ساری دنیا میں ہمیشہ سے ریل گاڑی، باعث کشش رہی ہے اور اس کی رفتار کے متعلق لوگوں کی دیوانگی بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ جوں جوں وقت گزرتا ہے، زیست کا پہیہ تیز سے تیز تر ہوتا جا رہا ہے۔ بالکل اس طرح جیسے پہلے ریل گاڑی کو چلانے کے لئے کوئلہ درکار تھا، پھر رفتہ رفتہ انسانی ایجادات نے کوئلے کے قدرے سست روی سے چلنے والے انجن کو Bullet train کے انجن سے بدل ڈالا۔ بنی آدم کے غاروں سے کنکریٹ بلڈنگ تک اور پتھروں سے بنے آلات سے فولادی مشینری تک اور اس سے بھی کہیں آگے کے سفر نے لائف اسٹائل کو اس قدر بدل دیا ہے کہ آدمی اور چلتی پھرتی، بھاگتی دوڑتی مشین میں فرق کر سکنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ایسے میں جیون کا حسن کہیں کھو سا گیا ہے۔
کچھ عرصہ پہلے، مجھے ریل گاڑی میں سفر کرنے کا موقع ملا، تو اندازہ ہوا، حیات کس قدر خوبصورت ہے۔ اپنی زندگی کی الجھنوں سے نکل کر اس سفر سے لطف اندوز ہوتے معلوم ہوا کہ ریل۔ گاڑی اور جیون کا سفر کس قدر مماثلت رکھتا ہے۔ ایک تکلیف دہ اور حسین عمل سے گزرتے، ایک عورت سے جب ایک اور ہستی نمو پاتی ہے، بالکل اسی طرح ریل گاڑی اپنے چیختے چنگھاڑتے ہارن کی آواز سے سوئی، جاگی کیفیت میں جاتے مسافروں کو جینے کی نوید سنا دیتی ہے۔ جوں دنیا میں آیا بچہ پہلی بار رو کر اپنے ہونے کا اعلان کرتا، خوشیاں بکھیر جاتا ہے۔
Read more