کوئی چنگاری کہیں دامن نہ جلا دے!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہماری سیاسی جماعتیں اپوزیشن میں ہوں، تو ان کے پیٹ میں عوام کے درد کا مروڑ، بہت تیزی سے اٹھتا ہے۔ اس لیے آج کل اپوزیشن کو عوام کی حالت زار بہت مخدوش نظر آنے لگی ہے اور اس مخدوش صورت احوال کے پیش نظر تحریک چلا کر حکومت گرانا ضروری ہو گیا ہے۔ ایک طرف مسلم لیگ (ن) کے قائد، بیرون ملک بیٹھ کر قومی اداروں کے خلاف بیان بازی کرتے ہیں، تو دوسری جانب پیپلز پارٹی کے اکابرین کراچی میں ریلی نکال کر سندھ کو ٹوٹنے سے بچانے کی دہائی دیتے نظر آتے ہیں۔ ملک کی سیاست میں جب ایسی سوچ کے حامل لیڈر موجود ہوں گے تو دشمن کو قطعی کسی سازش کی ضرورت نہیں، کیوں کہ ایسی قیادت کی موجودگی میں ملک ٹوٹنے سے بچا ہوا ہے تو اسے ایک معجزہ ہی کہا جا سکتا ہے۔

یہ امر واضح ہے کہ اپوزیشن کو عوام کے مسائل کے تدارک اور ملکی یک جہتی کی پریشانی نہیں، بلکہ خود کو بچانے اور اقتدار کے حصول کی فکر لاحق ہے۔ اس لیے حکومت گرانا متفق ایجنڈا بن گیا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کا کہنا بجا ہے کہ تمام بے روزگار سیاستدان ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو گئے ہیں۔ یہ چاہتے ہیں کہ جتنا مرضی لوٹ مار کریں، ڈاکے ڈالیں، کوئی ہاتھ نہ ڈالے۔ عدالت جب فیصلہ کرتی ہے تو رونے لگتے ہیں کہ مجھے کیوں نکالا، جب کہ حکومت کو بلیک میل کرنے کے لئے فوج کے خلاف زبان استعمال کی جاتی ہے۔ یہ بھارتی ایجنڈا نہیں تو کیا ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کی قربانیوں کی وجہ سے ہی پاکستانی عوام اور ملک کی سرحدیں محفوظ ہیں۔ در اصل اپوزیشن کا فوج سے اختلاف یہی ہے کہ فوج حکومت کے ساتھ کیوں کھڑی ہے۔ حالاں کہ ترجمان افواج پاکستان نے بالکل واضح کیا ہے کہ فوج کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں اور انہیں سیاست میں نہ گھسیٹا جائے، مگر اپوزیشن بیرونی ایجنڈے پر گامزن، فوج کے خلاف بیان بازی سے باز نہیں آ رہی۔

تحریک انصاف حکومت، اپنے ایک نکاتی ایجنڈے پر سختی سے قائم ہے کہ کرپٹ اپوزیشن کا صفایا کر دیں گے۔ ڈیل اور ڈھیل نہیں دیں گے۔ جب کہ اپوزیشن خود کو بچانے کے لئے اپنی کشتیاں جلا کر میدان میں اتری ہے اور حکومت کو گرانے کے لیے آخری حد تک جانے کے لئے تیار ہے۔ حکومت کے سیاسی انجینئرنگ شعبے کا خیال تھا کہ حزب اختلاف اپنے باہمی تضادات کی بنا پر ایک صفحے پر اکٹھی نہیں ہو پائے گی، مگر اپوزیشن جماعتیں مرتے کیا نہ کرتے کے مقولے پر ایک صفحے پر اکٹھی ہوتی جا رہی ہے۔

گزشتہ برس مولانا فضل الرحمن کو اس وقت نا کامی کا منہ دیکھنا پڑا، جب مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے گھاس ڈالنے میں لیت و لعل سے کام لیا تھا۔ شاید اب بھی اپوزیشن اپنے باہمی تضاد کی بنا پر ایک صفحے پر نہ رہ پائے اور حکومت کے خلاف موثر تحریک چلانے کا خواب ادھورا رہ جائے، لیکن اس بار بکھرتی اپوزیشن کے ساتھ لگتا ہے کہ خود اقتدار کے ایوان کی جوتیوں میں بھی دال بٹ رہی ہے۔ حکومتی وزرا، اپوزیشن پر تنقید کرتے کرتے اپنوں پر بھی اعتراض کرتے نظر آتے ہیں۔

اس میں شک نہیں کہ اپوزیشن احتجاجی تحریک کے اعلان سے حکومت گھبراہٹ کا شکار نظر آتی ہے۔ حکومتی بوکھلاہٹ کہیں نہ کہیں ظاہر کر رہی ہے کہ اب تک جو طاقت حکومت کے لیے معاملات حل کرتی رہی ہے، شاید اب نہیں کر رہی ہے، ایسا لگتا ہے کہ پہلی بار حکومت خود اپنے معاملات حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس لیے حکومتی اقدامات میں اناڑی پن نظر آ رہا ہے۔ حکومت کا دو سال گزارنے کے بعد بوکھلاہٹ دکھانا ٹھیک نہیں، ایسے تو جیتی ہوئی گیم بھی ہاری جا سکتی ہے۔ حالاں کہ حکومتی حلقوں میں خیال مضبوط ہے کہ حکومت کہیں نہیں جا رہی۔ اپوزیشن جو مرضی کر لے مقتدر حلقے حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ تاہم اس طرح کب تک مقتدر حلقے حکومتی بوکھلاہٹ اور اناڑی پن اور بیڈ گورننس کا ساتھ دیتے رہیں گے۔ اگر کہیں ان کی اپوزیشن کے ساتھ بات چیت ہو گئی تو حکومت کے گھر جانے میں ایک لمحہ بھی دیر نہیں لگے گی۔

تحریک انصاف حکومت اس لحاظ سے واقعی خوش قسمت ہے کہ اسے مقتدر اداروں کی مکمل تائید و حمایت حاصل ہے۔ آرمی چیف نے بھی کچھ اچھا نہیں کہنے والوں کو متنبہ کر دیا ہے کہ سب اچھا ہو جائے گا۔ اس حمایت کے ذریعے جمہوری اداروں کو مضبوط سے مضبوط تر کرنے کی بھر پور سعی کرنی چاہیے، مگر یہاں تو الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں میں گرجنے برسنے کا مقابلہ جاری ہے اور آئندہ سیاسی میدان مزید گرم ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ اس ہنگامہ خیزی میں ڈر ہے کہ کہیں کوئی چنگاری کسی دامن میں آگ نہ لگا دے۔ کیوں کہ چھوٹے چھوٹے واقعات بڑے سانحات کو جنم دیتے ہیں۔ تاہم اپوزیشن نتائج سے بے پروا حکومت گرانے پر تلی ہے۔ نیب نے بہت سارے ملزمان کو پکڑ لیا ہے، جن میں مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف بھی شامل ہیں اور کئی رہنماؤں کی باری آنے کے بارے میں باتیں ہو رہی ہیں۔ اس امکان کو روکنے کے لیے اپوزیشن بغیر عوامی حمایت صرف چند حامی لو گوں کے ساتھ تحریک چلانے پر بضد ہے۔ حالاں کہ ماضی میں ایسا ہوا ہے کہ کرائے کا کراؤڈ آدھے راستے سے غائب ہو جاتا ہے۔ اس کے باوجود جلسے جلوسوں کے ذریعے عوام کو سڑکوں پر لانے کی کاؤشیں جا رہی ہیں۔

مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی قیادت ایک بار پھر عوام کو گم راہ کرنے میں کو شاں ہیں، لیکن ماضی کے ڈسے ہوئے عوام، اب بہت محتاط نظر آتے ہیں۔ اگر اپوزیشن عوام کو سڑکوں پر لانے میں واقعی کامیاب ہو گئی تو اس باہمی تصادم کے نتیجے میں ایک کی چونچ ٹوٹے گی تو دوسرے کی دم غائب ہو جائے گی، جب کہ فائدہ اٹھانے کے لئے تیسری قوت تیار بیٹھی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •