خود کو بدلو، زندگی سنوارو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج کی نوجوان نسل جس راہ پر گامزن ہے، اس کا اسٹیشن کہاں ہے؟ کب آئے گا اور جب آئے گا۔ تو کیا وہی ان کی منزل بھی ہو گی؟ اگر ان سے پوچھا جائے تو وہ خود بھی یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے۔ کیوں کہ وہ خود نا معلوم منزل کی جانب گامزن ہیں۔ اگر ہم آج سے تیس چالیس سال پیچھے چلے جائیں اور پھر اس وقت کی نوجوان نسل سے یہ پوچھیں کہ وہ اپنے فارغ اوقات میں کیا کرتے ہیں؟ تو جہاں تک میرا اندازہ ہے لڑکیاں کہیں گی کہ مجھے کھانا پکانا پسند ہے۔ اس لیے فارغ وقت میں نئی ڈشز ٹرائی کرتی ہوں۔ کوئی یہ کہے گی کہ مجھے پکانا اچھا نہیں لگتا، ہاں سلائی پسند ہے۔ میں سلائی کر لیتی ہوں اس کے علاوہ دیگر لڑکیاں کہیں گی کہ انھیں کتابیں پڑھنا پسند ہے۔ نصابی کتابوں کے ساتھ غیر نصابی کتابیں بھی پڑھتی ہیں اور اس کے ساتھ اسکول کالج میں ہونے والی تقریری مقابلوں میں بھی شرکت کرتی ہیں۔

اسی طرح اگر کسی لڑکے سے پوچھا جائے تو وہ کہے گا، کرکٹ کھیلتا ہوں اور ویسے وقت ملتا کہاں ہے، ادھر کالج اور ادھر ابا کی دکان اور جو دکان نہیں جاتے ہوں گے، وہ بھی یہی کہیں گے، فارغ بیٹھنا اچھا نہیں لگتا۔ کتابیں پڑھتے ہیں اور کچھ نہیں تو اماں کے ساتھ گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹا لیتے ہیں۔ غرض یہ کہ اس نسل کو اس بات کا شوق تھا کہ تعلیم کہ علاوہ بھی ان کے پاس کوئی صلاحیت ہو تا کہ اگر تعلیم سے انھیں کامیابی حاصل نہ ہو، تو وہ اس صلاحیت کہ بل بوتے پر زندگی میں آگے بڑھ سکے اور کامیاب ہو سکیں۔

اگر آج کی نسل سے ہم یہ سوال پوچھیں کہ وہ فارغ وقت میں کیا کرتے ہیں، تو جواب ہو گا، فیس بک، واٹس ایپ استعمال کرتے ہیں۔ ایسے میں نا ان کے پاس لفظوں کا ذخیرہ ہوتا ہے، نہ وہ بات چیت کرنے کے سلیقے سے آشنا ہوتے ہیں۔ وہ جب ڈگری لے کر کسی کمپنی میں ملازمت کے غرض سے جاتے ہیں اور مارک شیٹ پر موجود نمبروں کے علاوہ ان کے اندر موجود صلاحیتوں کے بارے میں ان سے سوال کیا جاتا ہے، تو وہ جواب دینے سے قاصر ہوتے ہیں۔ اب ایک کمپنی کو آل راؤنڈر چاہیے جو ان کے گاہگوں سے ڈیل کر سکے۔ جب انھیں وہ صلاحیتیں ان میں نظر نہیں آتیں تو وہ ریجیکٹ کر دیتے ہیں۔ اب اندھوں میں کانا راجا ہوتا ہے، تو انھیں اپنا مطلوبہ امیدوار مل بھی جاتا ہے اور جنھیں ریجیکٹ کیا جاتا ہے وہ کرپشن، بد عنوانی اور رشوت کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔ حتی کہ حقیقت تو یہ ہے کہ وہ خود قصوروار ہوتے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ نوکری کے لیے نمبر اور ڈگری کافی ہوتی ہے۔

اگر آج ہم اپنے گھر میں کوئی ماسی رکھتے ہیں تو ہم اس ماسی کو رکھنا چاہتے ہیں، جو جھاڑ پونچھ کے علاوہ بھی کوئی کام کر سکے۔ تا کہ ہمیں آسانی ہو۔ بالکل اسی طرح ایک کمپنی بھی اپنے لیے بہت کچھ چاہتی ہے۔ اس لیے ضرورت تو اس بات کی ہے کہ سوشل میڈیا سے نکل کر اس دنیا میں آیا جائے، جس سے شخصیت نکھرتی ہے۔ کتابیں پڑھی جائیں، تقریری مقابلوں میں حصہ لیا جائے اور اس کے ساتھ خود کو کسی ہنر سے بھی آشنا کیا جائے۔ کیوں کہ ہنر مند انسان کبھی بھوکا نہیں مرتا۔ اس لیے نوکری نہ بھی ملے تب بھی زندگی میں ڈپریشن نہ ہو، بلکہ نعم البدل موجود ہو تا کہ زندگی پرسکون ہو۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •