نواز شریف کے پاس کھونے کے لئے کیا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

1۔ مریم نواز کی سیاست؟

مگر مریم کو تو اسٹیبلش منٹ پہلے دن سے انتہائی ناپسند کرتی ہے۔ ڈان لیکس کا سارا ملبہ اسی پر تو ڈالا گیا تھا۔ تیسری بار وزیر اعظم ہاؤس سے جیل جانے کی ذمہ داری بھی مریم پر ڈالی جاتی ہے۔ چودھری نثار سے نواز شریف کی ناراضی کی ایک بہت بڑی وجہ، مریم ہی تو تھیں۔ شہباز شریف اور حمزہ سے اختلاف کی کہانیاں بھی ابھی اتنی پرانی نہیں ہوئیں۔ مریم تو پہلے ہی مقتدر حلقوں کی ناپسندیدہ ہے۔ سول ملٹری تعلقات پر اس کی رائے کسی سے ڈھکی چھپی تو ہے نہیں۔ اس کے بعد اور کیا باقی ہے، جسے کھونے کا ڈر ہو؟ ہیں جی۔

2۔ کاروباری مفادات؟

تین دفعہ تو نواز شریف اور شریف خاندان کے کاروبار پر ریاست پاکستان نا جائز قبضہ کر چکی ہے، جس کی وجہ سے اب ان کا کوئی کاروبار پاکستان میں ہے ہی نہیں۔ بھٹو سے جنرل مشرف تک بار بار اپنا کاروبار برباد کروانے کے بعد، آخر کار میاں صاحب کے بچوں نے سارا کاروبار مڈل ایسٹ اور برطانیہ منتقل کر دیا۔ پیچھے جو کچھ پراپرٹی ہے اس پر بھی کئی بار قبضہ ہو چکا ہے۔ اگر دوبارہ بھی ہو جائے تو کون سی نئی بات ہے؟ ویسے بھی ماڈل ٹاؤن کے گھر اور جاتی عمرہ کے علاوہ جو کچھ شیئرز، چند ایک ملوں فیکٹریوں میں ہیں، وہ پورے کاروباری حجم کا پچیس فی صد بھی نہیں۔ اس لئے کون سا کاروباری مفاد ایسا باقی ہے، جسے کھونے کا کوئی ڈر ہو؟ ہیں جی؟

3۔ سیاست پر پابندی؟

میاں صاحب تو پہلے ہی سزا یافتہ مجرم ہیں۔ کسی بھی سرکاری عہدے کے لئے وہ پہلے ہی نا اہل ہیں۔ ایک نا اہل کے لئے کوئی پابندی کیا معنی رکھتی ہے۔ ہیں جی؟

4۔ پارٹی کا خاتمہ

اگر ایک مرتبہ پھر پارٹی عہدیداران، کارکن اور ارکان اسمبلی جیل میں ڈال بھی دیں یا ان کی وفا داری بدل بھی دیں (جو قانونی وجوہ کی بنا پر ممکن نہیں) تب بھی اس سے میاں صاحب کو کیا فرق پڑے گا؟ چوں کہ مشرف دور میں یہ سب کچھ تو ہو ہی چکا ہے۔ ویسے بھی پاکستانی سیاست میں یہ سارے ارکان اور کارکن تو پیادوں جیسی اہمیت بھی نہیں رکھتے۔ جب میاں صاحب پاور میں تھے، تو پوری فوج ظفر موج وزیروں مشیروں اور سینیٹرز کی تھی۔ کیا وہ میاں صاحب کو نا اہل ہونے سے بچا سکی؟ نہیں نا۔ تو اب کون سی قیامت آ جائے گی؟ اگر مشرف دور میں واپسی کے بعد، چند ہفتوں کی سیاسی مہم کے بعد، میاں صاحب پنجاب میں صرف ووٹ کی طاقت سے حکومت بنانے میں کامیاب ہو گئے، تو اب کون سی قیامت آ گئی؟ یہ کام وہ دوبارہ بھی کر لیں گے۔ ہیں جی؟

5۔ میڈیا سے بلیک آؤٹ

بھائی لوگ ایک بات تو بتاؤ۔ جب نا اہلی کے بعد میاں صاحب مری سے اسلام آباد واپس آئے اور راستے میں ایک جم غفیر اکٹھا ہو گیا، کیا وہ میڈیا پر اعلان کرنے کی وجہ سے ہوا تھا؟ اور جب اسلام آباد سے لاہور آنے کے لئے میاں صاحب نے جی ٹی روڈ سے سفر کا ارادہ کیا، تو کیا میڈیا نے لوگوں کو بتایا تھا کہ جی ٹی روڈ انسانی سروں سے کالا کر دو؟ ہیں جی؟ یہ میڈیا والوں کو کب عقل آئے گی کہ جن میں اتنی جرآت نہیں کہ ایک انجانی فون کال پہ جب یہ پریس کانفرنس کا بائیکاٹ کر دیتے ہیں۔ مختلف لفظوں کو سنسر کر دیتے ہیں۔ آواز کو میوٹ کر دیتے ہیں۔ تو اس سے ان کی کمزوری اور بے وقعتی ثابت ہوتی ہے۔ اتنے کمزور اور بے وقعت کیسے اس خوش گمانی کا شکار ہو جاتے ہیں کہ جیسے ان کے بغیر سیاستدان سیاست نہیں کر پائے گا!

جب بی بی شہید لاہور ایئرپورٹ اتری اور پورا لاہور ان کے استقبال کے لئے امڈ آیا، تو کیا اس وقت پی ٹی وی نے یہ اعلان کیا تھا کہ آ جاؤ بی بی آ گئی ہے؟ گرو اپ کڈز، گرو اپ. میڈیا کسی کھیت کی مولی نہیں۔ اگر ہوتی تو کم از کم اپنے کارکنوں کی تنخواہوں کا بندوبست تو کر ہی لیتا۔ جس سے اپنے کارکنوں کے دکھ کا مداوا نا ہو پایا، کیا وہ پاکستانی سیاست کا رخ متعین کریں گے۔ ہیں جی؟

تو اگر میاں صاحب کے پاس کھونے کے لئے کچھ ہے ہی نہیں، تو پھر کون ہے کہ جس کی ٹانگیں کانپ رہی ہیں؟ اگر اس بات کا جواب آپ کو مل جائے، تو پھر اس بات کا جواب بھی مل جائے گا کہ کھونے والا اپنا سب کچھ پہلے ہی کھو چکا ہے۔ اب باری کسی اور کی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •