انقلاب اور انقلاب نما تبدیلیوں میں فرق

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کہتے ہیں کسی جگہ کبوتر بازی کا مقابلہ ہو رہا تھا، سب لوگ اپنے اپنے کبوتر مقابلے میں اڑانے کے لیے لائے ہوئے تھے، لیکن ایک شخص اسی مقابلے میں اپنا گدھا لے کر آ گیا۔ لوگ حیران ہوئے اور گدھے کے مالک سے پوچھا کہ کبوتر بازی کے مقابلے میں تم گدھا کیوں لے کر آ گئے؟ اس شخص نے نہایت اعتماد سے جواب دیا کہ یہ گدھا ہے، سوجھ بوجھ تو نہیں رکھتا، کبوتروں کو اڑتا دیکھ کر شاید یہ بھی اڑنے لگے۔

یہی صورتحال ہماری ہے، بحیثیت قوم ہمارا ایمان ہے کہ ہمارا گدھا بھی کبوتروں کے ہمراہ اڑے گا اور اس ایمان کامل کا نتیجہ یہ ہے کہ اس قوم نے ہر نظام اور ہر حکمران سے یہ سوچ کر دم باندھے رکھی کہ اب تو ترقی و خوشحالی ہمارا مقدر بن کے رہے گی۔ اس قوم کے سامنے ہر سیاسی و اجتماعی تبدیلی کو بنام انقلاب متعارف کروایا جاتا رہا اور یہ قانع و شاکر قوم ہمیشہ انقلاب کے نام پر دھوکا کھاتی رہی۔

قارئین کی خدمت میں انقلاب کی تعریف اور اہم خصوصیات گزشتہ تحریروں میں پیش کی جا چکی ہیں۔ اب ہم چاہتے ہیں کہ قارئین کے سامنے علمی بنیادوں پر انقلاب اور انقلاب نما اجتماعی تبدیلیوں میں فرق کو بیان کریں، تا کہ انقلاب خواہ طبقہ، ہر اجتماعی و سیاسی تبدیلی کو انقلاب سمجھ کر دھوکا نہ کھائے بلکہ فقط انقلابی اصولوں اور خصوصیات کی روشنی ہی میں اجتماعی حرکت کا آغاز کرے۔

اصلاحات، تحریکیں، کودتا، بغاوتیں، یا سول نا فرمانی اور داخلی جنگوں کے نتیجے میں رونما ہونے والی سیاسی و اجتماعی تبدیلیاں انقلاب نہیں کہلاتیں۔ ہو سکتا ہے ان اجتماعی رودادوں کے اندر انقلاب کی ایک یا ایک سے زیادہ خصوصیات پائی جاتی ہوں لیکن ان میں سے کوئی بھی انقلاب کے ساتھ صد فی صد نظریاتی و عملی ہم آہنگی نہیں رکھتا۔ مندرجہ بالا تمام اجتماعی رودادیں اپنی اپنی جگہ ایک باقاعدہ علمی موضوع ہیں، جن کے وقوع پذیر ہونے کے اسباب و نتائج بھی لٹریچر کے اندر موجود ہیں لیکن ہم یہاں ایک ایک کر کے ان اجتماعی رودادوں کی اہم خصوصیات بیان کریں گے تا کہ قارئین کے سامنے انقلاب اور انقلاب نما اجتماعی روداد میں فرق واضح کیا جا سکے۔

اصلاحات کے اندر کبھی بھی ناگہاں تبدیلی واقع نہیں ہوتی بلکہ تدریجاً تبدیلی رونما ہوتی ہے، جب کہ انقلاب کی تعریف میں یہ شامل ہے کہ انقلابی تبدیلی نا گہاں وقوع پذیر ہوتی ہے۔ اصلاحات میں جزوی تبدیلیاں سامنے آتی ہیں، مثلاً کسی بھی ایک اجتماعی شعبے یا چند اجتماعی شعبہ جات کے اندر تبدیلی لائی جاتی ہے، جب کہ انقلاب کلی تبدیلی کا نام ہے، جہاں تمام اجتماعی شعبہ جات (سیاسی، تعلیمی، عدالتی، اقتصادی، ثقافتی) میں تبدیلی رونما ہوتی ہے۔

اصلاحات کا عمل حکمرانوں کی طرف سے عملی کیا جاتا ہے، ہو سکتا ہے عوام کے پر زور مطالبے پر یہ اصلاحات انجام دی گئی ہوں، لیکن عملی طور پر عوام کو ان اصلاحات کے اندر کوئی بھی اختیار حاصل نہیں ہوتا۔ لہذا ہم کہہ سکتے ہیں کہ اصلاحات اوپر سے نیچے لائی جانے والی تبدیلیوں کا نام ہے، جب کہ انقلاب ہمیشہ عوامی سطح سے آغاز ہوتا ہے اور تمام تبدیلیوں کی زمام، عوام ہی کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ اصلاحات کا عمل ہمیشہ قانون و آئین کے دائرے میں انجام پاتا ہے، ممکن ہے کسی قرارداد کے ذریعے پہلے کسی قانون کے اندر تبدیلی لائی جائے اور پھر اس قانون کے مطابق، اصلاحات کو عملی کیا جائے، لیکن کبھی بھی اصلاحات قانون و آئین کے دائرے سے باہر نہیں جاتیں۔

اصلاحات کے اندر شدت نہیں پائی جاتی بلکہ مسالمت آمیزی کے ساتھ اجتماعی تبدیلی کو لانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ تمام خصوصیات واضح طور پر تعریف و خصوصیات انقلاب سے متصادم ہیں، لہذا اصلاحات کو انقلاب سمجھنا حماقت ہے۔ اکثر جگہوں پر عوامی دباؤ کو کم کرنے اور معترض طبقے کو خاموش کروانے کے لیے بھی اصلاحات متعارف کروا دی جاتی ہیں، جب کہ کچھ جگہوں پر حقیقی اصلاحات بھی وقوع پذیر ہوئی ہیں۔ مثلاً چین کے اندر عوامی مطالبات نہ ہونے کے باوجود اقتصادی اصلاحات متعارف کروائی گئیں اور ان اصلاحات پر عمل پیرا ہو کر چین آج دنیا کی اقتصاد پر غالب آ چکا ہے۔

کسی خاص ہدف کے حصول کے لیے دراز مدت اجتماعی کوشش تحریک کہلاتی ہے۔ تحریک کسی ذہنی حالت کا نام نہیں ہے بلکہ اس کوشش کا عملی شکل میں ہونا لازمی ہے۔ تحریک خود انقلاب نہیں ہوتی بلکہ بذات خود ایک نظریاتی و عملی حقیقت ہے، جس کے اسباب و عوامل، قوانین کا مطالعہ کسی طور بھی انقلاب کو سمجھنے سے کم نہیں ہے۔ کیوں کہ انقلاب ایک تحریک ہی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ پاکستان اس وقت مشکلات میں گھرا ہوا ملک ہے، ان مشکلات سے نکلنے کے لیے کن چیزوں کی ضرورت ہے؟

بد قسمتی سے ہم جو کام کر رہے ہیں ان کی ضرورت ہی نہیں اور جن اقدامات کی ضرورت ہے، ان کی نسبت شعور موجود نہیں ہے۔ شاید یہی روش ہمارا سب سے بڑا المیہ ہے۔ پاکستان کو ان مشکلات سے نجات پانے کے لیے قرضوں کی ضرورت نہیں، عالمی و ملکی قراردادوں کی ضرورت نہیں، انتخابات اور سیاسی پارٹیوں کی ضرورت نہیں ہے بلکہ ایک دراز مدت تحریک کی ضرورت ہے۔ اس بنیادی تحریک کے سائے میں بیک وقت علمی، فکری، ثقافتی تحریکیں اپنے لوازمات کے ساتھ جاری ہوں، تب یہ ملک مشکلات سے نجات پا سکتا ہے۔

تحریک بنے بنائے راستوں پر چلنے کا نام نہیں ہے۔ تحریک اپنے راستے خود بناتی ہے اور ایک سے دوسرے مرحلے میں منتقل ہوتی چلی جاتی ہے۔ تحریک ایک مسلسل اور ان تھک تگ و دو کا نام ہے، انقلاب در حقیقت تحریک ہی کا فرزند ہوتا ہے، لیکن لازم نہیں کہ ہر تحریک کسی انقلاب پر منتج ہو۔ بعض اوقات تمام تر جد و جہد کے باوجود ایک تحریک انقلاب کی بجائے اصلاحات پر اختتام پذیر ہو جاتی ہے۔

(جاری ہے )

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •