با اختیار وزیراعظم صرف بڑے بڑے معاملات دیکھتے ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیراعظم عمران خان نے اپنے حالیہ انٹرویو میں واضح طور پر بتا دیا ہے کہ سربراہ مملکت وہ ہیں اور وہ اپنے اختیارات استعمال کرنے میں ہرگز نہیں ہچکچاتے۔ جو افراد اس باب میں کنفیوز تھے کہ معیشت نے اس درجے ترقی کیسے پائی ہے، ان کی کنفیوژن دور ہو گئی ہو گی کہ وزیراعظم سے بڑھ کر ذمہ دار کوئی دوسرا شخص نہیں ہے۔

وزیراعظم نے یہ بھی بتایا کہ وہ کتنے با اختیار ہیں اور اپنے اختیارات استعمال کرنے میں وہ تامل بھی نہیں کرتے۔ مثلاً بفرض محال اگر کوئی آئی ایس آئی چیف ان سے استعفیٰ مانگنے کی جسارت کرے تو وہ الٹا اس سے استعفیٰ مانگ لیں گے۔ نیز انہیں بتائے بغیر کوئی آرمی چیف اگر کارگل میں جنگ چھیڑ دے تو وہ اسے فارغ کر دیں گے۔

ناقدین کہیں گے کہ یہی کوشش تو نواز شریف نے کی تھی مگر جنرل مشرف نے پہلے پھونک مار دی اور پھر نواز شریف کو دس برس کے لیے جدہ بھیج گیا تاکہ وہ سیکھ سکیں کہ وزیراعظم چاہے جتنا بھی بڑا ہو جائے لیکن بادشاہ سے بڑا نہیں ہوتا۔ اسے علم ہو کہ شاہی نظام میں کس طرح کے طور طریقے اختیار کرنے چاہئیں۔ اگلی مرتبہ نواز شریف نے یہ طور طریقے اختیار کیے مگر پھر ان کے ساتھ وہی ہاتھ ہو گیا۔ اس کی وجہ ظاہر ہے کہ نواز شریف کی فطری نا اہلی ہے۔ کپتان کے ساتھ ہرگز ایسا نہیں ہو سکتا کیونکہ وہ نا صرف دلیر ہے بلکہ کرپٹ بھی نہیں ہے۔

بہرحال قوم یہ جان گئی کہ پاکستان میں وزیراعظم ہی تمام بڑے بڑے معاملات دیکھتے ہیں۔ چھوٹے معاملات مثلاً آٹے، چینی، بجلی، گیس، معیشت وغیرہ کی سپلائی اور قیمت، اور اپوزیشن سے سیاست اور مقدمات وغیرہ انہوں نے ایک اچھے باس کی طرح اپنے ماتحت وزرا اور محکموں پر چھوڑے ہوئے ہیں۔ ایران اور سعودی عرب میں ثالثی، امریکہ اور ایران کے تعلقات، شامی خانہ جنگی کا خاتمہ، یمن میں امن، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقریر اور اس قسم کے دیگر بڑے بڑے معاملات پر ان کی توجہ زیادہ مبذول ہوتی ہے۔

ہمارے ایک عزیز بھی اسی طرح کی جمہوریت میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ کہنے کو تو وہ گھر داماد ہیں مگر اپنے خاندانی یونٹ کے حکمران کی حیثیت سے تمام بڑے بڑے معاملات کے فیصلے کرتے ہیں۔

ایک دن عزیز صاحب بتا رہے تھے کہ ان کے گھر میں مکمل جمہوری نظام ہے اور وہ اس جمہوریت کے سربراہ ہیں۔ مثلاً ان کی بیگم وزیر خزانہ ہے۔ سارے مالی امور اس کے ہاتھ میں ہیں۔ وہ اپنی تنخواہ لا کر اس کے ہاتھ پر دھر دیتے ہیں اور بیگم انہیں ان کی ضروریات کے حساب سے ضروری کٹوتیاں کرنے کے بعد فنڈ جاری کرتی ہے۔ کس نے کیا کھانا اور پہننا ہے سب کا انتظام اس کے ہاتھ میں ہے۔

ان کی ساس وزیر داخلہ ہیں۔ گھر کی تمام سیکیورٹی اور خارجہ امور ان کے ہاتھ میں ہے۔ کون کہاں جا رہا ہے اور کب تک باہر رہے گا، کس سے ملنا ہے اور کس سے دور رہنا ہے، کس سے رشتہ ناتہ کرنا ہے، وغیرہ قسم کے تمام معاملات وہ دیکھتی ہیں۔ سالی وزیر اطلاعات ہے۔ محلے یا خاندان میں جو کچھ بھی ہو، اس کی خبر لانا اور آگے نشر کرنا اس کی ذمہ داری ہے۔ سسر وزیر محنت اور مذہبی امور ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ کس نے کیا کام کرنا ہے اور نماز روزے کی پابندی وہی کرواتے ہیں۔

ہم نے پوچھا کہ پھر آپ کیا کرتے ہیں؟ آپ کے ساتھ تو پھر وہی گھر دامادوں والا سلوک ہوتا ہو گا جس میں وہ بچارے عوام ہوتے ہیں جو آمرانہ حکومت کے ہتھے چڑھے ہوتے ہیں۔

سنتے ہی وہ ہتھے سے اکھڑ گئے۔ کہنے لگے کہ آپ نے یہ سوچا بھی کیسے؟ میں اس جمہوری حکومت کا سربراہ ہوں۔ یہ تمام چھوٹے چھوٹے معاملات ان افراد کے سپرد ہیں جو انجام دینے کے لیے گدھے کا سا دماغ اور اس جیسی ہی محنت اور لگن درکار ہوتی ہے۔ بطور وزیراعظم تمام بڑے بڑے معاملات میں دیکھتا ہوں۔

مثلاً امریکہ اور ایران کو جنگ لڑنی چاہیے یا مصالحت کی راہ اختیار کر لینی چاہیے۔ افغانستان سے امریکی فوجوں کا انخلا کب ہونا چاہیے۔ چین کو اب سی پیک اور بیلٹ اینڈ روڈ پراجیکٹ کس ملک میں شروع کرنا چاہیے۔ انڈیا کو کیسے سنبھالا جائے۔ مسئلہ کشمیر کیسے حل ہو سکتا ہے۔ یہ سب معاملات میرے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 1324 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar