ساہیوال میں ایک اور سانحہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عمر عزیز کی دوسری دہائی تھی اور اکیسویں صدی کے ابتدائی سال۔ گورنمنٹ ڈگری کالج برائے خواتین ساہیوال میں سال اول میں داخلہ ہوا، تو ساہیوال کے ایک نواحی گاؤں سے وین کے ذریعے کالج پہنچتے۔ اس وقت تو کبھی خیال بھی نہیں آیا تھا، لیکن آج کبھی فرصت میں ماضی کے ورق پلٹوں تو محسوس ہوتا ہے، کہ وہ بہت مشکل وقت تھا۔ سردی، گرمی ہر موسم میں گاؤں کے چوک میں وین جب پہنچتی، تو مسجد سے نمازی فجر کی نماز ادا کر کے نکل رہے ہوتے۔

وین ڈرائیور ہمارے گاؤں کے علاوہ راستے میں مزید دو گاؤں سے بھی طالبات لے کر ہمیں کالج پہنچاتا۔ واپسی پر یہی مشق پھر دہرائی جاتی۔ سال اول میں پہلے دن اور وین میں سفر کے بھی پہلے دن، جب اگلے گاؤں سے طالبات وین میں بیٹھیں، تو سال چہارم کی صوفیہ نام کی طالبہ سے بھی تعارف ہوا۔ وین صوفیہ کے گھر کے باہر کھڑی ہوتی، کیوں کہ یہ گاؤں کا چوک تھا۔ عام اور سادہ سا گھر مکینوں کی سفید پوشی کا گواہ تھا۔ گریجوایشن کے بعد صوفیہ نے ساہیوال سے ہی ایم کام بھی کیا۔ ایم۔ کام کرنے کے فوراً بعد اسے ساہیوال پوسٹ آفس میں ملازمت مل گئی۔ اوقات ملازمت مختلف ہونے کی وجہ سے صوفیہ نے وین چھوڑ دی تھی۔ اسی عرصے میں ایک دفعہ ملاقات ہوئی تو معلوم ہوا کہ اس نے ملازمت کے پہلے ایک، ڈیڑھ سال ہی میں محکمانہ امتحان پاس کر کے مزید ترقی کر لی ہے۔ پھر وقت کی گرد میں جیسے زندگی میں ملنے والے کچھ کردار دھندلا جاتے ہیں ایسے ہی صوفیہ بھی کبھی یاد نہیں آئی۔ کچھ یہ کہ بہت قریبی تعلق بھی نہیں تھا۔

اکیسویں صدی کی دوسری دہائی کا آغاز تھا جب پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز ہوا۔ کچھ سال بعد گورنمنٹ ڈگری کالج برائے خواتین ہڑپہ میں تبادلہ ہوا تو ایک مقامی سیاستدان، جو پنجاب اسمبلی میں ایم۔ پی۔ اے تھے، ان کو وقتاً فوقتاً کالج تقریبات میں مدعو کیا جاتا تھا۔ ایک دفعہ محفل میلاد میں ان کی دختر کو دعوت دی گئی۔ وہ تشریف لائیں اور میلاد میں شرکت کی، لیکن اگلے ہی دن ان کے والد محترم کا خفگی بھرا فون، کالج کی شریف النفس پرنسپل کو موصول ہوا۔ مدعا یہ تھا کہ ان کی بیٹی کو پروٹوکول نہیں دیا گیا۔ محترم ایم۔ پی۔ اے کے اصرار پر یہ طے پایا کہ کچھ دن بعد کالج میں ہونے والے جلسہ تقسیم انعامات میں ان محترمہ کو دوبارہ بلایا جائے گا اور بھر پور عزت و احترام سے نوازا جائے گا۔ کچھ نا گزیر وجوہ کی بنا پر یہ تقریب ملتوی ہو گئی۔

کچھ عرصے بعد کالج میں، ایک کلرک اور طالبہ کے درمیان غیر اخلاقی تحریری روابط سامنے آئے۔ موبائل اور انٹر نیٹ کے دور میں تحریری روابط کی وجہ تو مذکورہ افراد ہی جانتے ہوں گے، لیکن محترمہ پرنسپل اور کالج اساتذہ کی بھر پور کوشش کے باوجود، مذکورہ طالبہ اور کلرک کے خلاف کسی قسم کا کوئی ایکشن نہیں لیا جا سکا۔ کیوں کہ محترم ایم۔ پی۔ اے کے حلقہ انتخاب میں ہونے کی وجہ سے، وہ ان کے سایۂ عاطفت میں تھے۔ کالج کا اخلاقی تشخص اور اساتذہ کی عزت نفس جائے بھاڑ میں۔

وقت کے بہاؤ میں یہ کردار، کئی سال بعد دوبارہ پچھلے ہفتے نمودار ہوئے۔ ساہیوال جی پی او میں دن دیہاڑے صوفیہ قاسم نام کی جن خاتون افسر کو تھپڑ مارنے کا واقعہ پیش آیا، وہ آج سے تقریباً بیس سال پہلے کی وہی صوفیہ ہیں، جن کا میں پہلے ذکر کر چکی ہوں۔ نوید اسلم نام کا وہ شخص جو دن دیہاڑے پوسٹ آفس کی خاتون افسر کو تھپڑ مارنے کی قبیح حرکت کا مرتکب ہوا ہے اوپر مذکور سیاسی خاندان کے رویے کی یاد دلاتا ہے کیونکہ ان صاحب کو بھی یہ شکایت تھی کہ صاحب اقتدار پارٹی کے ضلعی انفارمیشن سیکرٹری ہونے کے باوجود ان کی شکایت کی مناسب شنوائی نہیں ہو رہی اور ان کو پروٹوکول نہیں دیا جا رہا۔

صوفیہ قاسم نے یقیناً اپنی محنت کے بل بوتے پر، اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں مزید ترقی حاصل کی ہو گی، کہ وہ اس وقت ساہیوال جی پی او میں سینیئر پوسٹ ماسٹر کے عہدے پر فائز ہیں۔ لیکن اس ملک کا عام آدمی محنت اور شرافت کے بل بوتے پر اپنی زندگی میں کچھ سکون لے بھی آئے، تو حکمران اور طاقتور کا ایک تھپڑ ہی بتا دیتا ہے، کہ تمہاری اوقات کیا ہے۔ اور اس حوالے سے مرد اور عورت کی کوئی تخصیص نہیں۔ صوفیہ کے صنف نازک ہونے کے ناتے سے یہ واقعہ زیادہ قابل مذمت ہے۔ مختلف حلقوں کی طرف سے واقعے کی مذمت بھی سامنے آئی ہے۔ مرد ہونے کی صورت میں اتنا بھی نہ ہوتا۔ کپڑے جھاڑ کر گھر روانہ ہوتا اور اگلے دن ڈیوٹی پر موجود ہوتا۔ اس ملک میں عام آدمی کی بس اتنی سی اوقات ہے۔

آج سے پندرہ، بیس سال پہلے ساہیوال ایک خاموش اور پرسکون شہر تھا، جو اب پنجاب کے دیگر شہروں کے مانند آبادی کے اضافے اور بد انتظامی کی وجہ سے سسک رہا ہے۔ پچھلے سال ساہیوال کی حدود میں ماں باپ کو ایک بیٹی سمیت باقی بچوں کے سامنے گولیوں سے بھون دیا گیا اور اب اس سال یہ تازہ ترین سانحہ ایک دفعہ پھر ساہیوال کا نام سامنے لے آیا ہے۔ اس طرح کے واقعات فرد کو ریاست کے اندر عدم تحفظ کا شکار کرنے سے بھی زیادہ یہ احساس پیدا کرتے ہیں کہ ریاست خود یہ احساس پیدا کرنے والی اہم سٹیک ہولڈر ہے۔ یہ عدم تحفظ کے احساس سے بھی زیادہ خطرناک بات ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •