بندہ مزدور کی سلگتی آنکھیں۔۔۔ اور سانجھ کا سپنا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سوا نیزے پہ سورج، چلچلاتی دھوپ، مانو آسمان سے آگ برس رہی ہو لیکن کاروبار حیات موسموں کا مرہون منت تو نہیں ہوا کرتا۔ اپنے پرسکون، نیم تاریک اور خنک آمیز گھر کے دروازے سے نکل کے گاڑی کی طرف بڑھتے ہوئے لو کے تھپیڑے چہرے سے ٹکراتے ہیں۔ اونگھتا برگد اپنی نیم باز آنکھوں سے دیکھ کے مسکراتا ہے اور پھر سے اپنے گیان میں گم ہو جاتا ہے۔ پیاسے پرندے آنگن میں رکھے پانی کے برتن میں اپنی چونچیں ڈبوتے ہیں اور ان قطروں کی طرف حسرت سے تکتے ہیں جو چونچ سے نیچے پھسل جاتے ہیں۔

اندھیرے کی عادی آنکھوں کے سامنے چمکتی دھوپ سنہری دائرے بناتی ہے۔ پیشانی سے پسینے کے قطرے آہستگی سے نیچے کو پھسل رہے ہیں۔ گاڑی چلاتے ہوئے سڑک پہ دور پانی کی لہریں پھسلتی نظر آتی ہیں۔ گرمی کی شدت سے سراب اور حقیقت آپس میں گڈ مڈ ہوتی تصویریں ہیں۔

کچھ دور سڑک پہ مرمت ہو رہی ہے۔ ٹریفک کے آہستہ ہونے کا نشان اور مرمت ہونے والے حصے کے گرد باڑ لگا دی گئی ہے۔ باڑ کے باہر والی طرف ائر کنڈیشنڈ گاڑیاں رینگ رہی ہیں اور باڑ کے اندر کچھ مٹیالی اور کچھ سیاہ رنگت والے آبنوسی بدن محو حرکت ہیں۔ شعلے برساتی دھوپ اور سورج کی تمازت کو انسانی جسم کے شکم کا دوزخ شکست دے رہا ہے۔ ظالم بھوک کی آگ جسے بجھانے کے لئے باہر کی آگ کو فراموش کرنا پڑتا ہے۔

گاڑی رینگتی ہوئی ان ہیولوں کے قریب پہنچ چکی ہے۔ باڑ کے بالکل پاس ایک بائیس چوبیس برس کا لڑکا ہاتھ میں کدال تھامے ہوئے ہے، اسی کا ہم عمر پھاؤڑا چلا رہا ہے۔ پھاؤڑے والے کا منہ نیچے کی طرف ہے جبکہ کدال والا کبھی کبھار ادھر ادھر دیکھ لیتا ہے۔ گاڑی ان کے بالکل پاس پہنچ کے رک جاتی ہے، شاید آگے کوئی رکاوٹ ہے۔ وہ ایک اچٹتی نظر ہماری گاڑی کی طرف ڈالتا ہے پھر ایک لحظے کو ہماری نظر ملتی ہے۔ کیا نہیں اس کی نظر میں؟ حسرت، رنج، شکایت، غصہ، تنفر، نا امیدی، مایوسی، نفرت!

ہمیں علم ہے کہ وہ کیا سوچ رہا ہے ؟ اس نظام کے متعلق جو اسے سڑک پہ اس شدت کے موسم میں پیٹ کی آگ بجھانے کے لئے چند ٹکے کمانے کے لئے لے آیا ہے۔اور اس جیسے کچھ اور انسان عالیشان ائیر کنڈیشنڈ گاڑیوں میں پاس سے گزر رہے ہیں۔ یہ کیسا دستور ہے خدایا تیری خدائی میں؟

میں اس کی آنکھ میں رقم شکووں کی وہ تحریر پڑھ لیتی ہوں اور شرمندہ ہو کے سر جھکا لیتی ہوں۔ دل بوجھل سا ہو چلا ہے۔

میں آگے بڑھ چکی ہوں، کچھ ہی دیر میں ہسپتال پہنچنے والی ہوں۔ پارکنگ میں پہنچتے ہی کار صفائی والا لڑکا دوڑ کے میرے پاس آ جاتا ہے۔ میلی سی ڈانگری اور بد رنگ پی کیپ، مٹی مٹی رنگت اور بجھی آنکھوں والا لڑکا، ہاتھ میں بالٹی اور کپڑا تھامے میری طرف سے اس اشارے کا منتظر ہے جب وہ رگڑ رگڑ کے پہلے سے صاف کار کو مزید صاف کرتے ہوئے ان سکوں کے متعلق سوچے گا جن سے وہ دوپہر کا کھانا اور ایک چھوٹی پانی کی بوتل خرید سکے۔

میں سر ہلا کے آگے بڑھ جاتی ہوں۔ میرے اندر پھر ایک کہرام برپا ہے۔ میرے خدا! میرا اسی عمر کا بیٹا اپنے آرام دہ کمرے میں تکیے میں منہ چھپائے سو رہا ہے۔ اس کے اٹھتے ہی اس کی پسند کا ناشتہ میز پہ چن دیا جائے گا جسے وہ ٹی وی پہ لاپرواہی سے چینل بدلتے ہوئے بے دلی سے تھوڑا سا کھا کے چھوڑ دے گا۔ اور یہ… یہ اسی پیٹ کے ایندھن کی خاطر….

مریض دیکھتے ہوئے چائے کی طلب شدید ہوجاتی ہے۔ ہماری اٹینڈنٹ جانتی ہے سو تھوڑے وقفے کے بعد چائے والے کو بلاتی رہتی ہے۔ ہم نہیں جانتے، کیا نام ہے اس کا؟ کہاں کا رہنے والا ہے ؟ چہرے پہ ایک سدا بہار مسکراہٹ لئے، نیچی آنکھیں کیے دبے پاؤں آتا ہے اور آہستگی سے چائے کا کپ ہمارے سامنے رکھ کے چلا جاتا ہے۔ نہ جانے کب سے چائے بنا رہا ہے ؟ ایک برس؟ دو یا پانچ برس؟ نہ جانے دنیا کے کس کونے میں کچھ لوگ بستے ہوں گے جو اس چائے سے کمائے جانے والے روپوں کی ہر ماہ راہ تکتے ہوں گے!

مریض دیکھے جا چکے، کلینک سے نکل کے مجھے گراسری سٹور جانا ہے۔ میرے ہاتھ میں ایک لمبی لسٹ ہے جس پہ میرے بچوں نے اپنی پسندیدہ چیزیں لکھی ہیں۔ چپس میں ہاٹ چلی فلیور، سپرائٹ ٹن، امیریکانا چکن سٹرپس، پاسٹا نوڈلز، کرسپی فرنچ فرائز، چاکلیٹس، سٹرابیرز، اورنج جوس… میں ایک ایک شیلف پہ جا کے اکھٹا کرتی ہوں۔ میری ٹرالی کا وزن میری ہمت کا امتحان لے رہا ہے۔ بلنگ پہ ایک نوجوان دبلی پتلی زرد رنگت والی لڑکی بیٹھی ہے۔ وہ ہر چیز کو غور سے دیکھ کے مشین کے آگے پنچ کرتی ہے۔ نہ جانے کیا سوچ رہی ہے؟ شاید اس مختصر تنخواہ کے بارے میں جس سے یہ سب نہیں خریدا جا سکتا….. وہ ان چیزوں کا دیکھتی ہے، چھوتی ہے لیکن بس اتنا ہی…. میرا دل بھاری ہو جاتا ہے۔

میں گھر پہنچنے والی ہوں، گاڑی پورچ میں داخل ہوتی ہے۔ پودوں کو پانی دیتا افریقی النسل مالی بھاگ کر میری مدد کو پہنچتا ہے۔ سامان ڈکی سے نکال کر کچن تک پہنچانے میں اسے کبھی عار نہیں ہوا۔ وہ پچھلے دنوں ہی مجھے بتا چکا ہے کہ کمپنی سے ملنے والی پوری تنخواہ وہ نائجیریا بھیج دیتا ہے اور اشیائے خوردونوش خریدنے کے لئے وہ فارغ وقت میں ہمارے گھر کام کرتا ہے۔ وہی کہانی ہے جس کی گونج صبح سے ہمارے گردو نواح میں ہے۔

سڑک پہ مزدوری کرتا ہوا لڑکا، پارکنگ لاٹ میں گاڑیوں صاف کرتا ہوا نوجوان، کلینک میں چائے والا، گراسری سٹور کے کیش کاؤنٹر پہ بیٹھی لڑکی، باغیچے میں کام کرتا مالی نہ جانے کن دنیاؤں کے باسی ہیں۔ نہ جانے کہاں سے یہ سب اپنے اپنے خوابوں کے قیدی بنے اور ان خوابوں کے تعاقب میں اپنے پیاروں کو الوداع کہہ کے اجنبی دیس میں آن پہنچے ہیں۔ لیکن کیا یہ نہیں جانتے کہ ان کے خواب کبھی حقیقت میں نہیں بدلیں گے۔ یہ اس کولہو میں بندھے ہیں جہاں انہیں زندگی کبھی وہ موقع نہیں دے گی کہ وہ اس چکر کو توڑ کے زندگی کے دوسرے بہاؤ میں شامل ہو سکیں۔

یہ لوگ سوالیہ نشان ہیں ہمارے لئے، زندگی کے لئے اور اس نظام کے لئے جس میں ہم سب اپنے اپنے کھونٹے سے بندھے، آنکھوں پہ پٹی باندھے صبح سے شام کرتے ہوئے سوال اٹھانے اور جواب ڈھونڈنے کی جرات ہی نہیں کرتے۔ ان کا وجود ایک ایسا سچ ہے جسے کوئی سننا پسند نہیں کرتا۔

ہمیں اس صبح نو کی تلاش ہے جب ہم ان سب کو ان کے خوابوں کی تکمیل کی خوش خبری سنا سکیں۔ وہ دن جب ہماری آنکھوں میں درد اور ان کی آنکھوں سے تنفر نہ جھلکے۔ سب آنکھوں میں ایک ہی رنگ ہو، انسانیت، محبت اور برابری کا رنگ!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •