کہتے ہیں کہ ’یہاں تک تو بات درست ہے کہ جب بھی کوئی اسلحہ خریدنا ہو یا میزائل کی تیاری جیسا پراجیکٹ شروع کرنا ہو تو اس سے متعلق ایک تفصیلی رپورٹ وزیراعظم کو پیش کی جاتی ہے جس میں اس کی اہمیت، ضرورت اور اخراجات وغیرہ کے حوالے سے بریفنگ شامل ہوتی ہے، تو اس حد تک تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ نواز شریف اس وقت وزیر اعظم تھے تو انھوں نے پروگرام کا بجٹ منظور کیا تھا مگر یہ نہیں کہا جا سکتا تھا کہ یہ میزائل ان کا خیال تھا یا انھوں نے بنایا۔ اس پر بغیر کسی ریورس انجنیئرنگ کے تمام تر محنت ہمارے اپنے سائنسدانوں نے کی ہے۔‘

پاکستان کون سے میزائل تیار کر رہا ہے؟

پاکستان اس وقت بیلسٹک اور کروز دونوں قسم کے میزائل تیار کر رہا ہے۔ سادہ الفاظ میں بیلسٹک میزائل کا مقصد ایک بڑے علاقے میں تباہی پھیلانا ہوتا ہے جبکہ کروز میزائل بالعموم کسی خاص اور چھوٹی جسامت والے ہدف کو ٹھیک ٹھیک تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بیلسٹک میزائل آواز سے کئی گنا زیادہ رفتار سے پرواز کرتا ہے جبکہ کروز میزائل کم رفتار کے باوجود اپنی ’مشینی ذہانت‘ استعمال کرتے ہوئے مطلوبہ ہدف تک جا پہنچتا ہے۔

بیلسٹک میزائل انتہائی تیزرفتاری سے انتہائی بلندی پر پرواز کے بعد کشش ثقل کو استعمال کرتے ہوئے زمین پر اپنے ہدف کو نشانہ بناتا ہے۔ کروز میزائل، بیلسٹک میزائل سے سائز میں چھوٹا ہوتا ہے تاہم اس کی رفتار بیلسٹک میزائل کے مقابلے میں خاصی کم اور سب سونک اور ہائپر سونک کے درمیان ہوتی ہے۔

یہ زمین کے انتہائی قریب، ایک درخت کی اونچائی تک بھی اڑان بھر سکتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ یہ ریڈار سے بچ سکتا ہے۔ اس میزائل کو فائر کرنے کے بعد پرواز کے دوران اس کی سمت اور ہدف کو تبدیل بھی کیا جاسکتا ہے۔ کروز میزائلز کو کلر سپر کمپیوٹرز بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ رہنمائی سے لے کر ہدف کو نشانہ بنانے تک جدید ترین کمپیوٹرائزڈ نظام استعمال کرتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16114 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp