گھر میں مہمان

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

گھر میں مہمان آنے کی نوید کے بعد گھر میں جو افراتفری مچتی ہے، اس کا اندازہ چند اہل ذوق ہی لگا سکتے ہیں۔ بے وقوف اس سے مستثنیٰ ہیں۔ بے وقوف مہمان کی آمد کو بھی باقی معاملات کی طرح ہنسی میں اڑا کر، مست اور تندرست رہتے ہیں۔ میں نے کبھی کسی بے وقوف کو پریشانی اور ڈپریشن کا شکار دیکھا، نا ہی کوئی بے وقوف غمگین، اداس اور زندگی سے مایوس ہوتا ہے۔ حتٰی کہ خود کشی کرنے کا خیال بھی عقل مند ہی کو آتا ہے۔ خیر بات ہو رہی تھی، گھر میں مہمان آنے کی، ہم بھی کہاں بے وقوفوں کی وادی میں سیر کرنے کو نکل آئے۔

گھر میں ابھی مہمان نہیں آتا، صرف مہمان کے آنے کی خبر آتی ہے کہ گھر کی عورتیں صفائی کرم چاری کے جون میں آتی ہیں، بکھری چیزوں کو ترتیب سے رکھا جاتا ہے۔ چیزوں کا میل نکال کر انہیں صاف ستھرا اور چمکایا جاتا ہے، بچوں کو نہلا دھلا کر بیٹھنے کے لیے الگ کمرا دیا جاتا ہے، کھانے کی چیزوں کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ پھل اور میوہ جات کو نزاکت سے کاٹ کر رکھا جاتا ہے۔ دودھ کا انتظام کیا جاتا ہے۔ جوس کا اسٹاک وافر مقدار میں رکھا جاتا ہے۔ روٹی، شکر، کھٹی اور میٹھی چیزوں کے ذخیرے پہ نظر ڈالی جاتی ہے۔ غرض سارے بست و کشاد کو نظر غائر سے دیکھا جاتا ہے۔

یہ انتظام و انصرام تب کیے جاتے ہیں، جب کسی خاص مہمان کے آنے کی خبر آئی ہو۔ مہمان کی نوعیت پہ منحصر ہے کہ انتظامات کو کہاں تک درست رکھا جائے۔ مہمان اور مہمان میں بھی امتیاز اور تفاوت برتا جاتا ہے۔ اس بنا پہ نہیں کہ مہمان موٹا ہے یا پتلا، لمبا ہے یا ٹھنگنا، بچہ ہے یا بوڑھا، عورت ہے یا مرد، بلکہ اس بنا پر امتیاز ہوتا ہے کہ مہمان سے رشتہ کس نوعیت کا ہے۔ بردار نسبتی یا بردار زن آ جائے تو ہنگامی بنیادوں پر انتظامات کا معیار بلند رکھا جاتا ہے۔

کوئی عام مہمان وارد ہو تو اتنی پروا نہیں کی جاتی۔ کوئی مہمان ایسا بھی ہوتا ہے، جس کی شکل دیکھ کر چہرہ متحیر ہوتا ہے۔ پریشانی کے آثار اور ماتھے پہ شکن دن کے اجالے میں صاف دکھائی دیتی ہے۔ ایسے مہمان کو بھی بادل نا خواستہ چائے وغیرہ دی جاتی ہے۔ جس گھر میں بالغ لڑکا لڑکی شادی کی عمر کو پہنچ گئے ہوں اور ان کے رشتے آنے لگے ہوں، اس گھر میں مہمان کی آمد پہ جو گہما گہمی اور چہ مگوئیاں ہو رہی ہوتی ہیں اور جس طرح لڑکے یا لڑکی کا بلڈ پریشر پہاڑی ندی کی طرح رکنے کا نام نہیں لیتا، اس کیفیت کا اندازہ وہی لگا سکتے ہیں، جو گھوڑی چڑھے ہوں۔ کنوارے ابھی سہانے خوابوں میں ہیں اور ان فکروں سے آزاد ہی ہیں۔

ایسے بھی مہمان آتے ہیں، جن کو دیکھ کر دل باغ باغ ہو جاتا ہے۔ چہرے پر رونق آتی ہے۔ دل میں مسرت اور ولولہ انگیز جذبات امڈ آتے ہیں۔ رنجوری دور ہوتی ہے اور شادمانی کا چہرہ دیکھنا نصیب ہوتا ہے۔

بعض شوق مزاجوں کو اپنے مہمان اتنے اچھے نہیں لگتے، جتنے پڑوس میں آنی والیوں کی آمد کی خبر خوش کن لگتی ہے۔ وہ سج دھج کر اس انتظار میں بیٹھے ہوتے ہیں کہ کب پڑوس کا دروازہ کھلنے کی آواز آئے، وہ کھڑکی پہ اپنی نشست کا انتظام کرتے ہیں اور نظریں ہمسائیوں کے آنگن پہ ٹکی ہوتی ہیں۔ پڑوس میں مہمانوں کی آمد کے بعد وہ حد سے زیادہ شریف، ملن سار، شائستہ، خاندانی اور اصل النسل لگنے لگتے ہیں۔ پڑوس کے جس گھر میں مہمان آتے ہیں، اسی دن اس گھر میں انہیں کوئی نہ کوئی کام ضرور کھینچ لاتا ہے۔ اس گلی میں گشت کرنا ان کا واحد کام ہوتا ہے۔

گھر میں مہمان آنے کی سب سے زیادہ خوشی، بچوں کو ہوتی ہے۔ ان کو تو وہ دن عید کا لگتا ہے جس دن کوئی مہمان وارد ہوتا ہے اور واقعی ان کو عیدی بھی ملتی ہے بشرطیکہ مہمان دل کا کشادہ ہو۔ مہمان کو اللہ کی رحمت اور بھگوان کا روپ مانا جاتا ہے اور واقعی کچھ مہمان رحمتوں کا سایہ ساتھ لاتے ہیں۔ گھر میں جس دن ان کی آمد ہوتی ہے، اسی دن اس گھر پر ضرور اللہ کی رحمتیں برستی ہیں۔ بعض مہمان اپنے ساتھ نحوست لاتے ہیں۔ ان کی جب آمد ہوتی ہے تو گھر میں لڑائی جھگڑے، فتنہ فساد اور نفاق کی صورت پیدا ہوتی ہے۔ ایسے مہمانوں کی نحوست سے گھر محفوظ ہی رہنا چاہیے۔

دوست کی آمد سے دل خوش اور گھر والے ناراض ہوتے ہیں۔ ان کی آمد سے گھر میں ہنگامہ رہتا ہے۔ چہل پہل اور ہنسی مذاق کا دور چلتا ہے۔ شور و غل اور چھیڑ چھاڑ سے ماحول پر مزاح بنتا ہے۔ ترتیب بے ترتیبی میں بدل جاتی ہے، چیزوں کا بکھراؤ بڑھ جاتا ہے۔ چارجر، کھانے پینے کی اشیا، کپڑے کمرے میں ادھر ادھر بکھرے پڑے ہوتے ہیں۔ نہ صفائی کا دھیان رکھا جاتا ہے اور نا ہی تکلف کی پروا۔ ہنسی مذاق، چائے، لطیفے، پری رخوں کا ذکر اور محبوباؤں کی فکر پہ زور ہوتا ہے۔ بھلے ہی معتبر، اچھے، برے، دوست، دشمن کوئی بھی مہمان کی صورت، گھر آئے، رحمت ہوتا ہے۔ مہمان کوئی بھی ہو، ان کی آمد سے گھر کی رونق بڑھ جاتی ہے اور یہ رونق برقرار رہنے کے لیے مہمان آنے چاہئیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •