چھاتی کا سرطان: آپ کو یہ سب کیسے جھیلنا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 چھاتی کا سرطان۔۔۔ اف اس لفظ سے ہی دل کانپ جاتا ہے۔ جب عورت پر یہ ظالم حملہ آور ہوتا ہے تو وہ تو اسے جھیل ہی رہی ہوتی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس کی فیملی بھی متاثر ہوتی ہے۔ خاص طور پر شوہر یا پارٹنر پر یہ خبر بجلی بن کر گرتی ہے۔ انہیں یہ سب ایک ڈراونا خوب لگتا ہے جس سے وہ جلد جاگ جانا چاہتے ہیں۔ آج میرے مخاطب وہی مرد حضرات ہیں جنہیں اس قسم کی صورت حال کا سامنا ہے یا کبھی ہو سکتا ہے۔ بیوی کو سینے میں گلٹی محسوس ہوئی۔ ڈاکٹر نے میموگرام کروایا، بایئوپسی ہو گئی تشخیص بھی ہو گئی۔ اب آپ کو ایک لمبے سفر کے لیے تیار ہو جانا چاہیئے۔ اس سفر کے کوئی لگے بندھے اصول نہیں۔ ہر ایک اسے اپنی طرح دیکھتا ، جھیلتا اور مقابلہ کرتا ہے۔ جہاں ایک طرف اسے اپنی جیون ساتھی کو سپورٹ کرنا ہے وہیں اسے اپنی اس نئی افتاد سے بھی لڑنا ہے۔ اور کبھی کبھی آپ کو سمجھ ہی نہیں آتا کہ یہ سب کیسے کریں۔ کچھ نہیں آپ بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ ساتھی کی دلداری بھی اور اپنی ہمت اور مضبوطی کی تعمیر بھی۔ چند مشورے ہیں جن پر غور کرنا ضروری ہے۔

1۔ آپ کو موجود رہنا ہے۔ اگر علاج کے علاوہ کوئی چیز عورت کو تسلی اور ہمت دے سکتی ہے تو وہ شوہر کے یہ الفاظ ہیں” میں تمہارے ساتھ ہوں” بلکہ شاید علاج سے بھی زیادہ یہ الفاظ اسے حوصلہ دیتے ہیں۔ اور یہ صرف لفظی نہیں ہونا چاہیئے۔ آپ اس کے ساتھ اس کے ڈاکٹر کے پاس جائیں۔ اس سے ناصرف اسے تقویت ملے گی بلکہ آپ کو کئی اہم معلومات بھی حاصل ہوں گی۔ آپ ڈاکٹر سے سوالات بھی کر سکتے ہیں بلکہ کرنے چاہیں۔ آپ اپنے کام میں کتنے ہی مصروف کیوں نہ ہوں اپ کو یہ وقت نکالنا ہوگا۔

2۔ آپس میں گفتگو کریں۔ یہ بہت ضروری ہے کہ آپ دونوں کے بیچ مکالمہ رہے۔ اس مسلئہ پر کھل کر بات کریں۔ آنکھیں میچ لینے سے مسلئہ اوجھل نہیں ہو گا۔ آپ کی ساتھی بھی دل کا بوجھ ہلکا کرنا چاہتی ہے۔ اس کی بات سنیں۔ یہ کہنا کہ فکر مت کرو سب ٹھیک ہو جائے گا اس کے لیے کافی نہیں۔ آپ کو خود بھی لگے گا کہ آپ کے الفاظ کھوکھلے ہیں۔ سب ٹھیک کیسے ہو گا؟ آپ اس سے یہ پوچھیں کہ آپ اس کے لیے کیا کرسکتے ہیں؟ ایسا کیا کریں کہ وہ بہتر محسوس کرے؟

اسے بولنے دیں۔ وہ روئے تو اپنا کندھا دیں۔ محبت کے اظہار کا اس سے بہتر وقت اور کوئی نہیں۔ مردوں کو اپنے جذبات کے اظہار میں مشکلات ہوتی ہیں۔ لیکن یہاں آپ کو جذباتی ہونا چاہیئے۔ یہ حقیقت ہے کہ آپ کو اپنے خوف گھیرے ہوئے ہیں۔ کیا یہ مر جائے گی؟ اگر مر گئی تو کیا ہو گا؟ اگر آپ کے بچے ہیں تو آپ کو ان کی فکر لگ جائے گی۔ انہیں کون سنبھالے گا؟ گھر کیسے چلے گا؟ آپ کے خوف اپنی جگہ بجا ہیں۔ یقین جانیے کہ وہ عورت بھی اپنی بیماری سے زیادہ آپ کی اور بچوں کی فکر میں گھل رہی ہے۔ لیکن اس وقت اسے ایک مضبوط آواز سننے کی خواہش ہے جو اسے یقین دلائے کہ وہ اکیلی نہیں۔ اور جو بھی جیسا بھی ہو گا، دونوں مل کر سنبھال لیں گے۔

آپ بھی اپنے خیالات اور اپنے خوف اس سے بیان کریں۔ وہ حیرت انگیز طور پر انتہائی مضبوطی سے آپ کی ہمت بڑھانے میں لگ جائے گی۔

3۔ خود کو تیار کریں۔ یہ بہت اہم بات ہے کہ آپ اس ساری صورت حال کے لیے خود کو آمادہ کریں۔ یہ ایک دو دن یا چار چھے مہینے کی بات نہیں یہ ایک لمبا پروسس ہے۔ آپ جتنی بھی معلومات حاصل کر سکتے ہیں کریں۔ جب بیوی کے ساتھ اس کے ڈاکٹر اپایئٹمنٹ پر جائیں تو سوالات کی لسٹ لے کر جائیں اور سوال پوچھنے سے ہرگز ہرگز مت ہچکچائیں۔ سرطان کس نوعیت کا ہے۔ کونسے اسٹیج میں ہے۔ آپریشن کب ہو گا۔ علاج کیا ہوگا۔ یہ سوالات کرنے سے آپ کسی غیر متوقع صدمے سے بچ سکیں گے۔ آپریشن کے بعد علاج کا دوسرا مرحلہ شروع ہوگا۔ ریڈیشن ہو گی۔ کیمو تھراپی ہو گی یا دونوں۔ آپ کو ان دونوں ٹریٹمنٹس کے سایئڈ ایکفٹس اور آفٹر ایفیکٹس بھی معلوم ہونے چاہیں۔ اگر ڈاکٹر کی تجویز ہے کہ بیوی کا سینہ نکال دینا ضروری ہے تو آپ کو بیوی کی جسمانی صحت کے علاوہ اس کی نفسیاتی اور جذباتی کشمکش کا بھی خیال رکھنا ہو گا۔ عورت کے لیے اس کے سینوں کی خوبصورتی بہت اہم ہے۔ وہ خود کو ادھوری سی محسوس کرنے لگے گی۔ اسے یہ احساس دلانا ہو گا کہ ان کے بغیر بھی وہ پوری عورت ہے۔

اگر ٹیومر بڑے سائز کا ہے تو آپریشن سے پہلے کیمو تھراپی کی جاتی ہے تاکہ اس کا سائز کم کیا جا سکے۔ کیمو تھراپی ایک تکلیف دہ عمل ہے۔ سینے نکلوا دینے کے بعد اب اسے بال جھڑنا، رنگت کی زردی اور جلد کی بے رونقی کا سامنا بھی ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ آپ خود اپنے ریزر سے اس کے سر کی شیو کریں اور اسے یقین دلاتے رہیں کہ بالوں کے بغیر بھی اس کی خوبصورتی برقرار ہے۔ تھوڑا بہت مذاق بھی اچھا اثر ڈالے گا۔

اس کی بھوک مر چکی ہے۔ منہ کا ذائقہ خراب ہے۔ طبیعت گری گری ہے۔ بلکہ خراب ہے۔ لیکن اسے تھوڑا تھوڑا کچھ نہ کچھ کھاتے اور پیتے رہنا چاہیئے۔ جس طرح وہ آپ سب کے کھانے پینے کا خیال رکھتی رہی ہے اب آپ کو یہ ذمہ داری اٹھانی ہے۔ آپ سارے وقت اس کے ساتھ نہیں ہو سکتے لیکن جاب سے وقت نکال کر فون ضرور کرتے رہیں۔

سینے نکال دیے جانے کے بعد اس سے نظریں مت چرائیں۔ پہلی بار دیکھنے سے آپ کو جذباتی جھٹکا ضرور لگے گا۔ اس کے سباٹ سینے پر ٹانکوں کی ایک قطار دیکھ کر آپ کا دل بیٹھ جائے گا۔ لیکن یہاں بھی آپ کو اس کی دلداری کرنی ہے۔ آپ کے محبت بھرے جملے اسے ہمت اور خود اعتمادی دیں گے۔ کینسر سے لڑنے والوں کے لیے محبت بہترین علاج ہے۔ ایک چھاتی اگر نکالی گئی ہے تو دوسری بھی نکلوا دینی چاہیئے۔

4۔ جسمانی تعلق۔ شادی شدہ زندگی میں جسمانی تعلق انتہائی اہم ہے۔ بریسٹ کینسر کی شکار عورت خود کو غیر جاذب نظر سمجھنے لگتی ہے۔ خاص طور پر اگر اس کی میسٹیکٹومی (چھاتیاں نکال دینا) ہوئی ہو۔ اس عورت کے دل میں بیماری سے لڑنے کے علاوہ یہ خوف بھی ہوتا ہے کہ اب وہ اپنے شوہر کے لیے جاذب نہیں رہی۔ یہ ایک بالکل جذباتی معاملہ ہے۔ ہو سکتا ہے آپ ایسا ہی محسوس کرتے ہوں کہ آپ کی بیوی اب نامکمل ہے اور آپ کا دل اس کی طرف مائل نہیں۔ یہ بھی ہو سکتا ہے آپ کی بیوی اب سیکس کے لیے آمادہ نہیں کیونکہ اسے اپنے ہی جسم سے ڈر لگتا ہے۔ اسے اپنی نسوانیت کی کمی کا شدید احساس ہے۔ یہاں آپ کو اپنا بھرپور کردار نبھانا ہے۔ اس کی خوداعتمادی بڑھائیں۔ اس سے محبت کا اظہار کریں۔ اس کے بدن کو نرمی سے چھویں۔ اگر وہ آمادہ ہے تو پیش رفت کریں۔ اس کی خواہشوں کا احترام کریں۔

5۔ برداشت اور تحمل۔ کینسر کے مریض ایک شدید جذباتی جنگ لڑتے ہیں۔ ان کے مزاج میں نہ چاہتے ہوئے بھی تلخی آ جاتی ہے۔ آپ کو کسی حد تک برداشت کرنا ہو گا۔ لیکن گاہے بگاہے حالات کو معمول کو لانے کے لیے آپ کہہ سکتے ہیں کہ بھئی اب بس بھی کرو۔ زیادہ تنگ مت کرو۔ یہ ہلکی پھلکی نوک جھونک صورت حال کو کسی حد تک معمول پر لا سکتی ہے۔ یقینی بات یہ ہے کہ وہ خود بھی چاہتی ہے کہ جلد سے جلد سب کچھ پہلے جیسا ہو جائے۔ یہ بات بھی بالکل درست ہے کہ مریض کے ساتھ ساتھ سارے گھر والے بھی اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ سب کے معمولات اور رویے بدل جاتے ہیں۔ گھر الٹ پلٹ ہو گیا، بچے سہمے سہمے ہیں اور آپ پریشان اور تھکے ہوئے۔ وہ یہ سب دیکھ رہی ہے محسوس بھی کر رہی ہے۔ ٹھیک ہونے کی اسے بھی جلدی ہے۔

6۔ آپ کو بھی آرام چاہیئے۔ یہ نا ممکن بات ہے کہ آپ سارا بوجھ اٹھائے پھریں اور کہیں کہ آپ کو آرام نہیں درکار۔ یہ آپ کے لیے ضروری ہے۔ ملنا جلنا رکھیں۔ کبھی اکیلے کہیں نکل جائیں۔ کوئی اچھا سچا دوست ہے تو اس کے سامنے دل کھول کر رکھ دیں۔ آپ کو بھی ہمدردی چاہیئے۔ اور شاید رونے کو کوئی کندھا بھی۔

7۔ خلاصہ۔ سال ڈیڑھ سال تک صورت حال میں بہتری آ جائے گی۔ آپ دوبارہ اپنے کام کو پورا وقت دیں گے۔ وہ بھی اپنے جاب یا گھر کی ذمہ داریوں میں جت جائے گی۔ زندگی پوری طرح شاید کبھی بھی نارمل نہ ہو سکے لیکن کوشش ضرور کرنی چاہیئے۔ سوشل لائف رکھیں۔ گھومیں پھریں۔ سالانہ چیک اپ ہوتے رہیں گے اور وہ اس کی انگزیئٹی سے بار بار گذرے گی۔ اس کا ہاتھ آپ کے ہاتھ میں ہو۔ امید برقرار رکھیں۔ یہ مرض لاعلاج نہیں۔ اس سب سے گذرنے کے بعد جب آپ کی پہلی لڑائی ہو تو سمجھ لیں حالات قدرے نارمل ہو رہے ہیں۔ اکتوبر کا مہینہ بریسٹ کینسر سے آگاہی کا مہینہ ہے۔ اگر آپ کو آگاہی ہے تو اسے دوسروں تک بھی پہنچائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •