کیا آپ اپنی ماں بولی لکھنا پڑھنا جانتے ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کیا آپ کے والدین نے آپ کو گھر میں اپنی ماں بولی پڑھنا سکھائی تھی؟
کیا آپ کے اساتذہ نے آپ کو سکول میں اپنی مادری زبان لکھنا سکھائی تھی؟

میں پاکستان کے علاوہ کسی اور ملک کو نہیں جانتا، جہاں بچوں کو سکولوں میں اپنی مادری زبان میں تعلیم نہ دی جاتی ہو۔

مجھے نجانے کیوں میری ماں نے اردو، عربی اور انگریزی تو لکھنا پڑھنا سکھائی لیکن بہت سی اور پاکستانی ماؤں کی طرح اپنی ماں بولی پنجابی لکھنا پڑھنا نہ سکھائی۔

چند دن پہلے میری ایک شاعرہ سہیلی نے مجھے موسیقی کا محبت بھرا تحفہ بھیجا۔ میں نے سنا تو وہ بلھے شاہ کا کلام تھا، جسے ایک موسیقار نے اپنی پر سوز آواز میں گایا تھا۔ میں نے وہ کلام سنا لیکن مجھے زیادہ سمجھ نہ آیا۔ میں نے دوبارہ غور سے سنا تو صرف چند مصرع سمجھ آئے، جو کچھ یوں تھے :

پانبھڑ سی کیڑھا جیڑھا دل وچ مچیا
لگی والے جانڑدے نیں، بلھا کیوں سی نچیا
اے مست مست قلندر دی اے
کھیڈ اے ساری اندر دی اے
کھیڈ اے ساری اندر دی اے

میں نے آخری مصرع سنا، تو مجھے خیال آیا کہ سنت، سادھو، صوفی، شاعر، قلندر، درویش، عاشق اور ماہر نفسیات میں یہ قدر مشترک ہے کہ وہ سب داخلی کیفیات پر اپنی توجہ مرکوز کرتے ہیں۔ وہ سب جانتے ہیں کہ:

کھیڈ اے ساری اندر دی اے

انسان کا داخل بدل جائے تو اس کا خارج بھی بدلنے لگتا ہے۔

بلھے شاہ کا کلام سنتے سنتے مجھے یاد آیا کہ آج سے کئی سال، بلکہ کئی دہائیاں پیش تر، مجھے ٹورانٹو سے ایک اجنبی کا فون آیا۔ فرمانے لگے، ’میرا نام بلبیر سنگھ مومی ہے۔ میں پاکستان کے ایک سکھ خاندان میں پیدا ہوا تھا۔ 1947ء میں اپنے والدین کے ساتھ چندی گڑھ چلا تو گیا، لیکن میرے دل میں آج بھی پاکستان اور اردو کی محبت کا دیا روشن ہے۔ اگر آپ کی اجازت ہو تو میں آپ کے اردو افسانے چندی گڑھ لے جاؤں اور ان کا پنجابی میں ترجمہ کرواؤں؟

میں نے کہا، نیکی اور پوچھ پوچھ؟

چند ماہ بعد بلبیر سنگھ مومی، ہندوستان سے واپس کینیڈا لوٹے تو انہوں نے میرے افسانوں کے مجموعے۔ ”اک پیر وچ زنجیر“ کی ایک کاپی مجھے تحفے کے طور پر دی۔ میں نے ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا:

”میں تو یہ رسم الخط نہیں پڑھ سکتا۔“

کہنے لگے۔ یہ پنجابی گور مکھی رسم الخط میں لکھی گئی ہے، شاہ مکھی میں نہیں۔ اسی لیے آپ اس کتاب کو نہیں پڑھ سکتے۔

پھر بڑے فخر سے کہنے لگے، میں نے آپ کی خاطر اس کا cover امریتا پریتم کے فن کار محبوب امروز سے بنوایا ہے۔

اس واقعے کے چند ماہ بعد، میری کشمیری دوست رانی نگندر کا نیویارک سے فون آیا۔ کہنے لگیں، میرا پنجابی افسانوں کا مجموعہ تیار ہو گیا ہے۔ میری خواہش ہے کہ آپ اس کا دیباچہ لکھیں۔ میں نے کہا افسانے بھیج دیں۔ انہوں نے اپنے پنجابی کے بیس افسانوں کا مجموعہ بھیج دیا۔ اس مجموعے کو دیکھ کر مجھے اندازہ ہوا کہ میں وہ افسانے نہیں پڑھ سکتا، کیوں کہ وہ بھی گور مکھی رسم الخط میں لکھے گئے تھے۔ میں نے فون کر کے معذرت کی لیکن رانی نہ مانیں۔

میں انکار کرتا رہا، وہ اصرار کرتی رہیں۔ آخر انہوں نے رسم الخط کے مسئلے کا حل نکالا۔ انہوں نے افسانے پڑھ کر ٹیپ کیے۔ میں نے ٹیپ سنا۔ اردو میں دیباچہ لکھا۔ انہوں نے دیباچے کا اردو سے پنجابی ترجمہ کروایا اور چھپوایا۔ مجھے ان کی کتاب ملی تو میں اپنا لکھا ہوا دیباچہ نہ پڑھ سکا، کیوں کہ میں گور مکھی نہیں پڑھ سکتا۔

مجھے ایک طویل عرصے تک اس بات کا پتا ہی نہیں تھا کہ میری مادری زبان، میری ماں بولی پنجابی، دو رسم الخط میں لکھی جاتی ہے۔ ہندوستان کے سکھ گور مکھی رسم الخط اور پاکستان کے مسلمان شاہ مکھی رسم الخط میں پنجابی لکھتے ہیں۔ میں تو شاہ مکھی رسم الخظ بھی اٹک اٹک کر پڑھتا ہوں، اردو کی طرح رواں نہیں پڑھ سکتا۔ جب بلھے شام کا کلام یا ہیر پڑھنے کی کوشش کرتا ہوں، تو آدھے سے زیادہ الفاظ سمجھ نہیں آتے۔

دو سال پیش تر، جب مجھے اسلام آباد کے مادری زبانوں کے میلے میں شرکت کرنے اور ایک مقالہ پڑھنے کا موقع ملا، تو جہاں ”ہم سب“ کے بہت سے دوستوں سے مل کر خوشی ہوئی، وہاں یہ جان کر خوش گوار حیرت بھی ہوئی کہ اس میلے میں پاکستان کی بہت سی مادری زبانوں کی نمائندگی کرنے والے موجود تھے۔ میلے کے آخر میں موسیقی کی محفل میں مختلف زبانوں کے نغمے سننے کا موقع ملا۔ ایک خاتون نے تو کمال ہی کر دیا، انہوں نے سات زبانوں میں گانے گائے۔

اس مادری زبان کے میلے میں مجھے جو اجرک تحفے میں ملی، میں اب اسے کینیڈا کی محفلوں میں بڑے فخر سے پہنتا ہوں۔ اب کبھی کبھار ایک خواہش میری دل میں سرگوشی کرتی ہے کہ اگر میں دوبارہ بچہ بن سکتا، تو نا صرف اپنی مادری زبان پنجابی کو پڑھنا لکھنا سیکھتا، بلکہ پاکستان کی دیگر مادری زبانیں سیکھنے کی بھی کوشش کرتا اور ان زبانوں کے ادب سے روشناس ہوتا۔ دوسری زبانیں سیکھنے سے ہم اس کلچر کی دانائی سیکھتے ہیں۔

مجھے آہستہ آہستہ احساس ہو رہا ہے کہ سب زبانوں کا ادب انسانوں کا اجتماعی ورثہ ہے۔ یہ ہم سب کی خاص طور پر ادیبوں شاعروں اور دانشوروں کی سماجی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی مادری زبان کے ادب کا مطالعہ کریں اور پھر اس کا دوسری زبانوں میں ترجمہ کریں، تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس ادب اور اس روایت کی دانائی سے استفادہ کر سکیں۔

ماہرین نفسیات اور لسانیات ہمیں بتاتے ہیں کہ ایک سے زیادہ زبانیں سیکھنے سے ہماری ذہانت اور ہماری شخصیت میں مثبت تبدیلیاں آتی ہیں۔ ہم بہتر انسان بنتے ہیں اور دوسری زبانوں اور ثقافتوں کے انسانوں سے مل جل کر رہنا سیکھتے ہیں۔ بشرطیکہ ہم سب زبانوں اور ثقافتوں کا احترام کرنا بھی سیکھیں۔

اگر ہم چاہتے ہیں کہ دوسرے انسان، ہماری زبان اور ثقافت کا احترام کریں، تو ہمیں بھی ان کی زبان اور ثقافت کا احترام کرنا سیکھنا ہو گا۔ یہی انسان دوستی کی روایت ہے اور اکیسویں صدی میں اس کی اشد ضرورت بھی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 373 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail