اساتذہ کا دن آج منایا جا رہا ہے۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بلاشبہ انسان کی شخصیت سازی اور کردار سازی میں والدین کے ساتھ دوسرا اہم کردار اساتذہ کا ہوتا ہے۔

بے تحاشا عام سے طلبہ، استاد کی محنت شفقت اور تربیت کی بدولت انتہائی قابل شخصیات بن جاتے ہیں، اور ذہین شاگرد مزید نکھر کر ملک و قوم کا فخر بن جاتے ہیں

مگر تصویر کا ایک دوسرا رخ بھی ہے۔ ۔ ۔
پاکستان میں دو طرح کے لوگ بچے کی بنیادی ذہن سازی کرتے ہیں۔
والدین
اور اساتذہ

اب وہ خود جیسے بھی ہوں، لیکن انسان کے اندر کوٹ کوٹ کر احسان کا جذبہ بھر دیتے ہیں۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر اساتذہ نے طلباء پر احسان نہیں کیا۔ پڑھانا ان کی پہلی ذمہ داری اور نوکری تھی۔ جو زیادہ تر اساتذہ نے صحیح طرح سرانجام نہیں دی۔

پاکستانی اساتذہ، خاص طور پر سرکاری اسکول اور مدرسوں کے اساتذہ نے ننھے بچوں پر بے جا تشدد کیا۔ کیا ان کو یہ حق حاصل تھا کہ یہ کسی کمزور کو صرف اس لیے ماریں کہ وہ کمزور ہے؟

کسی بچے کو لکھنے پڑھنے یا سمجھ آنے میں کوئی مشکلات ہوتیں، تو یہ ایسے بچوں پر بے تحاشا ذہنی اور جسمانی تشدد کرتے کہ بچے باقاعدہ ٹیچر کے نام سے دہشت زدہ ہوتے۔

میں سرکاری اسکول سے پڑھی ہوں، چند سال پہلے مجھے پہلی دفعہ خیال آیا کہ کچھ ٹیچرز ظالمانہ طریقے سے بچوں کو مارتی بھی تھیں اور ان کی عزت نفس کو مجروح بھی کرتی تھیں۔

میرے ساتھ کبھی ایسا نہیں ہوا کیونکہ میں پڑھائی میں اچھی تھی۔
مگر جو انہوں نے ان بچوں کے ساتھ کیا جو کہ پڑھائی میں کم تھے، وہ کسی طرح بھی قابل معافی نہیں۔

جو بچے پڑھائی میں کمزور ہوتے اور ان کے والدین بھی معمولی حیثیت کے یا کم تعلیم یافتہ یا غیر ذمہ دار ہوتے تو یہ ایسے بچوں کو بہت مارتی تھیں۔

میں اب حیران ہوتی ہوں کہ ننھے بچوں پر اتنا غصہ ان عورتوں کو آتا کیسے تھا؟ کس بات پر؟ کہ سبق یاد نہیں ہے یا کپڑے میلے یا جوتے پالش نہیں، یا کلاس میں دوسرے بچوں سے بات کر رہے ہیں۔

بلاوجہ بچے کو زور دار تھپڑ مار دیتی تھیں کہ بات کیوں کر رہے ہو کلاس میں، اسٹاف روم کے سامنے سے کیوں گزرے، شور مچاتے ہوئے کیوں بھاگ رہے ہو ایسے اساتذہ یقیناً مجرم ہیں۔

اگر یہ پڑھانے پر توجہ دیتیں تو بچے یقیناً پڑھ جاتے۔ زیادہ تعداد میں بچے تو صحیح طرح پڑھے نہیں۔

اساتذہ کو پڑھانے کے پیسے ملتے تھے۔ ان کی نوکری ہی یہی تھی، اور وہ نوکری کر کے بھی ان کو اتنا غصہ آتا تھا کہ بچوں کو ذد و کوب کرتی تھیں۔

حیرت کی بات ہے کہ والدین اور ٹیچرز، دونوں ہی تربیت کے نام پر اور پڑھانے کے نام پر بچوں پر تشدد کو اپنا حق اور صفت سمجھتے ہیں۔

جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مارنے سے بچے نے پڑھا ہوتا تو پاکستان میں خواندگی کی شرح سو فیصد ہوتی، کیونکہ مار تو سب بچوں نے بے تحاشا کھائی ہوتی ہے۔ ۔ ۔

لیکن انتہا کی برین واشنگ ہے کہ انٹرنیشنل بینک کا ڈائریکٹر بھی کہے گا کہ کامیابی کی وجہ امی کی جوتیاں، ابا کے تھپڑ اور استاد کا ڈنڈا ہے۔ ۔ ۔

اس سے بھی بڑی ذہن سازی یہ ہے کہ اس مار جیسے قبیح فعل پر تنقید بے ادبی، بدتمیزی اور بے مرادی قرار پائے گی۔ ۔ ۔

پنجاب میں تو اسکولز میں باقاعدہ سلوگن چلایا گیا تھا ”مار نہیں پیار“ اور اساتذہ کو پابند کیا گیا تھا کہ جسمانی تشدد نہیں کرنا، مطلب مسئلہ اس حد تک بڑھا کہ اس کمپین کی ضرورت ہوئی۔ مگر پھر بھی ذہنی تشدد کی تو آزادی تھی، پھر یہ کمپین باقی ملک میں بھی چلائی گئی۔

زیادہ تر اساتذہ نے بچوں کی عزت نفس ایسے مجروح کی کہ بچوں کو زندگی بھر کے لیے ذہنی اور فکری طور پر برباد کر دیا۔ لیکن یہ باتیں سوچنے اور سمجھنے کے لئے جس کریٹیکل تھنکنگ اور انالیٹیکل تھنکنگ کی ضرورت ہے، اس سے یہ قوم یکسر محروم ہے۔

مطالعہ پاکستان کی پیداوار قوم کو اس تھنکنگ لیول تک پہنچنے میں ایک طویل وقت درکار ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •