آپ اپنے ہی دام میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”برخوردار کبھی ہمیں بھی وقت دے دیا کرو!“

”ارے میرے پیارے دادا جی، ہمارا سارا وقت صرف آپ کے لئے ہی تو ہے۔“ ثاقب جو بیڈ پر نیم دراز موبائل فون پہ چیٹنگ میں مصروف تھا، ایک دم ہی دادا جی کے دھاوا بولنے پر اچھل کر کھڑا ہوا۔ پھر شرارتی انداز میں آنکھ مارتے ہوئے (جلال الدین صاحب یعنی) اپنے ”پیارے دادا جی“ کو جواب دیا، جنہوں نے اس وقت واقعی جلالی انداز میں ثاقب کے لتے لینے شروع کر دیے تھے۔

”لاحول ولا قوۃ۔ اب یہ چھچھورے انداز، تم ہمیں بھی دکھاؤ گے؟“ دادا جی مزید غضب ناک ہو کر بولے، تو ثاقب دروازے سے ان کا ہاتھ پکڑ کر اندر لایا۔ پھر بیڈ پر بٹھا کر، لاڈ سے ان کے کندھے پر سر ٹکا کر، گانا گانے لگا۔

”ناراض کیوں ہو ہم سے، کس بات پہ ہو روٹھے۔“

ثاقب کی اس حرکت پر دادا جی نے اپنے چہرے پر آنے والی بے ساختہ مسکراہٹ کو روکا، لیکن اپنی وہی گرج دار آواز میں ڈانٹنے لگے، ”شاباش ہے بیٹے، اب یوں مراسیوں کی طرح لہک لہک کر ہمیں مناؤ گے! بس یہی سب کچھ سیکھ رہے ہو نا تم اس شیطانی چرخے سے۔ جب دیکھو تب تم لوگوں کے ہاتھوں میں نظر آتا ہے۔ کانوں میں ٹونٹیاں گھسی رہیں گی اور ہاتھوں سے ٹک ٹک ٹک ہوتی رہے گی۔ یہ نہیں کہ دو گھڑی ہمارے پاس بھی بیٹھ جاؤ، لیکن نہیں میاں، بوڑھے دادا دادی کو کون وقت دے۔ جب تک تمہیں نہیں دلوایا تھا کم از کم تمھاری شکل دیکھنا تو نصیب ہو جاتی تھی، مگر اب تو برخوردار لگتا یہ ہے کہ مایوں ہی بیٹھ گئے ہیں۔“

شرافت سے ڈانٹ سنتے ثاقب نے آخری جملے پر تڑپ کے دادا جی کے کندھے سے سر اٹھایا۔ غصہ میں اکثر دادا جی کی اصطلاحات کچھ عجیب و غریب قسم کی ہو جاتی تھیں اور ثاقب انہی اصطلاحات پر جز بز ہو جاتا تھا۔

”ہاں میاں میں تو بھول ہی گیا تھا کہ مایوں تو لڑکیاں ہی بیٹھتی ہیں اور یوں بھی یہ ہندوانہ رسم ہے۔ تم تو پکے مسلمان ہو۔ ما شا اللہ، صوم و صلوٰۃ کے پابند ہو اور نوافل کی ادائیگی میں مصروف رہتے ہو، یا پھر نفلی اعتکاف میں بیٹھ جاتے ہو، جبھی ہمیں وقت نہیں دے پاتے۔“

دادا جی بھی آخر ثاقب کے دادا جی تھے۔ سر دھنتے ہوئے تائیدی انداز میں پوتے کا تمسخر اڑانے لگے۔ پوتا جتنا بھی لاڈلا اور بے تکلف سہی، لیکن گستاخی اور بے ادبی کی اجازت وہ کسی کو نہیں دیتے تھے۔ اور ویسے بھی اس وقت ان کا پارہ بہت ہائی تھا۔ پھر دادا جی بھنویں چڑھا کر دھمکاتے ہوئے بولے، ”آ لینے دو آج تمہارے ابا کو، کرواتے ہیں تمہاری مرمت، اور ساتھ ہی ساتھ تمہارے ’موبیل‘ کا بھی بندوبست کرتے ہیں۔ ہمارے ہی حکم پر لے کر آیا تھا، بچہ ہمارا، غضب خدا کا۔ ہمیں کیا پتا تھا کہ ہم اپنی سوتن گھر لا رہے ہیں۔“

ثاقب جو شرافت کے جامے میں آ چکا تھا، ”سوتن“ پر قہقہہ لا کر ہنس پڑا۔ ان کی دھمکی کا الٹا ہی اثر ہوا تھا، ثاقب پر۔ ”اچھا غصہ تو چھوڑیں دادا جی، یہ بتائیں آپ میں کہیں جلال الدین بادشاہ کی روح تو حلول نہیں ہو گئی تھی؟“ جواب دینے کے بجائے دادا جی نے صرف گھورنے ہی پر اکتفا کیا۔

”ہاں نا دیکھیں آپ کا انداز گفتگو بالکل شہنشاہوں والا ہے۔ رشتے میں تو ہم تمہارے دادا لگتے ہیں، نام ہے شہنشاہ جلال الدین اکبر۔“ بڑے اسٹائل سے انڈین فلم سٹار کی نقل اتاری۔

دادا جی کی خاموشی کو غنیمت جان کے ثاقب اپنی جون میں واپس آنے لگا۔ جانتا تھا کے گرج چمک کے بعد، اب مطلع صاف ہونے والا ہے۔ غصے کے بادل آہستہ آہستہ چھٹ رہے ہیں۔ ویسے بھی وہ زیادہ دیر غصہ نہیں رہتے تھے۔ دادا جی کا غصہ تھوڑی ہی دیر کا ہوتا تھا، لیکن ہوتا بہت شدید تھا۔ کسی کی مجال نہیں ہوتی تھی کہ ان کے جلالی موڈ میں ان کا سامنا کر سکے۔ حتی کہ ان کی عزیز از جان رفیقہ حیات بھی کسی کونے میں چھپ کر ”جل تو جلال تو، آئی بلا کو ٹال تو“ کا ورد کرنے لگ جاتیں تھیں۔ مگر ثاقب اور علینہ کو یہ شرف حاصل تھا کہ نا صرف وہ دادا جی کے رو برو ہو کر ڈانٹ سنتے تھے، بلکہ ان کو اپنی باتوں میں لگا کر ان کا موڈ بھی خوش گوار کر دیتے تھے۔ اور اب بھی ثاقب کے مسخرے پن نے دادا جی کو مسکرانے پر مجبور کر دیا تھا۔

موسم کے تیور بحال دیکھ کر وہ اسمارٹ فون اور انٹرنیٹ کے فوائد گنوانے کے لئے پر جوش ہو گیا۔ یہی موقع تھا، دادا جی کو قائل کرنے کا۔ جھٹ ان کے برابر میں سے اٹھ کر نیچے، ان کے قدموں میں بیٹھ گیا اور ان کے گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر خوشامدی لہجے میں کہنے لگا، ”آپ کو پتا ہے دادا جی، کتنے فائدے ہیں اسمارٹ فون کے؟ کال اور میسج پر تو آپ بات کر ہی سکتے ہیں، اس کے علاوہ وڈیو کال اور وائس میسج بھی کر سکتے ہیں۔ اب دیکھیں امینہ اور روبینہ پھوپھو سے بھی کتنی آسانی سے بات ہو جاتی ہے۔ آپ بھی تو خوش ہو جاتے ہیں، اپنی اولادوں کو دیکھ کر، ان کی تصویر جو نظر آتی ہے بات کرتے ہوئے۔ ورنہ وہ دونوں اور ہمارے سب کزنز بھی اتنے دور ہیں، ہم سے کہ ہم ان کی شکلیں ہی بھول جائیں۔ محبتیں قائم رہتی ہیں اس کی وجہ سے۔“

”صاحب زادے، محبتیں نہ کہو، ہاں استغفار کا تسلسل ضرور قائم رہتا ہے۔ تم لوگوں کی آڑی ترچھی جانوروں والی شکلیں دیکھ کر۔“ دادا جی نے ٹکڑا لگایا۔

”اچھا نا سنیں تو۔“ ثاقب جھنجھلایا تو دادا جی نے خاموش ہو کر گرین سگنل دیا، لیکن تاثرات مضحکہ خیز ہی تھے۔ کچھ ایسے ہی جیسے بچپن میں وہ اس کی بے سر و پا باتوں کو ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیتے تھے۔ کم فہم بچے کی بات کا کیا برا ماننا۔ مگر وہ بھی انہی کا پوتا تھا، آج تو ٹھان لی تھی کہ جب یہ موضوع چھڑا ہے تو دادا جی کو راضی کر کے ہی رہے گا کہ وہ بھی اسمارٹ فون لے لیں۔

سو نظر انداز کر کے بولا ”آپ کو ٹی وی پر بھی خبریں دیکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ سب اس پر آ جاتیں ہیں اور بقول آپ کے، اب تو ٹک ٹک کی بھی آواز نہیں ہوتی۔ پھر واٹس ایپ پر لوگ ایک دوسرے کو معلوماتی وڈیوز بھیجتے رہتے ہیں۔ بہت سارے نئے دوست بھی بن جاتے ہیں فیس بک پر۔ اور تو اور اپنے بہت سارے مسئلوں کا حل بھی ڈھونڈ سکتے ہیں۔ یوں سمجھیں کہ ایک پنتھ سو کاج ہیں۔“

”ہم باز آئے اتنے کا جوں سے بیٹا۔ اتنے کاج ہوں گے کرتے میں تو کرتا نہیں رہے گا، چھلنی بن جائے گا۔“ دادا جی نے ہاتھ اٹھا کر ثاقب کی لن ترانیوں کو روکا اور ثاقب جو حسب احوال محاورہ بنانے پر خود کو داد دینے ہی والا تھا، اصطلاح سن کر اپنے ارادے کو تھوڑا موقوف کرنا پڑا۔

”دادا جی پلیز نا، مان جائیں نا۔ آپ کو بھی اپنے فارغ وقت کے لئے ایک ساتھی مل جائے گا، بوریت بھی ختم ہو جائے گی اور ہماری بھی شامت کم آیا کرے گی۔“

آخری جملہ قدرے آہستہ آواز میں بولنے کے باوجود دادا جی کی تیز سماعتوں تک رسائی حاصل کر گیا۔ ”یوں کہو نا میاں کہ تمہیں ہماری نہیں اپنی فکر ہے۔“ دادا جی عورتوں کی طرح تنک کر بولے۔

”نہیں نہیں میں تو بس مذاق کر رہا تھا۔“ ثاقب نے بوکھلا کر جلدی سے وضاحت دی، مبادا ساری محنت ضائع ہو جائے۔ ”میری یہ مجال کہ آپ کو کچھ کہوں؟ آپ خود ہی تو سمجھاتے ہیں کہ وقت کے ساتھ چلنا چاہیے۔ یاد ہے یہی بات کہہ کر آپ نے ابو کو راضی کیا تھا، مجھے اسمارٹ فون دلوانے کے لئے، تو پھر آپ خود بھی لے لینا۔“

”برخوردار! تم یہ بھول رہے ہو، تم نے یہ وعدہ کیا تھا کہ اے لیول میں بہت اچھے نمبروں سے پاس ہو گے اور آئی بی ایم یونیورسٹی میں داخلہ بھی لے کر دکھاؤ گے۔ جب تم نے وعدہ وفا کیا، پھر ہی ہم نے تمہارے ابو سے بات کی تھی۔ کچھ تمہاری رونی صورت پہ رحم آ گیا تھا اور پھر ہمیں بھی اپنے وعدے کا پاس رکھنا تھا۔ ہمیں کیا پتا تھا کے فساد کی جڑ کو گھر میں لا رہے ہیں۔“ دادا جی اسے ٹوکتے ہوئے بولے تو وہ تائیدی انداز میں سر ہلانے لگا۔ اس وقت اعتراض یا جرح کرنا اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف تھا۔

”یہی فساد کی جڑ، جب آپ کے پاس آ جائے گی نا تو آپ کو پتا چلے گا، کتنی کارآمد چیز ہے۔ پلیز نا۔ ویسے ہی میرے سب دوست مجھے رشک و حسد سے دیکھتے ہیں۔ میرے دادا جی جیسے دادا جی تو کسی کے نہیں ہیں۔ اب آپ کے پاس جب اسمارٹ فون آ جائے گا تو سب کے چودہ طبق روشن ہوجائیں گے۔ اتنے اپ ٹو ڈیٹ دادا جی تو کسی کے بھی نہیں ہیں۔ اور پھر میں جہاں جاؤں گا آپ وہاں بھی مجھے دیکھ سکیں گے۔ میری تمام حرکتیں بھی معلوم ہوتے رہیں گی۔ دیکھ لیں کسی کا پوتا ہو گا اتنا شریف اور چاہنے والا لیکن آپ پھر بھی نہیں مان رہے۔“

ثاقب کی عجیب و غریب توجیہات اور دلائل پر دادا جی مسکرائے، شفقت سے اس کے سر پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے کہنے لگے، ”یہ تو سچ ہے کہ میرے پوتا پوتی مجھے بہت چاہتے ہیں۔ چلو ٹھیک ہے مان لیں گے تمہاری یہ بات بھی۔ پہلے کبھی کوئی بات ٹالی ہے تم دونوں کی؟ اصل سے سود پیارا ہوتا ہے نا اور اسی بات کا نا جائز فائدہ بھی اٹھاتے ہو، تم لوگ۔ پہلے تمہارے ابا نے اپنے اکلوتے بیٹے ہونے کا فائدہ اٹھایا اور اب اس کی اولاد اٹھا رہی ہے۔“

”ٹچ ٹچ ٹچ۔ دادا جی مجھے نہیں لگتا تھا کی آپ کی سوچ بھی ایسی ہو گی۔ بیٹا اور بیٹی میں تفریق کرنے والی۔ بیٹیوں کی جبھی امریکا میں شادی کی ہے، آپ نے، اچھا ہے دور رہیں۔ کبھی کبھی ملاقات ہو وہ ہی صحیح ہے۔“

دادا کی بات بیچ میں سے ہی اچک کر ثاقب ملامت بھری آواز میں بولا اور چہرے پہ مصنوعی درد اور آنکھوں میں شرارت جھلک رہی تھی۔

”بدمعاش کہیں کا۔“ دادا جی نے ایک زوردار دھپ اس کی کمر پر رسید کی۔ ثاقب بلبلا کے پیچھے سے کمر سہلانے لگا۔ اس عمر میں بھی صحت قابل رشک تھی ماشاءاللہ سے دادا جی کی۔

”صاحب زادے آپ کی اس گستاخی کے نتیجے میں ہم اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرنے پہ مجبور ہو گئے ہیں۔“ دادا جی نے بھی پینترا بدلا۔ ترپ کا پتا تو انہی کے ہاتھ میں تھا اور وہ جانتے تھے کہ ثاقب اس وقت اپنی بات منوانے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے اسی لئے دادا جی بھی اس کو تنگ کر کے مزے لے رہے تھے۔

”اچھا اچھا سوری۔ آپ بھی فوراً ہی ناراض ہو جاتے ہیں۔“ ثاقب نے شوخی چھوڑ کر جھٹ مصالحتی انداز اپنایا۔

”برخوردار کیا یاد کرو گے تم بھی؟ کس سخی اور درد مند انسان سے واسطہ پڑا ہے تمہارا۔ دل خوش کر ہی دیں گے تمہارا۔ اب تو ہم بھی متجسس ہو گئے کہ آخر کیا توپ چیز ہے جس نے عامل بابا بنگالی سے زیادہ جلدی محبوب کو ہمارے قدموں میں ڈھیر کر دیا۔“ دادا جی نے ثاقب کی سات پشتوں پر احسان کرتے ہوئے شان بے نیازی سے کہا۔

”بہت بہت شکریہ، عالی جاہ۔“ ثاقب نے عاجزی سے سر خم کرتے ہوئے کہا اور دادا جی کے قہقہے کے ساتھ ثاقب کی ہنسی بھی شامل ہو گئی تھی۔

”یہ دادا پوتے کے آخر کون سے ایسے راز و نیاز ہیں جو ختم ہی نہیں ہوکے دے رہے ہیں؟“ ان دونوں کا قہقہے، دادی جی کی زوردار آواز سے تھمے۔

”اے لو میاں! ہم تو بھول ہی گئے تھے کہ تمہاری دادی چائے کے لئے ہمارے انتظار میں ہوں گی۔ اور اب تک تو ان کا غصہ بھی سوا نیزے پہ پہنچنے والا ہو گا۔ یہ بازی تو جیت لی تم نے اب اگلے محاذ کے لئے کمر کس لو۔ ہم تو بیٹا تمہارا نام لے کر سائیڈ پر ہو جائیں گے۔“ دادا جان نے شرارتی انداز میں ثاقب کی کمر تھپتھپائی۔

”دادا جی یہ فاؤل ہے۔ آپ ہمیشہ یہی کرتے ہیں میرے ساتھ۔“ ثاقب نے احتجاج کیا۔
”ہاں صاحب زادے، تو اب بھی آپ ہی کمانڈنگ افسر کا سامنا کریں گے۔“
اور ثاقب متوقع گولا باری کا سوچ کر سر پہ ہاتھ پھیر کر رہ گیا۔

”ثاقب۔ ارے میاں ثاقب! کہاں غائب ہو؟ ارے علینہ بیٹی یہ ثاقب کہاں ہے؟ اسے بلانا ذرا۔ کام ہے مجھے اس سے۔“

دادا جی اپنے کمرے میں سے ثاقب کو آوازیں دیتے ہوئے باہر نکلے۔ سامنے ہی اپنے یونی فارم پر استری کرتی علینہ پر نظر پڑی تو اس سے ہی استفسار کرنے لگے۔

”دادا جی وہ تو باہر گیا ہے۔ تھوڑی دیر میں واپس آئے گا، کوئی کام تھا تو مجھے بتا دیں۔“

”بیٹا بس یہ اپنے دوستوں کے نمبر ڈلوانے تھے فون میں۔ کیا کریں اب ہم؟ ہمیں تحفہ تو دے دیا مگر اس کم بخت کو چلانے کے لئے ساتھ میں ایک نوکر بھی دے دیتے۔ ہمارے تو سمجھ سے باہر کی چیز ہے یہ۔ اب ہمیں بات کرنی ہے صلاح الدین سے کس طرح کریں؟ اس میں نمبر بھی نہیں ہیں اور نہ ہمیں اس میں ڈالنا آتا ہے۔“ دادا جی نے جھلاتے ہوئے ہاتھ میں پکڑا موبائل نچایا۔

علینہ اپنی مسکراہٹ چھپاتے ہوئے ان کی طرف بڑھی ”دادا جی بس دو منٹ کا کام رہ گیا ہے میرا۔ آپ بیٹھیں میں یہ کام کرلوں پھر آپ کے نمبر سیو کردوں گی اور آپ کو استعمال کرنے کا تھوڑا بہت طریقہ بھی بتا دوں گی۔“

”بتاؤ کیا وقت آ گیا ہے ہم پہ، کل کے بچے اب ہمیں سکھا رہے ہیں۔ ہم لاؤنج میں جا رہے ہیں وہیں پہ آجانا۔“ خفگی سے اظہار خیال کرتے ہوئے ساتھ ہی اسے بھی ہدایت دے کر چلے گئے۔

”لیں اب دیکھ لیں میں نے سب نمبر ڈال دیے اس میں۔“ علینہ نے موبائل ان کی طرف بڑھایا۔

”اچھا۔ اور وہ جو ثاقب نام لیتا رہتا ہے جس پہ تمہاری پھپھیوں سے بھی بات ہو جاتی ہے“ واٹس اپ وغیرہ۔ وہ سب بھی ڈال دیا اس میں؟ ”

علینہ صوفے پہ ان کے بالکل برابر میں بیٹھ کر موبائل میں نمبر وغیرہ ڈال رہی تھی حالاں کہ وہ اتنی دیر سے اچک اچک کر کارروائی دیکھ رہے تھے مگر پھر بھی بظاہر بڑے سرسری انداز میں اس سے پوچھا۔ علینہ کے ہونٹوں پہ بے اختیار مسکراہٹ رینگ گئی تھی۔ ساتھ ہی اس نے موقع سے فائدہ اٹھانے کا سوچا۔ ”نہیں دادا جی لائیں وہ سب بھی انسٹال کر دیتی ہوں۔“ علینہ نے دوبارہ ان کے ہاتھ سے موبائل لیا اور پھر سب ضروری ایپ انسٹال کر کے فیس بک پر ان کا اکاؤنٹ بھی بنا دیا۔ اور ساتھ ہی انہیں فیس بک پہ پوسٹ لگانے اور دوستوں کو ریکویسٹ بھیجنے کے طریقے بھی سمجھانے لگی۔

”اوہو بھئی یہ تو بہت آسان ہے۔ لو خواہ مخواہ اس کو ہم نے ہوا سمجھ لیا تھا۔ اب ہم سب کچھ آپ ہی کر لیں گے۔“

اپنی ناک بھی تو اونچی رکھنی ہے نا آخر دادا جی کو۔ بچی سے سیکھنے میں اپنی انا نے تھوڑا پیچ و تاب بھی کھایا جبھی جھینپ مٹانے کے لئے تیزی سے بولے۔

”اچھی بات ہے دادا جی مجھے کچن میں کام کروانا تھا۔ امی نے کہا تھا استری کر کے آجانا کچن میں۔“ علینہ نے جواب دیا اور کچن میں جانے کے لئے اٹھ گئی۔

”علینہ۔ علینہ کی بچی۔“ ثاقب چیخ چیخ کے پورے گھر میں علینہ کو تلاش کر رہا تھا جو مزے سے ہینڈز فری لگا کر لاؤنج میں صوفے پہ نیم دراز سینڈوچ سے انصاف کرنے میں مصروف تھی۔ ثاقب نے اس کے سر پہ پہنچ کر کھڑے کھڑے ہی آگے بڑھ کر ہینڈز فری کی تار کھینچی۔

”کیا مصیبت ہے؟ ہر وقت جنگلی بنے رہتے ہو۔ انسانوں کی طرح پیش نہیں آسکتے؟ پہلے بھی تم نے ہی میری ہینڈز فری خراب کی تھی۔“ تار کھینچے جانے پر علینہ نے بھی پھاڑ کھانے والے انداز میں جواب دیا۔

”پہلے میری بات کا جواب دو۔ دادا جی کی فیس بک کی پروفائل تم نے بنائی تھی؟“ ثاقب نے علینہ کے ہاتھ سے بچا ہوا سینڈوچ جھپٹ کر اپنے منہ میں ڈالا اور پھر کمر پہ ہاتھ ٹکا کر خاص لڑاکا عورتوں کی طرح باز پرس کرنے لگا۔

”ہاں بنائی تھی تو۔ کیا کرلو گے“ ؟ علینہ نے بھی دو بدو جواب دیا۔

”تمہیں تو میں ابھی بتاتا ہوں۔“ ثاقب اس کا موبائل اور ہینڈز فری جھپٹنے کے لئے آگے بڑھا تو پہلے سے ہی ہوشیار علینہ گردن جھکا کے نیچے سے نکل کر انگوٹھا دکھاتے ہوئے باہر بھاگی۔

”امی۔ امی یہ ثاقب کو دیکھیں مجھے مار رہا ہے۔“ علینہ بھاگتی ہوئی امی کے پاس تخت پہ جا کر دھپ سے بیٹھی جس سے تخت پر رکھی ہوئی سبزی کی ٹوکری تو اتنا نہیں اچھلی، جتنا پاس بیٹھی دادی بی اچھل گئیں تھیں۔ پھر پھولی ہوئی سانسوں کے ساتھ ایک کی چار لگانی شروع کر دیں۔

”ہائے ہائے۔ یہ لڑکی ہے یا آفت؟ ساری سبزی گرا دی لے کے اور اوپر سے اتنی زور سے چیختی ہوئی آ رہی تھی میرا تو کلیجا ہی ہل گیا۔“ دادی بی اچانک افتاد توڑنے پر اس کی شامت لے آئیں۔

ثاقب جو علینہ کے پیچھے پیچھے بھاگا تھا اسے پکڑنے کے لئے علینہ کی بسورتی شکل دیکھ کر محفوظ ہونے لگا اور ثاقب کو مسکراتا دیکھ کر علینہ تلملاتے ہوئے دانت پیسنے لگی۔

”آپ لوگ اسے تو کچھ نہیں کہتے۔ پہلے یہ ہی لڑائی شروع کرتا ہے۔“

”علینہ تمیز سے بات کرو، بڑا بھائی ہے تمہارا۔ یہ کیا تو تڑاخ کرتی رہتی ہو؟“ امی نے بھی علینہ کو سرزنش کی تو ثاقب کے ہونٹوں پر بڑی جاندار مسکراہٹ آ گئی جسے اس نے سر جھکا کر چھپایا۔ لیکن علینہ کی عقابی آنکھوں نے تاڑ لیا تھا۔

”ساری تمیز میرے لئے ہی ہے۔ یہ بھی تو کتنی بد تمیزی کرتا ہے، صرف دو سال ہی بڑا ہے مجھ سے اور رعب جماتا رہتا ہے۔ ابھی مجھے مارا بھی تھا اس نے۔“ علینہ نے بھی مظلومانہ انداز میں جھوٹی سچی شکایتیں شروع کردیں۔

”جھوٹی۔ امی یہ جھوٹ بول رہی ہے۔ میں نے ہاتھ بھی نہیں لگایا تھا اس کو صرف پوچھا تھا۔“ ثاقب نے اس کی مکاری پر کینہ توز نظروں سے گھورتے ہوئے اپنی صفائی پیش کی۔

”آئے ہائے۔ آخر ماجرا کیا ہے جو یوں کتے بلیوں کی طرح لڑ رہے ہو دونوں؟“ دادی بی نے جھلاتے ہوئے دونوں سے استفسار کیا تو امی بھی دونوں کو سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگیں۔ ثاقب ’کتے بلیوں‘ کے لقب کو فی الحال ہضم کرتے ہوئے علینہ کے برابر میں ہی دھپ کر کے تخت پہ گرنے والے انداز میں بیٹھا اور علینہ نے اپنے پاس سے دھکا دے کر اسے دادی بی کی طرف کیا۔

جواب میں امی اور دادی بی دونوں نے گھوریوں سے نوازا اور سبزی سمیٹ کر سائیڈ پر کی۔ یوں بھی تقریباً ساری سبزی بن ہی گئی تھی اور ان دونوں کی موجودگی میں باقی کام نہیں ہو سکتا تھا۔

دادی بی اور امی کو متوجہ پاکر وہ معصومانہ شکل بنا کر، گویا شکایتوں کی پوری پٹاری کھولنے کے لئے تیار ہو گیا۔ ”امی، دادی بی۔ اس نے دادا جی کا فیس بک اکاؤنٹ بنایا ہے۔“

”تو؟ مسئلہ کیا ہے۔ تم خود ہی تو پیچھے پڑے ہوئے تھے ابا جی کے۔“
”ہاں تو اس نے میرے سارے دوست ایڈ کر لئے دادا جی کے اکاؤنٹ میں۔“

”جھوٹ۔ میں نے صرف انہیں طریقہ بتایا تھا اور ہاں نام دیے تھے تمہارے دوستوں کے۔“ علینہ نے فوراً وضاحت پیش کی۔

”تو بیٹا آخر پریشانی کیا ہے؟“ امی نے دوبارہ جھنجھلاتے ہوئے پوچھا۔ دادی بی کی بھی سوالیہ نظریں اٹھی ہوئی تھیں۔

”امی مسئلہ یہ ہے کہ دادا جی نے تقریباً میرے سارے دوست ایڈ کرلئے۔ اب جو کوئی بھی پوسٹ لگا تا ہے یا تصویر لگاتا ہے تو دادا جی اس کے کمنٹ میں اس کو ڈانٹنا شروع کر دیتے ہیں، ’برخوردار کسی اچھے کام میں وقت لگاو۔‘ اور کوئی اچھی پوسٹ لگائے تو لکھتے ہیں ’برخوردار تم ثاقب کے دوست تو نہیں لگتے۔‘ اور تو اور، اگر کوئی لڑکی کی تصویر یا گانے لگائے تو ’لاحول‘ اور ’استغفار‘ لکھتے ہیں اور جہنم سے ڈراتے ہیں۔ میری کلاس کی جو لڑکیاں میرے پاس ایڈ ہیں، سب سے میسج کر کے کرید کرید کر پوچھتے ہیں کہ کہیں میرا کسی کے ساتھ چکر تو نہیں۔ اب مجھے کیا پتا تھا، وہ ایسا کریں گے، میرے ساتھ۔“ روہانسے لہجے میں ثاقب نے اپنا دکھڑا رویا۔

علینہ بھی محاذ آرائی بھول کر بھائی کی ہم نوا ہو گئی دکھ جو مشترک تھا۔ ”ہاں امی ویسے ثاقب کہہ تو صحیح رہا ہے، دادا جی میری دوستوں کی بھی شامت لیتے ہیں۔“

”ہاں دونوں بہن بھائی اپنے اپنے دکھڑے لے کر بیٹھ گئے۔ مجھ سے پوچھو سب سے زیادہ تو میرے دل پر چھریاں چلتی ہیں۔ اس عمر میں ’سوکن‘ کا عذاب بھگتنا رہ گیا تھا۔“ دادی بی جلے دل سے تنک کر بولیں تو تینوں ہکا بکا ان کی شکل تکنے لگے۔

”اوہو اللہ خیر کرے اماں بی۔ کس سے شادی کرلی ابا جی نے اور کب؟“ امی نے ہی ہمت کر کے پوچھنے کی جرات کی۔

”اری چل پرے ہٹ۔ باؤلی ہو گئی ہے۔ اس عمر میں بڑے میاں کو کوئی مل ہی نا جائے۔ یہ میرا ہی دل گردہ ہے جو پچاس سالوں سے برداشت کر رہی ہوں۔ ارے میں تو اس موئے ’موبیل‘ کی بات کر رہی ہوں۔“ دادی بی نے انہیں لتاڑتے ہوئے وضاحت دی تو امی بھی منہ ہی منہ میں استغفار بدبدا کر رہ گئیں۔

”میں پوچھتی ہوں یہی بلا ملی تھی ہماری شادی کی سالگرہ کے تحفے میں دینے کے لئے بڑے میاں کو؟ ارے کوئی تسبیح، ٹوپی یا جائے نماز دیتے تو بات بھی تھی۔ اس عمر میں بندر کے ہاتھ ناریل لگ گیا۔“ دادی بی کی ضرب المثل پر جہاں ثاقب اور علینہ کا بے اختیار قہقہہ نکلا، وہیں امی بھی مسکرانے لگیں۔

”ہاں میاں ہنسو تم یہ تمہاری ہی کارستانی ہے نا، اب بھگتو۔“
دادی بی نے خفگی سے دو ہتڑ ثاقب کے رسید کیے اور ثاقب اوئی اوئی کر کے اپنی کمر سہلانے لگا۔

”پہلے کہتے تھے بڑے میاں کہ کوئی وقت نہیں دیتا ہمیں، نا بچے، نا تم۔ حالاں کہ ہر وقت سبھی خیال رکھتے تھے، پھر بھی۔ اور اب دیکھو جب بھی کوئی بات کرنا چاہو، تو“ ٹیم ”نہیں ہے ان کے پاس۔ بس اس میں مصروف رہتے ہیں۔ جب دیکھو کبھی وڈیو کبھی کچھ کبھی کچھ۔ اپنی سوکن کہتے تھے اسے اور لے کے ہماری بنا دیا۔“ دادی بی، ثاقب کو نظر انداز کر کے افسردہ لہجے میں بولیں، تو امی بھی، ان کی تائید میں سر ہلانے لگیں۔

پھر ایک دم سر پر ہاتھ مار کر بولیں، ”اے لو میں نے تو ابھی تک نماز بھی نہیں پڑھی، تم لوگوں کی باتوں میں۔ میرے بھی ذہن سے نکل گیا۔“ دادی بی نے ثاقب کو پرے ہٹایا اور دونوں پہ سارا الزام دھر کر نماز کے لئے اٹھ گئیں، تو امی نے دادی کی نشست سنبھال کر دونوں کو ڈانٹنے کا فریضہ جاری رکھا۔

”بالکل صحیح کہہ رہیں تھیں اماں بی، تمہاری ہی غلطی ہے یہ، پھر اب کیوں شور مچا رہے ہو۔“

”مجھے کیا پتا تھا، امی کہ میں اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار رہا ہوں، میں نے تو نیک نیتی اور بے غرضی سے دادا جی کو موبائل کے لئے راضی کیا تھا۔“

”یہ بات تو رہنے دو بیٹا۔ نیک نیتی اور بے غرضی۔ تم لوگوں کو ہوتا تھا نا کہ دادا جی تم لوگوں کو موبائل استعمال نہیں کرنے دیتے، تو کیوں نا ان کو بھی موبائل دے دیں، تا کہ وہ بھی خوش اور تم بھی۔“ امی نے ناقدانہ انداز میں اسے ٹوکا تو ثاقب خفیف ہو کر چپ ہو گیا۔

علینہ نے بھائی کو خاموش ہوتا دیکھ کر میدان میں کودنے کا فیصلہ کیا، کیوں کہ اس سارے پلان میں وہ بھی شامل تھی۔ پھر شروع شروع میں ثاقب کے دوستوں کو بھی اس ہی نے داد جی کے اکاؤنٹ سے ریکویسٹ بھیجی تھی۔ اسے کیا معلوم تھا یہ سب کچھ اس کے ساتھ بھی ہو گا اور پھر گھر میں جو پابندیاں لگنی شروع ہو گئیں تھیں وہ الگ۔

” جی امی لیکن آپ یہ مظالم بھی تو دیکھیں جو ہم پر ٹوٹ پڑے ہیں کہ اب ہمارے گھر میں کولڈ ڈرنک آنا ممنوع ہے اور وہ کیوں۔ واٹس ایپ والے بابا نے بتایا ہے کہ کولڈ ڈرنک مضر صحت ہے۔ ہم کوئی جوس نہیں پی سکتے کیوں کہ وڈیو میں اس میں سے لال بیگ نکلتے ہوئے دکھائے گئے ہیں۔ پیکٹ کے کیک اور چپس نہیں کھا سکتے کیوں کہ وہ پلاسٹک سے بنے ہیں۔ اور اتنی اہم اور سنسنی خیز اطلاعات کون فراہم کرتا ہے؟ ’بابا واٹس ایپ!‘ اور تو اور اب ہم کسی ہوٹل میں جا کر کھانا نہیں کھا سکتے، کیوں کہ اس کی کچن میں چوہے پھر رہے ہوتے ہیں۔ آج کل کے چوہے اور لال بیگ فوٹو گرافی کے شوقین ہیں نا، انتظار میں رہتے ہیں کہ کب کیمرا آن ہو، کب فلیش لائٹ چمکے اور وہ ایک دوسرے سے کہیں۔ آ جاؤ کچن میں وڈیو بنواتے ہیں۔“

علینہ نے بھی خوب اپنے جلے دل کے پھپھولے پھوڑے، مگر چہرے پہ سے مسکینی جانے نہیں دی اور ثاقب نے مظلوم شکل بنا کے اور پرزور انداز میں سر ہلا ہلا کر ہامی ہونے کا ثبوت دیا۔

امی دونوں کی دکھ بھری کہانی سن کے ہنستی چلی گئیں پھر بولیں، ”اسی لئے بچو، بڑوں سے پنگا نہیں لیتے۔ ہم تمہاری اس سلسلے میں کوئی مدد نہیں کر سکتے۔ بھائی ہمارا تو فائدہ ہی ہوا ہے، کم از کم یہ اوٹ پٹانگ چیزیں کھانا تو ختم ہوئیں تم لوگوں کی اور اب موبائل بھی کم وقت کے لئے استعمال کرتے ہو تم لوگ۔ کیوں کہ ابا جی نے اب وہاں بھی نظر رکھنی شروع کر دی۔ ہاں بہت بڑا یہ نقصان ہوا ہے کہ ابا جی اب ہمیں وقت نہیں دیتے۔ اب تم لوگ خود سوچتے رہنا کہ کیسے اپنے دادا جی واپس پا سکتے ہو۔ ہماری طرف سے تو سوری۔“ امی صاف ہری جھنڈی دکھا کر سبزی کی ٹوکری ہاتھ میں لے کر چلی گئیں۔ اور علینہ اور ثاقب ”لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا“ کی عملی تفسیر بنے ٹھنڈی آہ بھر کے رہ گئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •