حقیقت عشق

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کبھی کبھی میں تنہا بیٹھی ہوں، تو سوچتی ہوں کہ یہ عشق ہے کیا؟ اک جنوں، اک جذبہ، اک تڑپ، اک پاگل پن یا پھر محض احساس؟ کیا کسی چیز کی جستجو میں حد سے گزر جانا عشق ہے؟ یا کسی کی خواہش دل میں رکھ کے دنیا کا دستور نبھانا عشق ہے۔

اگر عشق اک منزل ہے تو سفر اور راہ کے کیا نام ہیں؟ اگر عشق زندگی ہے تو کیا اس کا اعتبار کیا جا سکتا ہے؟ اگر عشق عبادت ہے تو کیا اس کے اوقات مقرر ہیں؟ اگر عشق دھڑکن ہے تو موت کے ساتھ فنا ہو جائے گی؟ اگر عشق معشوق کی طلب ہے تو مطلوب کے ملنے سے عشق بے معنی ہو جائے گا؟ اگر عشق مجاز سے ہے تو کیا یہ جذبہ جسم کا جسم سے ہے یا روح کا روح سے؟ اگر جسم فانی ہے تو عشق لافانی؟ کیا فانی کا لافانی سے ملاپ ہے؟ اگر عشق سچا جذبہ ہے، تو پھر اتنا خود غرض کیوں ہے، جو بس معشوق کا طلب گار ہے اور کوئی نظر ہی نہ آئے؟!

اکثر سوچتی ہوں کہ صرف ایک انسان کے لئے کوئی شخص پوری عمر روتے گزار دیتا ہے اور اپنے ارد گرد کتنے ہی رشتے نظر انداز کر دیتا ہے۔ کوئی اتنا خلوص اور محبت پل میں گرا جاتا ہے۔

اگر عشق سچا ہے تو محبوب کی خوشی دیکھ کر خوش کیوں نہیں رہتا؟ سلگتا اور جلتا کیوں ہے؟ اگر عشق مجبوریوں سے ماورا ہے تو پھر عاشق تڑپتے کیوں ہیں؟ اگر عشق لا محدود ہے تو کیا اس کا محدود زندگی میں بھی حصول ممکن ہے؟ اگر عشق دو روحوں کا ملاپ ہے تو پھر یہ دو بے وقوفوں کے درمیان غلط فہمی کیوں سمجھی جاتی ہے؟

عشقیہ لوک داستانوں سے یہی پتا چلا کہ عشق میں امر ہونے کے لئے عشق میں نا کامی ضروری ہے۔ حالاں کہ نا کام عشق میں، مشہوری کم اور بد نامی زیادہ ہے۔ اگر عشق وفا ہے تو کیا یہ پالتو جانوروں کا بھی جذبہ ہے؟ اگر عشق پیاس ہے تو اس میں ہوس کا دخل کہاں تک ہے؟ اگر عشق عبادت ہے تو کیا صرف زاہدوں کی میراث ہے؟ اگر عشق حس ہے، تو دیوانوں کو اس سے کیا؟ اور اگر یہ سچ ہے تو پھر یارو جھوٹے فریبی کہاں جائیں؟ اگر یہ جھوٹ ہے تو اس سے بڑا جھوٹ بھی کوئی ہے کیا؟

بہت تنگ ہوں میں اس لفظ عشق سے۔ بہت کھٹکتا ہے یہ لفظ مجھے۔ جب جھوٹے لوگ منہ بھر بھر کے اس کا نام جپتے ہیں۔ جب لوگ کر تو اندھا عشق رہے ہوتے ہیں لیکن ان کے اندھے عشق کے بھائیوں کی نظر بہت تیز ہوتی ہے اور وہ نا کامی سے پہلے ہی سماج کے مظالم کا شکار ہو جاتے ہیں۔ سمندر عشق میں غوطہ لگا کے دیکھنے والے پار لگ جاتے ہیں اور اس میں رہنے والے ڈوب جاتے ہیں۔

کبھی تو محسوس ہوتا ہے یہ لفظ اتنی لطافت والا ہے نہیں، جتنا یہ لگتا ہے۔ کیوں کہ اس کو جھیلنے والا ہی جانتا ہے، کیسا کٹھن راستہ ہے۔ جب اس کا سہرا سر پہ سجائیں، تو جسم زخموں سے اور روح طعنوں سے زخمی رہتی ہے۔ دل و دماغ معشوق کے گھر کی گلیوں میں بھٹکتے رہتے ہیں۔ جسے بھٹکنے میں زندگی ملے، اسے ساکت منزل سے کیا لینا؟ اس کی زندگی اور اس کا سکون تو بھٹکنے میں ہے کسی کا بھٹکنا ہی اس کی منزل بھی ہو سکتا ہے۔ آپ کی نظر میں وہ بھٹک رہا ہو گا، کیا پتا وہ اپنی منزل کے مزے لوٹ رہا ہو۔

کبھی عشق اتنا میٹھا لگتا ہے کہ ہر لمحے شرینی ٹپکتی ہے اور کبھی اتنا کڑوا کہ زہر بھی چپ کر کے پی لینے کو جی کرتا ہے۔ کبھی اتنا رنگین لگتا ہے کہ ہزاروں جنم لینے کو جی چاہے اور کبھی اتنا بے رنگ کہ اپنا آپ بھی فضول لگے۔ کبھی اتنی خوشی دے کے نیلگوں آسمان کی وسعتوں میں اڑتے پرندے، پھولوں کے رنگ چرانے والی حسین تتلیاں اور اندھیرے میں ٹمٹماتے جگنو، رات کے سرمئی آنچل پہ پھیلے ہوئے ستارے، ہمارا آنگن خوشیوں سے بھر دیں۔ اور کبھی اتنا دکھ اور درد دے کہ حشر برپا کیے رکھے۔

میں سمجھتی ہوں، حقیقی عشق کو سمجھنے کے لئے پہلے مجاز کو سمجھنا ضروری ہے۔ کیوں کہ جو مجاز کو نہیں سمجھتا، وہ حقیقت کو کیا سمجھے گا۔ جو حقیقت کو نہیں سمجھتا، وہ عشق کو کیا سمجھے گا۔ میں اس لفظ کو سمجھنے سے کل بھی قاصر تھی اور آج بھی ایک گھنٹہ ضائع کر چکی ہوں، اور کسی نتیجے پہ نہ پہنچ کر اسے سوچنے سے معذرت کرتی ہوں۔ جس پر لوگ زندگیاں ضائع کر دیتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •