سپر بگز کو کیسے روکا جائے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اینٹی بائیوٹک مزاحم بیکٹیریا اگلی وبائی بیماری کا سبب بن سکتے ہیں، جن سے لڑنے کے لیے ڈاکٹروں کو نئی ادویات اور اختراعات کی ضرورت ہے۔ کوویڈ 19 ایک وائرس کی وجہ سے ہوتا ہے لیکن جسم کو کمزور کر کے، یہ بیکٹیریل انفیکشن کے لئے راستہ بنا دیتا ہے۔ ابتدائی تحقیق سے پتا چلا ہے کہ کوویڈ 19 کے تقریباً 15 فی صد مریض مہلک ثانوی بیکٹیریل انفیکشن جیسے نمونیہ، سیپٹک شاک اور خون کی بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔ مزید برآں، صحت عامہ کے حکام اور سائنس دانوں کا اندازہ ہے کہ کوویڈ سے ہلاک ہونے والے افراد میں سے نصف افراد ان ثانوی انفیکشن کا شکار بنتے ہیں۔ ان موقع پرست بیکٹیریا میں سپر بگز سب سے خطرناک جراثیم ہیں، جو خود کو تبدیل کر کے معیاری اینٹی بائیوٹکس کے خلاف مزاحمت کر سکتے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق، سپر بگز پہلے ہی ہر سال پینتیس ہزار امریکیوں کی ہلاکت کا باعث بن رہے ہیں۔ اگر بیکٹیریا اسی طرح اینٹی بایوٹکس کے خلاف مزاحمت حاصل کرتے رہے تو عالمی ادارہ صحت کا اندازہ ہے کہ وہ 2050 ء تک موت کی سب سے بڑی عالمی وجہ بن جائیں گے۔

وائرل وباؤں جیسی اچانک مصیبتیں، یقیناً غیر متوقع ہیں، تاہم ثانوی بیکٹیریل انفیکشن ایک عام سی بات ہے اور مناسب ادویات کے ساتھ قابل علاج ہے۔ پھر بھی جہاں بائیو ٹیکنالوجی کمپنیاں کوویڈ۔ 19 پر قابو پانے کے لئے 450 سے زائد ادویات اور ویکسینوں کی جانچ کر رہی ہیں، وہیں ہمارے اسپتالوں اور دوا ساز کمپنیوں کے منصوبوں میں سپر بگز سے نمٹنے کے لئے جدید اور طاقتور اینٹی بائیوٹکس کی سخت کمی ہے، جو ہمارے لیے تباہ کن حد تک ہلاکت خیز ہو سکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم اپنے آپ کو ایسے جراثیم کا شکار ہونے کے لیے کیوں چھوڑ رہے ہیں، جو اگلی عالمی وبا کا باعث بن سکتے ہیں؟

جدید ادویات کی تیاری کے لئے نئی کمپنیوں نے اس مسئلے پر خاصی پیش رفت کی ہے لیکن پچھلے کچھ سالوں میں بہت سی کمپنیاں دیوالیہ ہو گئیں، جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اینٹی بایوٹکس کے خلاف بڑھتی مزاحمت کی وجہ سے اینٹی بائیوٹکس کمپنیوں کے لئے منافع بخش ثابت نہیں ہو رہیں۔ بنیادی طور پر اینٹی بائیوٹک کی فروخت کے حجم اور اس کی طبی قیمت کے مابین الٹا تعلق ہے، جو اینٹی بائیوٹک کمپنیوں کی بقا کو مشکل بنا دیتا ہے۔

جراثیم کے ترکش میں اینٹی بائیوٹک کے خلاف مزاحمت لیے بہت سے تیر جمع رہتے ہیں، جو ان کو اینٹی بائیوٹک کے اثر سے بچنے میں مدد دیتے ہیں۔ جتنا زیادہ اینٹی بائیوٹکس کا استعمال بڑھتا ہے، اس سے بچنے کے لیے جراثیم میں مزاحمت کے طریقوں کا ارتقا اتنا ہی زیادہ ہوتا جاتا ہے۔ اسی مناسبت سے، آہستہ آہستہ مزاحم اور خطرناک سپر بگز کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ڈاکٹر جدید ترین، طاقت ور اینٹی بائیوٹکس کا نسخہ میں استعمال کم سے کم کرتے جاتے ہیں، اور ان کو صرف آخری حل کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔

یہ اینٹی بائیوٹک اسٹیورڈ شپ، عوامی صحت کے لئے تو بہترین ہے لیکن اینٹی بائیوٹکس کی فروخت اور کمپنیوں کے منافع کمانے کے لئے تباہ کن ہے۔ نئی اینٹی بائیوٹکس کے تجارتی حجم اور طبی قیمت کے درمیان مارکیٹ کا عدم توازن حل نہ ہونے کی وجہ سے، بہت سی اینٹی بائیوٹک کمپنیاں ادویات منظور ہونے کے بعد تجارتی طور پر مسابقت کے قابل نہیں رہتیں اور ڈوب جاتی ہیں۔ کیوں کہ ایک طرف تو ہم سائنسدانوں سے گزارش کر رہے ہیں کہ وہ نئی اینٹی بائیوٹکس تیار کریں، اور پھر جب وہ منظور ہو کر مارکیٹ میں آ جاتی ہیں، تو ہم ڈاکٹر سے گزارش کرتے ہیں کہ ان کا استعمال کم سے کم کریں، تا کہ ان کے خلاف جراثیم میں مزاحمت پیدا نہ ہو۔

پچھلی دہائی کے دوران میں نئی اینٹی بائیوٹکس کی تجارتی ترقی کو منضبط کرنے کے لئے کئی مالی اور قانونی قواعد و ضوابط متعارف کروائے گئے ہیں۔ بائیو میڈیکل ایڈوانسڈ ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی اور عالمی ادارہ صحت اینٹی بائیوٹک مزاحم بیکٹیریا کا مقابلہ کرنے کے لئے اینٹی بائیوٹک ریسرچ اور کلینیکل ٹرائل کے لئے گراں قدر فنڈز کی پیش کش کرتے ہیں۔ امریکا میں 2012 ء میں منظور شدہ ایک نئے قانون GAIN ایکٹ نے فارماسوٹیکل انڈسٹری کو اینٹی بائیوٹکس کی تیزی کے ساتھ منظوری اور متعدد غیر مسابقتی فوائد کی پیشکش کی ہے، تا کہ نئی اینٹی بائیوٹکس مریضوں تک جلد پہنچ سکیں۔

جولائی میں دو درجن دوا ساز کمپنیوں نے ڈبلیو ایچ او اور یورپی انویسٹمنٹ بینک کے ساتھ شراکت میں ایک بلین ڈالر کے AMR ایکشن فنڈ، جس کا مقصد چھوٹی اینٹی بائیوٹک کمپنیوں میں سرمایہ کاری کرنا ہے، کا آغاز کیا۔ یہ اقدامات اجتماعی طور پر سپر بگز کے خلاف ہمارے علاج معالج کو بہتر بنانے کی سمت ایک مثبت پہل کی نشان دہی کرتے ہیں۔

بایو ٹیکنالوجی کی صنعت کو بہت ضروری نئے علاج دریافت کرنے کے بدلے میں تجارتی اور مالی انعامات پیش کرنے کے ماڈل سے ایک طرف تو ڈاکٹر، سپر بگز کو ختم کرنے کے کے لیے قیمتی اینٹی بائیوٹکس کے نئے ذخیرے سے منظم طور پر استفادہ کر سکیں گے، دوسری طرف کمپنیاں ایک غیر مسابقتی عمل کے ذریعے جدید اینٹی بائیوٹک سے تجارتی فوائد حاصل کر سکیں گی۔ یوں اس نئے ماڈل سے مریضوں کو صرف وہ اینٹی بائیوٹکس ملیں گی، جن کی ان کو ضرورت ہو گی۔ جب کہ دوا سازوں کو تجارتی اہداف پورا کرنے کے لیے قیمتی جدید اینٹی بائیوٹکس کی جارحانہ فروخت کے لیے غیر اخلاقی ہتھکنڈے استعمال نہیں کرنے پڑیں گے۔

کوویڈ۔ 19 کا عالمی سطح پر انتہائی خطرناک پھیلاؤ، ہمیں یہ باور کرا رہا ہے کہ متعدی بیماری کتنا نقصان پہنچا سکتی ہے۔ اسی طرح اینٹی بایوٹکس کے خلاف مزاحمت ایک زیادہ خطرناک عالمی وبا بن سکتی ہے۔ اس کے لیے ہمیں نئے اینٹی بائیوٹکس کی ضرورت ہے۔ جب تک ہم ایسے اینٹی بائیوٹکس کی نئی نسل کی دریافت کے لیے مطلوبہ ہنر اور سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لئے فعال طور پر ایک کار آمد مارکیٹ کا ڈیزائن نہیں بناتے، سپر بگز سے وبائی خطرہ ہمارے سروں پر منڈلاتا رہے گا۔

Latest posts by ڈاکٹر خالد محمود صادق (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •