ریل گاڑی اور زندگی کا سفر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ساری دنیا میں ہمیشہ سے ریل گاڑی، باعث کشش رہی ہے اور اس کی رفتار کے متعلق لوگوں کی دیوانگی بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ جوں جوں وقت گزرتا ہے، زیست کا پہیہ تیز سے تیز تر ہوتا جا رہا ہے۔ بالکل اس طرح جیسے پہلے ریل گاڑی کو چلانے کے لئے کوئلہ درکار تھا، پھر رفتہ رفتہ انسانی ایجادات نے کوئلے کے قدرے سست روی سے چلنے والے انجن کو Bullet trains کے انجن سے بدل ڈالا۔ بنی آدم کے غاروں سے کنکریٹ بلڈنگ تک اور پتھروں سے بنے آلات سے فولادی مشینری تک اور اس سے بھی کہیں آگے کے سفر نے لائف اسٹائل کو اس قدر بدل دیا ہے کہ آدمی اور چلتی پھرتی، بھاگتی دوڑتی مشین میں فرق کر سکنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ایسے میں جیون کا حسن کہیں کھو سا گیا ہے۔

کچھ عرصہ پہلے، مجھے ریل گاڑی میں سفر کرنے کا موقع ملا، تو اندازہ ہوا، حیات کس قدر خوبصورت ہے۔ اپنی زندگی کی الجھنوں سے نکل کر اس سفر سے لطف اندوز ہوتے معلوم ہوا کہ ریل۔ گاڑی اور جیون کا سفر کس قدر مماثلت رکھتا ہے۔ ایک تکلیف دہ اور حسین عمل سے گزرتے، ایک عورت سے جب ایک اور ہستی نمو پاتی ہے، بالکل اسی طرح ریل گاڑی اپنے چیختے چنگھاڑتے ہارن کی آواز سے سوئی، جاگی کیفیت میں جاتے مسافروں کو جینے کی نوید سنا دیتی ہے۔ جوں دنیا میں آیا بچہ پہلی بار رو کر اپنے ہونے کا اعلان کرتا، خوشیاں بکھیر جاتا ہے۔

جیون اور گاڑی کا سفر کہ دونوں اپنی اپنی منزل مقرر کیے، اپنی اپنی ڈگر پر چل پڑتے ہیں، اور اپنے پیچھے کچھ ہلکے کچھ گہرے دھوئیں کے بادل اور یادوں کے نقوش چھوڑے جاتے ہیں۔ ہاں! مگر یادوں کے نقوش قدرے گہرے ہوتے ہیں۔ اچھے اور برے سے بالا تر، بس گہرے۔

گاڑی مختلف بل کھاتے اونچے نیچے راستوں سے جوں جوں گزرتی، مسافروں کو ان کی منزلوں پہ پہنچاتی، نئے آنے والے مسافروں کو ساتھ لیے، اپنی ڈگر سے نہیں ہٹتی، ویسے انسان اپنی زندگی میں آنے والے مسائل سے نمٹتے، پرانے روابط بھلاتے، نئے رشتے بناتے، آنے والی ہر تکلیف کا سامنا کرتا، اپنی ہی ڈگر پر چلا جاتا ہے اور اپنے مقاصد حیات پاتا چلا جاتا ہے۔ گاڑی اور زندگی کبھی کبھار کسی حادثے کا شکار ہو کے اپنی ڈگر سے ہٹتے ہیں، تو ان کے ڈرائیور پہ منحصر ہوتا ہے کہ کم یا زیادہ کتنے نقصان کے بعد، اپنی پٹڑی پہ پر آتا ہے، یا جیون گاڑی کو ہنگام کے رحم و کرم پر چھوڑ دیتا ہے۔

وقت گزرنے کے ساتھ، گاڑی اور سفر حیات اپنے اختتامی منزل پر پہنچتے ہیں۔ گاڑی، اپنے آخری اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر رکتی، مسافروں کو ان کی منزل کا نشان دیتی ہے۔ آخری اسٹیشن پہ انجن ایک دل خراش سیٹی، جیسے کہ موت کی آخری ہچکی، کے ساتھ اختتام پذیر ہوتا ہے۔ موت کا اسٹیشن بانہیں پھیلائے زندگی کے مسافر کو اپنی بانہوں میں لے لیتا ہے۔ پیچھے رہ جانے والے پیارے، ورطۂ حیرت میں پڑے، تاسف و ملال کی تصویر بنے دکھائی دیتے ہیں۔ ان غم زدوں میں کچھ وہ بھی ہوتے ہیں، جنہوں نے جانے والے مسافر کو اس کی حیات میں چاہے محسوس کیا ہو یا نہ کیا ہو، انھیں اس کی موت کے بعد اس کی کمی کا احساس ہوتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •