جنوری سے بہت پہلے کام ختم ہوجائے گا: مریم نواز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ آل پارٹیز کانفرنس نے [حکومت کے خاتمے کی] حتمی تاریخ جنوری کی دی ہوئی ہے تاہم انھیں لگتا ہے کہ جنوری سے بہت پہلے 'کام ختم ہوجائے گا۔'

صحافی عاصمہ شیرازی کے ساتھ آج ٹی وی پر نشر ہونے والے اس انٹرویو میں مریم کا کہنا تھا کہ ‘میں خوف میں تھی، ہمارا مقابلہ کم ظرف لوگوں سے ہے۔’

انھوں نے کہا کہ ان کے والد اور سابق وزیر اعظم پاکستان نواز شریف کے سوالوں کا جواب یہ نہیں کہ انھیں غدار قرار دیا جائے۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ انھیں خاموش کرنے والے ‘اب خاموش خود ہوں گے۔’

یہ بھی پڑھیے

نواز شریف کے علاوہ دیگر رہنماؤں کے نام ایف آئی آر سے حذف

بانی پاکستان کی ہدایات پر عمل کیا جاتا تو ’نہ سقوطِ ڈھاکہ ہوتا، نہ 12 اکتوبر جیسی بغاوت‘

عمران خان: ’میرے پوچھے بغیر کوئی آرمی چیف کارگل پر حملہ کرتا تو اسے فارغ کر دیتا‘

اپوزیشن کی حکومت مخالف تحریک کے حوالے سے جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا (اسمبلیوں سے) استعفے دیے جائیں گے انھوں نے کہا کہ اس کے لیے استعفے دینے پڑے تو استعفے بھی دیں گے۔

واضح رہے کہ پاکستان کی حزبِ اختلاف کی بڑی جماعتوں نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے نام سے ایک حکومت مخالف اتحاد قائم کیا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی اس میں پیش پیش ہیں جبکہ جمعیت علماء اسلام (ف) کو اس احتجاجی تحریک کا ایک اہم کردار تصور کیا جا رہا ہے۔

حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں کی حکومت مخالف آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) کے بعد تیار کردہ ایکشن پلان میں جنوری میں لانگ مارچ کا اعلان کرنے کے ساتھ اسٹیبلشمنٹ سے سیاست میں مداخلت بند کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

پی ڈی ایم نے اعلان کیا تھا کہ حکومت کے خلاف تحریک کا آغاز 16 اکتوبر کو گوجرانوالہ کے جلسے سے ہوگا۔ 18 اکتوبر کو کراچی میں مظاہرہ کیا جائے گا جبکہ 25 اکتوبر کو کوئٹہ میں جلسہ متوقع ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ انھیں یہ بھی یقین ہے کہ ‘نہ یہ آئینی حکومت ہے اور نہ یہ منتخب حکومت ہے۔’

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ (اپوزیشن) حکومت سے بات چیت کریں گے، تو مریم نواز نے کہا کہ وہ اسے ‘حکومت سمجھتی ہی نہیں۔’

‘یہ حکومت حکومت کہلانے کی اہل نہیں ہے۔ اس کو حکومت کہنا، اس کو منتخب حکومت کہنا، منتخب ہونے کی توہین ہے، عوامی نمائندوں کی توہین ہے۔ میں نے اس کو کبھی حکومت نہ سمجھا، نہ عمران خان کو وزیرِ اعظم کہا، نہ دل سے سمجھا۔’

اس سوال کہ جواب میں کہ اگر اپوزیشن سے ‘اداروں’ کی سطح پر کسی نے رابطہ کیا تو وہ کیا مطالبات رکھیں گے، تو انھوں نے کہا کہ ہمارا کوئی مطالبہ نہیں۔

‘ہمارا صرف یہ مطالبہ ہے کہ ادارے اپنے آپ کو سیاست میں نہ ملوث کریں۔ ادارے بہت مقدس ہیں اور انھیں مقدس رہنا چاہیے۔’

مریم نواز سے جب پوچھا گیا کہ کیا مسلم لیگ (ن) کو ‘کہیں سے’ آشیرباد ہے، تو اس پر مریم نواز نے جوابی سوال پوچھا کہ ‘اگر مسلم لیگ (ن) کو کہیں سے آشیرباد ہوتی تو کیا وہ اس طرح جدوجہد میں اتر جاتی؟’

مریم نواز نے کہا کہ سی سی پی او نے نواز شریف کے خلاف پرچہ کاٹنے سے قبل وزیرِ اعظم کے دفتر سے اجازت لی تھی۔

انھوں نے کہا کہ یہ بات اُن کے ‘سننے میں آئی ہے۔’

مریم نے کہا کہ (پرچہ درج کروانے والا) خود ایک تحریکِ انصاف کا کارکن ہے اور اس کا مجرمانہ ریکارڈ ہے۔

انھوں نے کہا کہ میاں نواز شریف پر جو غداری کا الزام لگا ہے وہ اُن پر تو ثابت نہیں ہوگا، لیکن اِن کے اپنے اوپر ثابت ہوگا۔ ‘پاکستانی فوج کے بارے میں اور پاکستانی فوج کے اوپر جو انھوں نے الزامات لگائے ہیں، اور بطورِ وزیرِ اعظم بھی انھوں نے ایک دو بیان جو دیے ہیں ادھر ادھر، غداری کے زُمرے میں تو وہ آتے ہیں۔’

یاد رہے کہ کچھ روز قبل سابق وزیرِاعظم نواز شریف کے خلاف لاہور کے شاہدرہ پولیس اسٹیشن میں ‘غداری’ اور ‘بغاوت پر اکسانے’ کے الزامات میں مقدمہ درج کیا گیا تھا تاہم اس میں نامزد دیگر لیگی رہنماؤں کے نام حذف کر دیے گئے ہیں۔

سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے کچھ روز پہلے اپنے ایک خطاب میں کہا تھا پاکستان کی فوج دنیا کی بہترین فوج تب ہوگی جب آئین کی پاسداری کرے گی۔

اپنی زیر صدارت پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹرز کے ایک مشترکہ اجلاس سے خطاب میں سابق وزیر اعظم نے کہا تھا ‘ہماری فوج کا بڑا حصہ آئین کی پاسداری کرتا ہے، صرف چند لوگ جنھیں انگلیوں پر گنا جا سکتا ہے باقی فوج کو بھی بدنام کرتے ہیں۔’

مریم نواز سے جب پوچھا گیا کہ مسلم لیگ (ن) جب بالکل تصادم کی راہ پر ہے اور اس کا بیانیہ حکومت مخالف کے بجائے اسٹیبلشمنٹ مخالف ہے تو پارٹی کی بقا کیسے رہے گی، تو اس پر مریم نواز نے کہا کہ یہ بیانیہ اسٹیلبشمنٹ کے خلاف نہیں بلکہ ‘حدود سے تجاوز کرنے’ کے خلاف ہے۔

انھوں نے کہا کہ میاں نواز شریف کا بہت واضح مؤقف ہے کہ جو تاثر بنا دیا جاتا ہے کہ کوئی بیانیہ اداروں کے خلاف ہے، ایسا نہیں ہے۔

مریم نواز نے کہا کہ میاں نواز شریف کا مؤقف یہ ہے کہ ہر ادارے کو اپنے اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے کام کرنا چاہیے جو آئین میں متعین ہے۔

یاد رہے کہ رواں ماہ کے اوائل میں وزیراعظم عمران خان نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ’نواز شریف باہر کے لوگوں سے باقاعدہ مل رہے ہیں اور پاکستان کے خلاف سازش کر رہیں ہیں، ہم ان کو واپس بلا رہے ہیں۔’

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16076 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp