زاہد کاظمی صاحب کا ”کتابی تحفہ“

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہری پور سے تعلق رکھنے والے زاہد کاظمی صاحب، ایک کتاب دوست آدمی ہیں۔ ان کی طرف سے تحفے میں مجھے چند ماہ قبل کچھ کتابیں موصول ہوئیں۔ ان میں سے ایک کتاب ”آغا سے آغا ناصر تک: عمر کہانی“ ہے، جو کہ آغا ناصر صاحب کی خود نوشت ہے۔ آغا ناصر صاحب نے ایک شاندار زندگی گزاری، جس کا واضح ثبوت 383 صفحات پر مشتمل ان کی دل چسپ آپ بیتی ہے۔

آغا ناصر صاحب کے حالات و واقعات زندگی پر مشتمل یہ کتاب، پورب اکادمی اسلام آباد نے شائع کی ہے۔ آغا ناصر صاحب لکھتے ہیں کہ میرے بہت سے ساتھیوں کا خیال تھا کہ کتاب کا پیش لفظ یا دیباچہ، جس نام سے بھی چاہیں آپ پکار لیں، ضروری ہے کہ اس کا حصہ ہو۔ دوست یہ بھی کہتے تھے کہ ملک کے نامور قلم کار یا نثر نگار سے یہ ابتدائیہ لکھوایا جائے گا! مگر سوچ بچار کے بعد میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ابتدائیہ لکھنے کے لیے کسی بھی بڑے ادیب یا قلمکار کی کوئی ضرورت نہیں، تعارفی صفحہ کے لئے چند الفاظ میں خود ہی لکھ دوں گا۔

دوسری کتاب ”زندگی کا انوکھا سفر“ ہے، جو محمد تاج لالہ نامی ایک سماجی کارکن اور مزدور رہنما کی سرگزشت ہے۔ اس آپ بیتی کے بارے میں چند سطور خود زاہد کاظمی صاحب نے بھی لکھی ہیں، وہ لکھتے ہیں :

تاج صاحب کی زندگی سبق آموز اور ہمت افروز واقعات سے بھر پور ہے۔ اس میں تو جوانوں کے لئے بہت سے حوصلہ افزا اسباق پنہاں ہیں۔ میری نظر میں یہ آپ بیتی کسی بھی زبان کی اس قبیل کی کتابوں میں دو وجوہات سے امتیاز رکھتی ہے۔

اول تو یہ کہ انہوں نے ہزارہ کی قدیم تہذیب، روایات اور سب سے بڑھ کر ہندکو زبان کے معدوم ہوتے الفاظ کو سپرد قلم کر کے انہیں ہمیشہ کے لئے عوامی یادداشت سے محو ہونے سے بچا لیا ہے۔

دوسرا امتیازی پہلو تکلیف دہ حد تک پہنچی ہوئی صاف گوئی ہے۔ تاج صاحب نے کمال حوصلے کا مظاہرہ کرتے ہوئے، ایسے ایسے واقعات بھی جزئیات سمیت لکھ ڈالے ہیں، جن کا ذکر تک ہم، آپ بس چلتا تو اپنی یادداشت سے کھرچ ڈالتے۔

تیسری کتاب ”پریشاں سا پریشاں“ ہے، جو کہ ”یہودیوں کا نسلی تفاخر“ اور ”محبت: تصور اور حقیقت“ جیسی کتابوں کے مصنف ڈاکٹر مجاہد مرزا صاحب کی خود نوشت ہے۔ سات سو سے زائد صفحات پر مشتمل کتاب کی دی گئی فہرست ہی کتاب کے دل چسپ ہونے کی روداد سناتی دکھائی دیتی ہے۔

حسب روایت ڈاکٹر مجاہد صاحب کو پبلشر سے شکوہ ہے، جن کے پاس 2006 ء سے 2016 ء تک کتاب ہذا کا مزار تھا اور وہ اس کی قبر کشائی کا مسلسل مژدہ سناتے رہے اور بالآخر 2017 ء میں جواب دیا، ”اب چھپوا لو، جہاں سے چھپوانی ہے۔“

ڈاکٹر مجاہد صاحب خود رقم طراز ہیں، ”میں نے آپ بیتی تحریر کر کے بہت سوں کو پہلے ہی ناراض کر لیا ہے، جو دو ایک بچ رہے ہیں، وہ تب بگڑ جائیں گے، جب یہ کتاب معروف ہو گی اور اسے پڑھنے والا کوئی شخص اپنے انداز میں، ان سے متعلق لکھی بات، نمک مرچ لگا کر انہیں بتا دے گا۔ مجھے کسی کی ناراضی کی پروا اس لیے نہیں ہو گی، کیوں کہ جو کچھ مجھے یاد تھا، میں نے انتہائی دیانت داری سے وہ لکھا۔“

محمد حسن معراج (انگلستان) کتاب کے بارے میں لکھتے ہیں : کتاب ختم ہوئی تو جیسے کرسٹل کا ایک گلاس ٹوٹ گیا۔ اس کی ہر کرچی میں اپنا عکس بہت سے حصوں میں بٹا دکھائی دیتا ہے۔ یہ حساب کی وہ مساوات ہے، جہاں 90 فی صد آپ کا دل چاہتا ہے کہ آپ مجاہد مرزا ہوتے اور 90 فی صد خواہش ہوتی ہے کہ بالکل بھی نہ ہوتے۔ پہلی بار حساب کی بنیادی سوجھ بوجھ رکھتے ہوئے، میرا دل چاہا کہ سو فی صد میں 180 ہوتے۔ مجاہد صاحب نے لکھا ہے کہ ان کی زندگی ایک عام آدمی کی زندگی ہے۔ کتاب پڑھیے اور خود بتائیے، بھلا ایسی بھرپور، پرخطر، دل آویز اور دل فگار کہانی، عام آدمی کی ہو سکتی ہے۔

دو مختصر سی کتابیں انگریزی زبان میں ہیں۔ ایک کتاب ”Whispers in the wind“ کے عنوان سے فاطمہ زہرا کی ہے اور دوسری Blossoms in Early Spring کے نام سے خصال زینب کی ہے۔ یہ کتابیں انگریزی نظموں اور چھوٹی چھوٹی کہانیوں پر مشتمل ہیں۔ بقول زاہد کاظمی، ان کتابوں کی لکھاری لڑکیاں کسی بھی اسکول نہیں گئیں بلکہ جو بھی علم حاصل کیا، وہ گھر پہ رہ کے کیا۔ دونوں کتاب بینی کے شوق کی بدولت وسیع علم رکھتی ہیں اور ان کتابوں کی صورت میں ان کی علمی کاوش قابل داد ہے۔

آخر میں بس اتنا: شکریہ کاظمی صاحب۔ خوش رہیں!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •