کرونا وائرس کا شکار ہونے والے رہنما

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ ان عالمی رہنماؤں کی فہرست میں حالیہ اضافہ ہیں جو کرونا وائرس میں مبتلا ہوئے ہیں۔

صدر ٹرمپ کا کرونا ٹیسٹ دو اکتوبر کو مثبت آیا۔ ان کے ساتھ ان کی اہلیہ اور خاتون اول میلانیا ٹرمپ کا بھی کرونا ٹیسٹ پازیٹو نکلا تھا۔

صدر ٹرمپ کی عمر 74 سال ہے۔ ماہرین کے مطابق اس عمر کے افراد کے لیے کرونا سے متعلق پیچیدگیوں کے خطرات زیادہ ہوتے ہیں۔

اس سے پہلے دنیا کے جو رہنما اس وبا سے نبردآزما ہو چکے ہیں، انہوں نے صدر ٹرمپ کو جلد صحت یابی کی خواہشات کے پیغامات بھیجے ہیں۔

کرونا وائرس میں مبتلا ہونے اور اسے شکست دینے والے چند عالمی رہنماؤں کا ذیل میں ذکر کیا جا رہا ہے۔

برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن

برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن اس عالمی وبا سے متاثر ہونے والے دنیا کے پہلے نمایاں رہنما تھے۔ جنہیں اس حوالے سے تنقید کا سامنا رہا کہ انہوں نے اس مہلک وبا کو اہمیت نہیں دی تھی۔

بورس جانسن کو رواں سال اپریل میں انتہائی نگہداشت وارڈ میں اس وقت منتقل کرنا پڑا جب ان میں وبا کی علامات شدت اختیار کر گئی تھیں۔ جب کہ انہیں ایک دن قبل یہ کہتے ہوئے اسپتال داخل کرایا گیا تھا کہ ان کے معمول کے ٹیسٹ ہونے ہیں۔

برطانوی وزیر اعظم کو وینٹی لیٹر پر منتقل تو نہیں کیا گیا تھا، تاہم انہیں آکسیجن دینے کی ضرورت پڑی تھی۔

اس کے علاوہ پرنس چارلس کا بھی رواں سال مارچ میں کرونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا، لیکن خوش قسمتی سے ان کے اندر وبا کی علامتیں معمولی معمولی نوعیت کی تھیں۔

برازیل کے صدر جائر بولسونارو

لاطینی امریکہ کے ملک برازیل کے صدر جائر بولسونارو میں جولائی کے دوران کرونا وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق ہوئی تھی۔

صدر بولسونارو نے وائرس کی تشخیص کے بعد کھلے عام ’ہائیڈرو آکسو کلوروکین‘ کا استعمال کیا۔ جو بنیادی طور پر ملیریا کی دوا ہے اور کرونا وائرس کے لیے مصدقہ دوا نہیں۔ مگر برازیل کے صدر مسلسل یہ اصرار کرتے رہے کہ اس سے کرونا کا علاج ہو سکتا ہے۔

صدر بولسونارو کرونا کا کئی ماہ تک یہ کہتے ہوئے مذاق اڑاتے رہے کہ یہ ایک معمولی سا زکام ہے۔
وہ سماجی فاصلوں پر عمل درآمد سے بھی گریز کرتے نظر آئے۔

انہوں نے نہ صرف مظاہروں میں شرکت کی بلکہ وہ صدارتی رہائش گاہ سے باہر بنا ماسک پہننے نکل جایا کرتے تھے۔

ہنڈوراس کے صدرجوآن اورلینڈو برنینڈز

ہنڈوراس کے صدر جوآن اورلینڈو ہرنینڈز نے رواں سال جون میں اعلان کیا کہ انہیں کرونا وائرس لاحق ہو گیا ہے۔

ہرنینڈز نے بھی غیر مصدقہ اور ڈاکٹروں کے مشورے اور نسخے کے بغیر ادویات کا استعمال شروع کر دیا تھا۔ جن میں مائیکروڈیسن، ارتھرومائی سین، آئی ورمکٹین اور زنک کا مرکب شامل تھا۔

اسپتال سے نکلنے کے بعد ہرنینڈز کرونا ویکسین کی عام آدمی تک رسائی کے حامی بن گئے ہیں۔

انہوں نے اقوام متحدہ کے حالیہ اجلاس میں کہا کہ کیا اس وبا کے سبب لوگوں کو مرنے کے لیے چھوڑ دیا جائے؟

بیلاروس کے صدرالیگزینڈر لوکاشینکو

بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو نے، جنہوں نے کرونا وائرس سے متعلق خدشات کو ایک ذہنی مرض قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا تھا اور صحت مند رہنے کے لیے ’واڈکا‘ کے استعمال کی تجویز دی تھی۔

جولائی میں انہوں نے بتایا کہ وہ کرونا وائرس میں مبتلا ہو گئے ہیں، تاہم ان میں کسی طرح کی علامات موجود نہیں ہیں۔

بیلاروس دنیا کے ان چند ممالک میں سے ایک ہے جہاں کرونا کی روک تھام کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے۔

بیلارس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو نے کرونا وائرس سے متعلق خدشات کو ذہنی مرض کہتے ہوئے مسترد کر دیا تھا۔ (فائل فوٹو)

سابق سوویت ریاستوں میں جو دیگر رہنما کرونا وائرس سے متاثر ہوئے ان میں آرمینیا کے وزیر اعظم نکول پاشنیان اور روس کے وزیر اعظم میخائل میشوسٹن شامل ہیں۔

پرنس البرٹ ای آف موناکو

مغربی یورپ کے ملک موناکو کے محل نے رواں سال مارچ میں بتایا کہ بحیرہ روم میں واقع اس چھوٹی سی ریاست کے سربراہ پرنس البرٹ ای کا کرونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے۔ تاہم ان کی صحت کی صورت حال زیادہ پریشان کن نہیں ہے۔

وہ دنیا کے پہلے سربراہ مملکت تھے جنہوں نے خود کرونا وائرس سے متاثر ہونے کی تصدیق کی تھی۔

گوئٹے مالا کے صدرالجندرا گائماتی

گوئٹے مالا کے صدر الجندرا گائماتی نے ستمبر میں اعلان کیا کہ ان کا کرونا ٹیسٹ پازیٹو آیا ہے۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان کے اندر مرض کی علامات کی نوعیت بہت معمولی ہے۔
انہوں نے گھر سے کام کرنے کا اعلان کیا۔

بولیویا کی عبوری صدرجینین انیز

بولیویا کی عبوری صدر جینین انیز جولائی میں کرونا وائرس میں مبتلا ہونے کے بعد قرنطینہ میں چلی گئی تھیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ بہتر محسوس کر رہی ہیں۔

ڈومینین ری پبلک کے صدرجسٹن ابیندڈر

ڈومینین ری پبلک کے نو منتخب صدر جسٹن ابیندڈر بھی کرونا وائرس میں مبتلا رہنے کے بعد اب صحت یاب ہو چکے ہیں۔

انہیں وائرس اپنی انتخابی مہم کے دوران لگا تھا۔ جس کی وجہ سے انہیں اس سال جولائی میں ہونے والے انتخابات سے قبل کئی ہفتوں تک قرنطینہ میں رہنا پڑا تھا۔

گنی بساؤ کے وزیر اعظم نونو گومز نابیام

مغربی افریقہ کے ملک گنی بساؤ کے وزیر اعظم نونو گومز نابیام میں اس سال اپریل میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی۔

ان عالمی رہنماؤں کے علاوہ متعدد ممالک کے دیگر مقامی رہنما بھی اس عالمی وبا کے شکنجے میں آنے سے خود کو نہیں بچا سکے۔

ایران

مشرق وسطی میں ایران کرونا وائرس کا گڑھ بنا رہا ہے اور وہاں ابھی تک اس وبا کے پھیلاؤ پر قابو نہیں پایا جا سکا ہے۔ ایران کی حکمران جماعت کے متعدد چوٹی کے عہدیداروں کا کرونا ٹیسٹ پازیٹو آ چکا ہے۔

ایران کی نائب صدر معصومہ ابتکار میں بھی کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی۔ (فائل فوٹو)

ان عہدیداروں میں سینئر وائس پریذیڈنٹ اسحٰق جہانگیری اور نائب صدر معصومہ ابتکار شامل ہیں۔
کابینہ کے دیگر کئی اراکین بھی کرونا کی لپیٹ میں آ چکے ہیں۔

بھارت

بھارت کے 71 سالہ نائب صدر وینکیا نائیڈو میں حال ہی میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

تاہم ان کے دفتر کا کہنا ہے کہ ان میں کسی طرح کی علامات ظاہر نہیں ہوئیں۔ جب کہ وہ اپنے گھر پر قرنطینہ میں ہیں۔

اس کے علاوہ وزیر اعظم نریندر مودی کی کابینہ کے اہم رکن اور وزیر داخلہ امیت شاہ بھی وبا کی وجہ سے گزشتہ ماہ اسپتال میں داخل رہے۔ تاہم اب وہ صحت یاب ہو چکے ہیں۔

علاوہ ازیں جونیئر ریلوے وزیر سریش انگاڑی گزشتہ ہفتے کرونا وبا کی وجہ سے دنیا سے چل بسے تھے۔

اسرائیل

اسرائیل کے وزیر صحت یاکوف نوچ لٹز مین کا اپریل میں کرونا ٹیسٹ مثبت آیا تھا۔

ان کا تعلق اسرائیل کی انتہائی قدامت پسند کمیونٹی سے ہے۔ جس میں پہلے ہی وائرس سے متاثرہ افراد کی شرح بہت زیادہ ہے۔

اس کے علاوہ یروشلم سے متعلق امور کے وزیر رفی پیرٹز کا کرونا ٹیسٹ بھی پازیٹو آیا تھا۔

جنوبی افریقہ

جنوبی افریقہ کے وزیر دفاع نوزیووے ماپسیا نقاکولا، قدرتی وسائل اور توانائی کے وزیر گویڈے منتاشے اور افرادی قوت کے وزیر تلاس نکسیسی بھی جولائی میں اس وقت کرونا وائرس کا شکار ہوئے۔ جب وہاں جون اور جولائی کے مہینوں میں وائرس کا پھیلاؤ اپنے عروج پر تھا۔

بھارت دنیا بھر میں امریکہ کے بعد کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے۔ جہاں اس وبا سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے۔ (فائل فوٹو)

سوڈان

سوڈان کے نائب صدر ریک ماشر بھی کابینہ کے متعدد وزرا کے ساتھ وائرس کا شکار ہو چکے ہیں۔

گیمبیا

اس مہلک وائرس سے گیمبیا کے نائب صدر اساتو طورے بھی محفوظ نہ رہ سکے۔

ان کے علاوہ وزیر خزانہ، وزیر توانائی اور وزیر زراعت بھی عالمی وبا کی لپیٹ میں آنے والوں میں شامل ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 163 posts and counting.See all posts by voa