زیادتی کیسا لفظ ہے سوچا جائے تو بہت سے پہلو نکلتے ہیں اور روزمرہ گفتگو میں اس کا استعمال مختلف نوعیت سے لیا جاتا ہے لہٰذا جتنی آپ کی سوچ کی گہرائی یا آپ کا اپنے ماحول کے حالات سے تجربہ ہو گا اتنا آپ سوچ سکیں گے، جیسے کسی نے آپ کا حق مارا ہو یا کسی نے آپ کی کوئی قیمتی چیز آپ کے سامنے نوچ ڈالی ہو۔ میں ہمیشہ زیادتی کے واقعات پہ ہونے والی بحث میں شامل ہونا تو دور کچھ بھی کہنے، رد عمل دینے، شور مچانے، سب سے دور رہی ہوں کیونکہ مجھے پتا ہے کہ ہوتا کیا ہے۔ میڈیا کو بس ایک نیا موضوع ملتا ہے اور معاشرے کو اپنا گریبان چھوڑ کر ایک منفرد موضوع پہ ہائے ہائے کرنے اور اپنے گلوں شکووں سے کچھ دیر کی فرصت ملتی ہے۔
لیکن آج تک کتنی پیشرفت ہوئی۔ زینب الرٹ بل کا کیا فائدہ ہوا۔ اس کے مجرم کو پھانسی تو ہوئی لیکن اگلے ماہ چھ بچیاں جنسی زیادتی کا شکار ہوئیں۔ اگر پھانسی حل ہوتی تو اگلے ماہ ہی اتنے زیادہ کیسز سامنے نہ آتے۔ یہ تو سامنے کے اعداد و شمار ہیں اور نا جانے کتنی ہی ہوں گی جو ڈر سے بولتی ہی نہ ہوں گی کیونکہ ان کو معاشرے سے بھی نہیں اپنے گھر والوں کی سوچ سے بھی ڈر لگتا۔ کیونکہ وہ جانتی ہیں کہ بھگتنا تو بس اس نے ہے جس نے پہلے ہی یہ عذاب جھیلا ہے۔ اور کردار صرف داؤ پہ نہیں لگا بلکہ سولی پہ چڑھ جاتا۔
Read more