بلھا کیہ جاناں میں کون

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دوست! یہ بتانے میں آخر ہرج ہی کیا ہے کہ تم کون ہو اور کہاں سے وارد ہوئے ہو۔ بھئی! کیسے بتائیں، جب زندگی کے دھاگے ہی الجھے پڑے ہوں، تو ہم کون اور تم کون! لیکن خیر قصہ ہے تو کہنا ہی پڑے گا۔ لیں جناب!

جب پیدا ہوئے تو والدین نے ایک نام اور شناخت عطا کر دی۔ اس زمانے میں لوگ پوچھتے یہی تھے کہ میاں کس کے صاحب زادے ہو؟ اب اگر کوئی ابا حضور کو نہیں جانتا تھا، تو دادا کا پوچھ لیتا اور یوں میں کون کی وضاحت بھی پا لیتا۔ لیکن جیسے جیسے بڑے ہوتے گئے، شناخت کے دائرے بھی پھیلتے گئے۔ مجھے کچھ کچھ یاد ہے، جب پہلے دن سکول گئے تو استاد نے پوچھا کون ہو؟ ہم نے کہا فلاں کے بیٹے اور فلاں کے پوتے ہیں۔ کہنے لگے وہ تو ہمیں بھی پتا ہے مگر تم بتاؤ تم کون ہو؟

جب ہم سوال نہ سمجھ سکے، تو پاس بلا لیا اور شفقت سے سمجھایا کہ بیٹا تم مسلمان ہو۔ یوں ہم نئی شناخت سے واقف ہوئے اور آئندہ اپنے آپ کو مسلمان بتانے لگے۔ اسی دوران میں ناظرہ قرآن کے لیے مسجد جانا شروع کر دیا۔ ایک دن حضرت علامہ نے کہا، ہاں بھئی میاں حیدر کے صاحب زادے، تم بتاؤ کہ ہم سب کون ہیں؟ ہم نے جھٹ سے کہہ دیا کہ مسلمان۔ سب ہنسنے لگے، تو علامہ صاحب نے کہا کہ بیٹا! ہم سب سنی ہیں، اور یوں ہم سنی ہو گئے۔ اب ہم سے کوئی پوچھتا ہے کہ میاں کون ہو تم؟ تو ہم بتائے دیتے ہیں کہ فلاں کے بیٹے، فلاں کے پوتے مسلمان اور سنی ہیں۔

ایک دن یہی تعارف اپنے پروفیسر زمان بخاری سے کرایا، تو کہنے لگے کہ اس کا مطلب ہے کہ تم پاکستانی نہیں ہو! لہذا ہماری شناخت میں پاکستانی بھی شامل ہو گیا۔ اب ہم فلاں ابن فلاں مسلمان۔ سنی اور پاکستانی ہیں۔

خدا آپ کا بھلا کرے، بلوچستان سے خبر آئی ہے کہ وہاں پنجابی مزدوروں کو چن چن کر مار دیا گیا ہے۔ خبر نے ایک طرف تو افسردہ کر دیا، لیکن دوسری طرف حیران بھی کہ یہ پنجابی کیا ہے۔ دوست نے بتایا کہ پنجاب میں رہنے والے کو پنجابی; سندھ میں بسنے والے کو سندھی; بلوچستان میں آباد کو بلوچی; پختون خوا کے باسی کو پختون اور گلگت بلتستان والے کو بلتی کہتے ہیں۔ یوں ہم بھی سابق شناخت کے ساتھ پنجابی پاکستانی ہو گئے۔

”اساں لوک سرائیکی“ سن کر دوست خاصا پریشان ہو گیا اور یہ سوچنے لگا کہ علی پور کے ان مزدوروں کا کیا بنے گا، جنھیں پنجابی کہہ کر مار دیا گیا تھا۔

دوست کی پریشانی اپنی جگہ لیکن ہمیں بھی آج کل سمجھ نہیں آ رہا کہ آخر ہم ہیں کون! کوئی پوچھے تو اسے بتائیں تو کیا بتائیں؟ جب بتاتے ہیں کہ ہم فلاں ابن فلاں ہیں تو جائے سکونت پوچھی جاتی ہے۔ جب یہ بتا دیتے ہیں، تو پوچھا جاتا ہے کہ مقامی ہو یا مہاجر؟ جب کہتے ہیں کہ ہمارے دادا یہیں پیدا ہوئے تھے، لیکن ان کے والد انڈیا کی کسی ریاست سے آئے تھے تو پوچھنا والا خود ہی کہہ دیتا ہے، اچھا یوں کہو کہ تم مہاجر ہو اور مہاجروں کا کیا بھروسا۔ وغیرہ۔

یہ سلسلے یوں ہی چلتے رہے اور ہم کبھی مقامی اور کبھی مہاجر، کبھی چشتی اور کبھی قادری بنتے چلے گئے۔ یہاں تک کہ ہم سے ہمی چھین لیا گیا اور اب ہم سب کچھ تو ہیں لیکن ہم نہیں ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
غلام عباس سمرا کی دیگر تحریریں