جو خلق اٹھی تو سب کرتب تماشا ختم ہو گا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چند سال یا چند دہائیاں قبل شہروں اور دیہاتوں میں تماشا دکھانے والے بکثرت مل جاتے تھے۔ کوئی ریچھ کا تماشا دکھاتا تھا، کوئی بندر کا تماشا، کوئی سانپ اور نیولے کی لڑائی دکھاتا تھا اور کہیں میلوں ٹھیلوں میں پتلی تماشا ہوتا تھا۔ بہرحال یہ تماشے ہماری تہذیب کا حصہ تھے، جو وقت کے ساتھ ساتھ معدوم ہو گئے ہیں۔ شاید اب بھی کہیں کہیں دیہاتوں میں تماشے دکھائے جاتے ہوں، لیکن کم از کم شہروں کی حد تک اب تو کوئی مداری سڑک پہ بندر لیے بھی خال خال ہی نظر آتا ہے، کجا کہ کہیں بندر کا تماشا نظر آئے۔ البتہ ملک میں ایک سیاسی تماشا ہے جو بہتر سال سے چلا آ رہا ہے۔

تماشا کوئی بھی ہو، اس کی ایک خاص بات یہ ہے کہ دیکھنے والوں کو چند لمحوں کے لیے اپنے ماحول سے بے خبر کر دیتا ہے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ مداری کے کہنے پہ بندر چشمہ لگائے گا، چل کے اور گھوم کے دکھائے گا، دیکھنے والوں کے لیے پر لطف منظر ہوتا ہے۔ ایسے ہی یہ جانتے ہوئے بھی کہ سیاسی تماشے میں پتلیاں کون ہیں اور ان کو نچانے والی انگلیاں کس کی ہیں۔ لیکن پھر بھی ہم سب اس میں ”محو تماشائے لب بام“ کے مصداق ہیں۔ بہتر برس سے نہ انگلیاں بدلی ہیں اور نہ پتلیاں البتہ بہت سوں کی آنکھوں کی پتلیاں بہت سے خواب لیے بے نور چکی ہیں۔ موہوم سی امید تو اکثر پیدا ہوتی رہی ہے۔ لیکن امید کے اس چراغ سے کوئی سورج طلوع نہیں ہوا۔ اس ملک کی چار نسلیں جمہوریت کے خواب کی تکمیل کو آنکھوں میں بسائے ابدی نیند سو چکی ہیں۔

پر امید انسان کو ہر لمحہ ہی فیصلہ کن نظر آتا ہے۔ ملکی تاریخ میں اتنے فیصلہ کن اور تاریخ ساز لمحات آ چکے ہیں کہ اب یہ لمحات بھی کثرت کی وجہ سے اپنا اثر کھو چکے ہیں۔ جس طرح بری خبریں سن سن کر کان پتھر ہو جاتے ہیں اور کچھ سنائی نہیں دیتا، ایسے ہی ایک منظر پہ نظر جمائے رکھنے سے اور اس منظر کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے سے، آنکھ پتھر ہو جاتی ہے۔ وہ منظر ساکت نہیں ہوتا، البتہ آنکھ ساکت ہو جاتی ہے۔ امید کی آنکھوں کی پتلیاں پتھر ہو چکی ہیں۔ اس پتھر آنکھوں میں یک دم کسی نے انگلی ماری ہے۔ منظر نامہ اب ساکت نہیں رہا۔ آنکھ اب حرکت کو دیکھ سکتی ہے۔

اس حرکت کرتے ہوئے منظر نامے نے امید کے چراغوں کی لو بڑھا دی ہے۔ صبح کاذب کی سی روشنی کا گمان ہوتا ہے۔ گو کہ سورج کا طلوع ہونا اب بھی واضح نہیں البتہ امید کے چراغوں میں تیل ڈالا جا چکا ہے۔ کسی کو ماضی کا طعنہ ملے گا، کسی کو حال کا، کوئی اپنے بڑ بولے پن کی وجہ سے زیر عتاب آئے گا، کوئی خاموشی کی وجہ سے اور کسی کا بولنا بے وقت کی راگنی محسوس ہو گا۔ لیکن یہ سب تماشے کا حصہ ہے۔ تماشا جب ختم ہوتا ہے تو سب پتلیاں ایک ساتھ جمع ہوتی ہیں۔

پتلیاں چلانے والے بھی سٹیج پہ آتے ہیں۔ لہذا کچھ بھی مخفی نہیں رہتا۔ سب کچھ عیاں ہو جاتا ہے۔ یہاں تو کافی کچھ پہلے سے عیاں ہے، نچانے والی انگلیاں بھی اور ناچنے والی پتلیاں بھی۔ البتہ جب پتلیاں دیو مالائی کرداروں کی طرح خود سے بولنا شروع کر دیں، تو حیرت ہوتی ہے۔ اور اس کے نتیجے میں انگلیاں پرانی پتلیوں کی جگہ نئے کردار تخلیق کرتی ہیں۔ نئے کرداروں کی شمولیت سے، دیکھنے والوں کی دلچسپی بھی برقرار رہتی ہے۔ البتہ لازمی نہیں کہ ہر نیا کردار پذیرائی حاصل کر پائے۔ یہی انجام ہے پتلی تماشے کا۔

البتہ کسی تماشے کا اختتام مخلتف بھی ہو سکتا ہے۔ منشا یاد کے افسانے ”تماشا“ کی طرح کا انجام بھی بعید از قیاس نہیں۔ ”تماشا“ میں جمورا، اس کا بڑا بھائی اور ابا دریا پار کر کے دوسری بستی میں جانے کی کوشش میں، ایک ایسی بستی میں پہنچ جاتے ہیں، جو بونوں کی بستی ہے۔ اس بستی میں سب چھوٹے بچے ہوتے ہیں۔ ان کے چہرے پہ جھریاں ہوتی ہیں اور بال سفید ہوتے ہیں۔ بونے کہتے ہیں کہ اگر ہماری بستی میں آ ہی گئے ہو، تو اب تماشا دکھاؤ۔

ابا جمورے کے ساتھ تماشا دکھاتا ہے۔ ایک آئٹم، دوسری، پھر تیسری۔ کسی بھی تماشے پہ داد نہیں ملتی۔ آخر میں وہ آئٹم دکھاتا ہے، جس میں جمورے کے گلے پہ چھری پھیر کر اس کو دوبارہ زندہ کرنا ہوتا ہے۔ ابا جمورے کے گلے پہ چھری پھیرتا ہے۔ یک دم مجمعہ تالیاں بجانے اور کھسکنے لگتا ہے۔ ابا جمورے کو کہتا ہے، چل اٹھ سب جا چکے، پیسے اکٹھے کر۔ لیکن جونہی ابا چادر اٹھاتا ہے، جمورے کا سر اصل میں کٹا ہوتا ہے۔ بھلا افسانے کے ”تماشے“ کا اصل تماشوں سے کیا تعلق؟ البتہ افتخار عارف کے اشعار جتنی بار بھی دہرا لیں ہر بار لطف دیتے ہیں۔

بکھر جائیں گے ہم کیا جب تماشا ختم ہو گا
مرے معبود آخر کب تماشا ختم ہو گا

چراغ حجرہ درویش کی بجھتی ہوئی لو
ہوا سے کہہ گئی ہے اب تماشا ختم ہو گا

کہانی میں نئے کردار شامل ہو گئے ہیں
نہیں معلوم اب کس ڈھب تماشا ختم ہو گا

کہانی آپ الجھی ہے کہ الجھائی گئی ہے
یہ عقدہ تب کھلے گا جب تماشا ختم ہو گا

زمیں جب عدل سے بھر جائے گی نور علی نور
بنام مسلک و مذہب تماشا ختم ہو گا

یہ سب کٹھ پتلیاں رقصاں رہیں گی رات کی رات
سحر سے پہلے پہلے سب تماشا ختم ہو گا

تماشا کرنے والوں کو خبر دی جا چکی ہے
کہ پردہ کب گرے گا کب تماشا ختم ہو گا

دل نا مطمئن ایسا بھی کیا مایوس رہنا
جو خلق اٹھی تو سب کرتب تماشا ختم ہو گا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •