نئے انتخابات کا مطالبہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حزب اختلاف کی جماعتوں سمیت بہت سے اہل دانش یہ سمجھتے ہیں کہ ملک کے موجودہ سیاسی بحران کا حل نئے انتخابات کا راستہ ہے۔ اس طبقہ کے بقول ملک میں نئے منصفانہ اور شفاف انتخابات ہی بحران کو حل کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ اس سوچ اور فکر کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ملک میں 2018 کے انتخابات شفاف نہیں تھے۔ اس طبقہ کے بقول موجودہ حکومت عوام کے ووٹوں کی بنیاد پر نہیں بلکہ یہ مینڈیٹ اسے اسٹیبلیشمنٹ کی حمایت کی وجہ سے ملا ہے۔

یہ ہی وجہ ہے کہ موجودہ حکومت کے مینڈیٹ کو حزب اختلاف کی سیاسی جماعتیں قبول کرنے سے انکاری ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہماری سیاسی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو سیاسی قوتوں سمیت اہل دانش کا ایک بڑا طبقہ ہمیشہ سے سیاسی بحران کی وجوہات یا محرکات کو سمجھنے کی بجائے قبل از وقت انتخابات ہی کو مسئلہ کا حل سمجھتا ہے۔

ہماری سیاسی تاریخ کا ایک المیہ یہ بھی کہ اس ملک میں ہر انتخابات کی حیثیت شفافیت پر مبنی نہیں سمجھی جاتی۔ کیونکہ جیتنے والے انتخابی نتائج کو شفافیت کی بنیاد پر سمجھتے ہیں، جبکہ اس کے برعکس ہارنے والی سیاسی جماعتیں اپنی شکست کو قبول کرنے کی بجائے اسٹیبلیشمنٹ پر الزامات کی بوچھاڑ کر کے خود کو شفافیت کی سیاست کے ساتھ جوڑتی ہیں۔ اسی سوچ اور فکر کی بنیاد پر ہارنے والی سیاسی جماعتیں انتخابی نتائج کی قبولیت کی بجائے ”انتخابی دھاندلی“ کے خلاف آواز اٹھاتی ہیں۔

یہ ہی حکمران جماعتیں جو مختلف ادوار میں اقتدار کی سیاست کا حصہ بنتی ہیں تو یہ انتخابات کی شفافیت کے حوالے سے نئی اصلاحات سمیت الیکشن کمیشن کو خود مختار اور با اختیار بنانے کے لیے تیار نہیں ہوتیں۔ سیاسی حکومتیں عمومی طور پر الیکشن کمیشن سمیت دیگر انتخابی اداروں کو کمزور کر کے اپنے سیاسی ایجنڈے یا نتائج کو تقویت دیتی ہیں۔ اسٹیبلیشمنٹ کا کردار بھی انتخابی سیاست میں بہت حد تک موجود ہے اور سیاسی جماعتیں ان ہی کی مدد سے اپنے لیے سیاسی یا انتخابی میدان میں اپنا سیاسی اقتدار میں حصہ تلاش کرنے کی کوششوں کا حصہ ہوتی ہیں۔

عمران خان کی جماعت پی ٹی آئی یا عوامی تحریک نے جب 2014 میں انتخابی دھاندلیوں کے خلاف ایک بڑا سیاسی دھرنا اسلام آباد میں دیا تھا تو اس کے نتیجے میں دو پہلو سامنے آئے تھے۔ اول انتخابی دھاندلیوں کا جائزہ لینے کے لیے جو عدالتی کمیشن بنا اس کے نتیجے میں مجموعی طور پر بیالیس ایسے نکات سامنے آئے تھے جو انتخابی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کرتے تھے۔ سپریم کورٹ کے بقول حکومت اور الیکشن کمیشن ان بیالیس بے ضابطگیوں کے خاتمہ میں اپنا کردار ادا کرے تاکہ اگلے انتخابات میں ان بے ضابطگیوں کا ازالہ ممکن ہو سکے۔

دوئم اس وقت کی مسلم لیگ نون کی حکومت نے دھرنے کی وجہ سے انتخابی اصلاحات کے لیے ایک بڑی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جس میں دیگر جماعتوں سمیت پی ٹی آئی کی جماعت بھی شامل تھی۔ لیکن 2018 کے انتخابات میں نہ تو ان بے ضابطگیوں پر کوئی قابو پایا جا سکا اور نہ ہی پارلیمانی کمیٹی کی منظوری سے بننے والی انتخابی اصلاحات کا کوئی نتیجہ نکل سکا۔

اس لیے حزب اختلاف کا یہ نیا نعرہ کہ ملک میں عمران خان کی حکومت کو ختم کر کے فوری طور پر نئے انتخابات کا راستہ اختیار کیا جائے بھی ایک جذباتی یا سیاسی مفاد پرستی کا نعرہ ہی ہے۔ کیونکہ اس بات کی کون ضمانت دے گا کہ یہ سب جماعتیں جو انتخابات میں حصہ لیں گی وہ ملک میں نئے انتخابات کے نتائج کو قبول کر لیں گی۔ مثال کے طور پر آج کی حزب اختلاف یا حکمران جماعت جیت یا ہار کی صورت میں انتخابی نتائج کو قبول کر لیں گی؟ اسی طرح اس بات کی ضمانت کون دے گا کہ موجودہ الیکشن کمیشن یا اس سے جڑے ادارے ملک میں شفاف انتخابات کو یقینی بنائیں گے۔ اس لیے یہ امکان بدستور موجود رہے گا کہ جب بھی نئے انتخابات ہوں گے تو ہارنے والی جماعت انتخابی دھاندلی کا سیاسی نعرہ بلند کر کے پورے مینڈیٹ کو ہی چیلنج کردے گی۔

بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے یہاں نہ تو سیاسی اور جمہوری کلچر یا روایت مضبوط ہو سکی اور نہ ہی آئینی، انتظامی اور قانونی بنیادوں پر ہم شفاف نظام کو یقینی بنا سکیں ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ملک کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے پوچھا جائے کہ جو انتخابات انہوں نے جیتے ہیں کیا وہ شفاف اور اسٹیبلیشمنٹ کی مداخلت سے پاک تھے تو ان کے بقول ایسا ہی تھا۔ اس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ ہماری سیاسی ڈکشنری میں عملاً شفاف انتخابات سے مراد محض ہمارا انتخاب جیتنا ہوتا ہے۔ اسی طرح یہ بات بھی ریکارڈ پر موجود ہے کہ اسٹیبلیشمنٹ کی مداخلت کے علاوہ خود سیاسی جماعتیں اپنے زور بازو کی بنیاد پر جہاں تک ہو سکتا ہے کہ انتخابی نظام میں دھاندلی نہ صرف کرتی ہیں بلکہ اپنے کارکنوں کی حمایت کرتی ہیں جو ان کے لیے ناجائز طور طریقے اختیار کرتے ہیں۔

اس لیے جو لوگ بھی اس وقت نئے انتخابات کو مسئلہ کا حل سمجھتے ہیں وہ سیاسی بحران کو حل کرنا کم اور عمران خان کی حکومت یا جماعت سے زیادہ جان چھڑانا چاہتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ نئے انتخابات کی صورت میں ہی عمران خان سے جان چھٹ سکتی ہے۔ ان جماعتوں کے پاس کوئی ایسا منصوبہ یا متبادل نظام یا اس کا خاکہ موجود نہیں کہ کیسے ملک میں شفاف انتخابات ہوسکتے ہیں۔ بقول نواز شریف کے جب اس ملک میں انتخابات سے قبل ہی سیاسی نتائج تیار کر لیے جاتے ہیں اور اس میں بڑا کردار اسٹیبلیشمنٹ کا ہوتا ہے تو پھر یہ سارا کھیل نئے انتخابات کی صورت میں بھی تو قوم کو بھگتنا پڑ سکتا ہے۔ حزب اختلاف کی یہ معصوم سی خواہش ہوگی کہ جب بھی نئے انتخابات ہوں گے تو ان کی نظر میں ہمیں اسٹیبلیشمنٹ کا کوئی کردار نظر نہیں آئے گا۔

اگر واقعی حزب اختلاف سیاسی بحران کو ختم کرنا چاہتی ہے اور ریاستی و ادارہ جاتی نظام کو آئینی اور سیاسی دائرہ کار میں چلانا چاہتی ہے تو اس کے لیے اس کا مطالبہ نئے انتخابات نہیں بلکہ ایک جامع اصلاحاتی پروگرام ہونا چاہیے۔ حزب اختلاف اس نظام کو شفاف بنانے کے لیے جو ایجنڈا رکھتی ہے وہ قوم کے سامنے پیش کرے اور اسے ایک بڑے سیاسی مکالمہ کے ساتھ جوڑے۔ اس وقت ہمیں چھ بنیادی نوعیت کے مسائل درپیش ہیں۔ اول شفاف انتخابات کیسے ہوں گے، دوئم حکمرانی کا سنگین نوعیت کا بحران، سوئم معاشی بدحالی اور بڑھتی ہوئی خوفناک سطح کی مہنگائی، چہارم کرپشن اور بدعنوانی پر مبنی سیاست اور احتساب کا فقدان، پنجم اداروں کی اصلاحات جس میں بیوروکریسی، ایف بی آر، پولیس اور انتظامی سطح سے جڑے ادارے، ششم اسٹیبلیشمنٹ کے کردار کو محدود کرنا اور سول بالادستی کا قیام شامل ہیں۔ اسی طرح سے خارجی سطح پر علاقائی ممالک سے تعلقات جن میں بھارت، افغانستان، ایران، چین، ترکی، سعودی عرب اور امریکہ سے معاملات میں کامیاب حکمت عملیاں درکار ہیں۔

ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ یہاں حکومت اور حزب اختلاف میں بداعتمادی کا ماحول ہے اور کوئی ایک دوسرے کے وجود کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ ایسے میں مکالمہ، اصلاحات اور ملک کی اصلاح کا ایجنڈا بہت پیچھے چلا جاتا ہے۔ اس لیے نئے انتخابات کے مطالبہ سے زیادہ ہماری ضرورت ملک کے سیاسی اور انتظامی نظام میں اصلاحات کا عمل ہے اور جو روایتی انداز سے نہیں بلکہ کڑوی گولی سے ہوگا اور اس کے لیے ہمیں غیر معمولی اقدامات اٹھانے ہوں گے اور سیاسی تماشوں پر مبنی سیاست کو خیر آباد کہنا ہوگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •