سی سی پی او لاہور عمر شیخ۔ کیا حقیقت کیا فسانہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لاہور میں عمر شیخ کی سی سی پی او تعینات ہوتے ہی جو الزامات کی دھول اڑی اس میں حقائق گم ہو کر رہ گئے۔ ان پہ الزام لگا کہ انہوں نے ماتحتوں کے اجلاس میں سابق آئی جی پنجاب شعیب دستگیر کے آرڈرز نہ لینے کے احکامات جاری کیے۔ اک الزام یہ بھی لگا کی ان کے خلاف آئی بی کی رپورٹ موجود ہے اور ان کو سینئیر پولیس آفیشلز کے بورڈ نے پروموٹ ہونے سے روک دیا۔ نون لیگ نے بھی بہت شور مچایا کہ عمر شیخ سیاسی ایجنڈے پہ آئے ہیں۔

عمر شیخ صاحب رحیم یار خان کے سرائیکی کاروباری خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ پڑھائی کی غرض سے لاہور آئے اور مقابلے کے امتحان کے بعد پولیس فورس کو جوائن کیا۔ سندھ کے مختلف شہروں میں سروس کے بعد یہ ڈی پی او سرگودھا تعینات ہوئے۔ آئی میں ڈائریکٹر فیلڈ آپریشن رہے اس دوران انہوں نے بہت کامیاب آپریشن کیے جس کی بنا پہ انہیں امریکہ بھیجا گیا۔ عمر شیخ نے وہاں ایف بی آئی اور سی آئی اے کے ساتھ کام کیا وہاں انہوں نے امریکی پولیسنگ نظام کو سمجھنے کے لیے بہت محنت کی۔ اس محنت کو دیکھتے ہوئے ولیم جبرالٹر نے ان کو ڈیجیٹل فرانزک میں ڈپلومے کا مشورہ دیا کہ آئندہ پولیسنگ آئی ٹی بیس ہو گی۔

عمر شیخ کہتے ہیں جب یہ ڈی پی او سرگودھا تعینات تھے تو یہ نظر میں آ گئے کیونکہ یہ کسی لابی کا حصہ نہیں تھے۔ ان کے سپارک کو دیکھتے ہوئے ان کے خلاف سازشوں کا آغاز کیا گیا۔ وہ کہتے ہیں کہ جان بوجھ کر ان کے خلاف آئی بی کی رپورٹ بنوائی گئی۔ رپورٹ بنانے والے نے ان کے پاس آ کر معافی مانگی کہ مجھ پہ دباؤ ڈالا گیا کہ ان کی رپورٹ میں یہ یہ چیزیں ڈالو۔

2013 میں اسی رپورٹ کی بنا پہ ان کا پہلا سی ایس بی ہوا۔ اس سینٹرل سلیکشن بورڈ نے ان کے گریڈ انیس سے بیس پروموشن کا فیصلہ کرنا تھا۔ اس وقت ملک آصف حیات اس بورڈ کو چئیر کر رہے تھے جن کے انڈر عمر شیخ صاحب کام کر رہے تھے۔ انہوں نے آئی بی کی رپورٹ کو رد کرتے ہوئے ان کی پروموشن کر دی کہ عمر شیخ میرے انڈر کام کر چکا ہے اور میں اس رپورٹ کی حقیقت کو بھی جانتا ہوں۔ اب بیس سے اکیس گریڈ میں پروموشن بورڈ میں اس پرانی رپورٹ کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہونی چاہیے تھی۔

بورڈ میں کیپٹن اکبر درانی نے مبینہ طور پر ذاتی وجوہات پہ ان کی مخالفت کی اور شعیب دستگیر کو بھڑکایا کہ ان کی پروموشن نہیں ہونی چاہیے۔ اکبر درانی کے کہنے کے باوجود عمر شیخ صاحب نے میرٹ پہ فیصلہ کرتے ہوئے عمر بٹ نامی شخص کے مبینہ طور پر ناجائز پرچے کو خارج کر دیا۔

خود اکبر درانی پہ نیب کیسز ہیں اس بورڈ کے فیصلے کے خلاف عمر شیخ عدالت میں گئے ہوئے ہیں۔

عمر شیخ صاحب جب آر پی او ڈیرہ غازی خان تھے تو انہوں نے یہاں آ کر کئی کئی برسوں سے جمے ہوئے افسران و اہلکاران کے تبادلے کیے۔ اور انقلابی اصلاحات کیے اس بنا پہ سردار عثمان بزدار نے ان کو لاہور کی ذمہ داری دینے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے چارج سنبھالتے ہی اپنے روایتی طریقہ کار سے پولیس کے احتساب اور عوام کے اعتماد کی بحالی کے لیے اقدامات شروع کر دیے۔ ان اقدامات سے گھبرا کر کچھ پولیس افسران نے سابق آئی جی شعیب دستگیر کے کان بھرنا شروع کر دیے۔ عمر شیخ صاحب نے اپنے تئیں شعیب دستگیر کا دل صاف کرنے کی کوشش بھی کی مگر معاملہ حل نہ ہو سکا۔ اس وجہ سے شعیب دستگیر کو جانا پڑا۔ عمر شیخ نے سو دن میں لاہور کو تبدیل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

پولیس میں جدید ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے کرائم فائٹنگ کے لائحہ عمل پہ عمل کرنے کے ساتھ ساتھ یہ پولیس پہ سخت چیکنگ کر رکھی ہے۔

ٹھوکر نیاز بیگ پہ پولیس ناکے سے دو سو میٹر دور ڈکیتی کا اک واقعہ ہوا۔ جب متاثرہ شخص پولیس کے پاس پہنچا تو پولیس کا جواب تھا کہ یہاں تو روز ڈکیتیاں ہوتی ہیں۔ متعلقہ تھانے کا سب انسپکٹر پہنچا اور گاڑی میں بیٹھے نوجوان کو کہا کہ ڈکیتی ہونے والے موبائل و لیپ ٹاپ وغیرہ کی رسیدیں مل جائیں تو آ جانا ورنہ گھر جا کر سکون کرو۔ عمر شیخ نے ان اہلکاروں کو حوالات میں بند کر دیا۔ اس کے علاوہ اک ڈی ایس پی اور ایس ایچ او کو نجی ٹارچر سیل میں ملزمان پہ تشدد اور رشوت طلب کرنے کی پاداش میں حوالات میں بند کر دیا۔ عمر شیخ مختلف نمبر سے 15 پہ کال کر کے پولیس کی کارکردگی جانچنے کے علاوہ لاہور کے تھانوں میں اچانک دوروں کا سلسلہ بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ن لیگ کے الزامات اور لیگی رہنما محسن رانجھا کے تابڑ توڑ حملوں پہ عمر شیخ صاحب کا کہنا تھا کہ سرگودھا میں ان کے بھائی کو غیر قانونی گاڑیوں سمیت پکڑا تھا اور قانون کے مطابق کارروائی کی تھی۔ کیپٹن صفدر نے بھی عمر شیخ کو کال کر کے اپنے تحفظات سے آگاہ کیا جس پہ عمر شیخ نے کسی قسم کے سیاسی ایجنڈے کے وجود سے انکار کیا۔
عوام لاہور پولیس میں اچانک پھرتیوں کو عمر شیخ فارمولے کا نتیجہ قرار دیتے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ عمر شیخ سو دنوں میں واقعی لاہور تبدیل کر دیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •