معزولی اور منادی: ملک بادشاہ کا، حکم کمپنی بہادر کا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جھگڑا تو ایک کافر ادا، یعنی کسی قتالہ عالم پر تصرف کا تھا، لیکن آپ چاہیں تو اسے قوت و اقتدار کی دیوی پر غلبے اور اس کے اصل حق کا معاملہ سمجھ لیں کہ اس واقعے کا شمار بھی ان چند اہم واقعات میں ہوتا ہے جو بر عظیم پر انگریز کے مکمل قبضے اور اس سے قبل اس کی قوت و جبروت کا سکہ جمانے کا ذریعہ بنے۔ بس، یوں سمجھیے کہ ایک انگریز کا قتل ہو گیا اور وہ بھی ایک ایسے انگریز کا جس کے اقبال کا سکہ حضرت پیر و مرشد، خاقانی ہند ظل سبحانی ابو المظفر بہادر شاہ ظفر کے (در حدود قلعہ معلی) سریر آرائے سلطنت ہونے کے باوجود دلی پر چلتا تھا کہ نام اس کا ولیم فریزر تھا اور شہر کی ایک طرہ دار حسینہ کو محض اس لیے تصرف میں لانے کا خواہش مند تھا کہ انگریز تھا، اس واسطے کہ مال و منال، گولا بارود اور سپاہ قاہرہ اس کے در کی لونڈیاں تھیں۔

جاہ و حشم کے یہ مظاہر بڑے بڑوں کی آنکھوں میں چکا چوند پیدا کر دیتے ہیں اور نا سمجھوں کو بھی سمجھ دار بنا دیتے ہیں مگر ایک نا سمجھی تو وہ الہڑ دوشیزہ نہ سمجھی کہ جب قوت و اقتدار کے نشے میں چور، وہ گورا حاکم اس بی بی کے در پر پہنچا اور اس کے لطف و کرم کا طلب گار ہوا، تو وہ غیرت ناہید انجام بد اور نتیجے کے خوف سے بے نیاز ہو کر اس کے ساتھ بے اعتنائی سے پیش آئی اور اسے باہر کا راستہ دکھایا، کچھ اسی مزاج کا اس کا محب تھا کہ نواب ایک ریاست کا تھا، اس دور نا سعید میں بھی ہوش کے ناخن لینے کے بجائے غیرت و حمیت کی باتیں کیا کرتا اور کمپنی بہادر کی آڑ میں تیزی کے ساتھ قدم بڑھاتے ہوئے فرنگیوں کو ہندوستان سے نکال باہر کرنے کے منصوبے بنایا کرتا۔

اس زمینی حقیقت کو پیش نظر رکھیں تو کہنا پڑتا ہے کہ بادشاہ وغیرہ کے ہوتے ہوئے بھی تھا تو وہ انگریز ہی کا غلبہ جس کے جبروت سے زمانہ کانپتا تھا۔ سبب اس کا یہ ہے کہ اس کی پشت پر دولت اور سازش کی قوت کے علاوہ ٹیکنالوجی کی تلوار بھی موجود تھی، جس کے سامنے ہندوستان کے مغلوں کی تلواریں کند ہو چکی تھیں۔ اس سب کے باوجود کہ وہ انیسویں صدی کا نصف اول تھا، لیکن اندھیروں کو روشنی کی چکا چوند سے جگمگا دینے والی بجلی کی ایجاد ابھی کسی کے خواب و خیال میں بھی نہیں تھی۔ بس، اسی اندھیرے اور اس کی ظلمت میں چھپ کر کسی نے جما کر ایسا وار کیا کہ ولیم فریزر بہادر کا کام تمام ہو گیا۔ بس، اس عبرت ناک کہانی کی ابتدا اسی افسوس ناک واقعے سے ہوتی ہے۔

ولیم فریزر کا قاتل کون تھا، کوئی نہ جانتا تھا، کوئی اتا نہ کوئی پتا، کون جانے قاتل کہاں سے ٹپک پڑا تھا۔ اس زمانے میں نوابوں اور راجوں کے دشمن بہت ہوا کرتے تھے، جیسے کہ اب بھی ہوتے ہیں بلکہ کچھ زیادہ ہی ہوتے ہیں، اس گورے کی میت کے سرہانے کھڑے ہو کر کسی ایسے ہی بد انجام دشمن نے یہ بد کلامی کی کہ برا ہو تیرا نواب شمس الدین احمد خان، تو اس بے گناہ کی جان لے گیا۔ اس عہد کی طرح اس زمانے کے دشمن بھی بڑے دانا تھے، اس بد اندیش ہندوستانی کا حسد اور دشمنی کی آگ میں جلتا ہوا یہ جملہ کسی انگریز کے کان میں پڑا، پہلے تو اس نے یہ سوچا کہ خوبی قسمت دیکھیے کہ مجرم کا پتا کس آسانی سے مل گیا۔

کمپنی کے مدعی، وکیل اور عدالت، تینوں نے اس افواہ کا یہ سرا مضبوطی سے پکڑا اور یہاں وہاں مار دھاڑ کر کے اکا دکا مشتبہ بھی پکڑ لیے، کسی متروک کنویں سے ایک آلہ قتل بھی بر آمد کر لیا، اس کے ساتھ کاغذ کا کوئی گلا سڑا ٹکڑا بھی جس میں کسی نے کسی کو بہ انداز حاکمانہ لکھا تھا کہ وہ اس کے لیے شکاری کتوں کی خریداری کرے۔ یہ دو چیزیں کمپنی سرکار کو کیا ملیں، گویا خزانہ ہاتھ لگ گیا۔ گرفت میں آئے ہوئے نواب کے ایک کارندے کو اسلحے کا مالک قرار دیا گیا اور کاغذ کے مشکوک پرزے کو علامتی انداز بیان قرار دے کر وہ حکم نامہ جس کے ذریعے ولیم فریزر کے قتل کی خواہش کی گئی۔

گویا قانون بھی طاقت ور کے ہاتھ کی چھڑی ہے، جسے جو چاہے بنا دے۔ چاہے کتوں کی خریداری کو قتل کا حکم قرار دے، چاہے کسی مجہول انیا میواڑی کی سنی سنائی کو چشم دید گواہی اس بات کی، کہ یہ حکم اس کے سامنے دیا گیا تھا۔ ویسے یہ بھی امر واقعہ ہی تھا کہ وہ غریب چلاتا رہا کہ نہیں مائی باپ ایسی کوئی بات میری آنکھوں نے دیکھی نہ کانوں نے سنی لیکن مدعی، وکیل اور منصف مصر رہے کہ جاہل آدمی، تو کیا جانے، حقیقت تو وہی ہے جو ہم بیان کرتے ہیں۔

بس، ایسی ہی گواہیاں تھیں اور ایسے ہی ان کے فراہم کردہ ثبوت، جن کی مدد سے کمپنی بہادر کی انصاف کے دریا بہا دینے والی عدالت نے، جس نے پہلے اس نواب کی ریاست میں بزبان فارسی طلبیاں، سمن اور منادیاں کیں، دھوکے سے اسے پابند زنجیر کیا اور پھر ایک روز اپنی سر زمین کو غیر کے نا پاک قدموں سے پاک کرنے کے خواب دیکھنے والے نواب شمس الدین احمد کو ”انصاف“ کے ترازو پر ٹانگ دیا۔

شمس الرحمن فاروقی اردو کے خوش فکر نقاد ہیں۔ انھوں نے زبان و بیان پر اپنی بے پناہ قدرت، گہرے مطالعے اور اس کے نتیجے میں جنم لینے والی بیش قیمت دانائی سے اردو ادب کو مالا مال کیا ہے۔ کون جانتا تھا کہ اس زیرک نقاد کے طلسم خانہ خیال میں ایک ایسا کہانی کار بھی چھپا بیٹھا ہے، جو ماضی کی تاریکیوں میں مستقبل کے مناظر دیکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ”کئی چاند تھے سر آسماں“ ان کا ایک ایسا ناول ہے، جسے ہند اسلامی تہذیب کا زمزمہ قرار دیا گیا، جس کے نشیب و فراز سے برصغیر کے مسلمان اپنے رہن سہن، بولی ٹھولی نیز سیاہ و سفید کو دیکھ کر عبرت بھی پکڑ سکتے ہیں اور سبق بھی، لیکن سچ پوچھیے تو یہ ضخیم تذکرہ ایک ایسی دستاویز محسوس ہوتی ہے، جس میں احتساب کے نام پر نواب شمس الدین احمد خان سے روا رکھے سلوک کو قلم بند کر کے اس خطے میں انصاف کے قتل کی پوری داستان اور مکمل طریقۂ واردات بے نقاب کر دیا گیا۔ پڑھنے والا اگر چاہے تو اس طلسم ہوش ربا سے تین دہائیوں کے بعد بابری مسجد کو ملنے والے ”انصاف“ کی جھلک دیکھ لے یا اپنے گرد و پیش میں اسے کچھ دکھائی دے تو اس کے مشاہدے سے لٹتی ہوئی متاع دیدہ و دل کا ماتم کر لے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •