بنت حوا تحفظ سے محروم کیوں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ملک بھر میں پچھلے تیس برسوں سے معصوم بچیوں کو اغوا کر کے اپنی ہوس کا نشانہ بناکر قتل کرنے کا بھیانک نہ رکنے والا سلسلہ طوالت اختیار کر تا جا رہا ہے۔ اس کے ساتھ خواتین کے ساتھ بھی اجتماعی اور انفرادی زیادتی کے واقعات میں بڑی شدت سے سامنے آ رہے ہیں۔ اس حوالے سے کچھ واقعات تو رپورٹ ہو جاتے ہیں، مگر اکثر اپنے خاندان کی عزت و وقار کی خاطر ایف آئی آر تک درج نہیں کراتے ہیں۔ یہ درندگی کا شکار ہونے والی نوجوان لڑکیاں اور خواتین خودکشی کر کے اپنی زندگی سے چھٹکارا حاصل کر لیتی ہیں، آئے روز ہونے والے ایسے واقعات نے بچیوں اور خواتین کو خوفزدہ کر دیا ہے۔

غریب اور متوسط طبقہ کی خواتین کو ملازمت کے بہانے بلا کر عزت تار تار کی جا رہی ہے تو کہیں عام شاہراہوں پر لوٹ مارکر کے جنسی تشدت کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ریاست مدینہ میں بنت حوا کہیں محفوط نہیں، جبکہ حکمران محض بیان بازی کرتے ہوئے مجرموں کو عبرت کا نشان بنانے کے دعوؤں کے ساتھ عوام کو تسلیاں دے رہے ہیں۔ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے، اگر بچوں اور خواتین کے ساتھ زیاتی کرنے والے مجرموں کو اسلامی اصولوں کے مطابق سزا دینے کا سلسلہ شروع ہو جائے تو معاملات بہتر ہو سکتے ہیں۔ ہمیں مغرب کے دباؤ میں آئے بغیر ایسے درندوں کو سرعام پھانسی دے کر نشان عبرت بنانا ہوگا، ورنہ ہمارا حشر بھی قوم لوط جیسا ہی ہو جائے گا۔

اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ عوام کے جان و مال و عزت و آبرو کی حفاظت کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے، انسانی شکل میں ظالم درندے بلاخوف و خطر واردات پر واردات کرتے جا رہے ہیں، لیکن حکومت موثر روک تھام کے لئے کوئی سنجیدہ، سخت اور فوری اقدامات نہیں کیے گئے۔ ملک میں جب بھی کوئی نیا سانحہ پیش آتا ہے تو حکومتی ارکان، اپوزیشن سخت مذمتی بیانات اور ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچانے کی روایتی بڑھکیں مار کر خاموش ہو جاتے ہیں، اس بارے میں نہ کوئی موثر قانون سازی کی زحمت گوارا کی گئی نہ ہی عوام کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے کوئی مشترکہ حکمت عملی واضح کی جا رہی ہے۔

گزشتہ کئی برسوں سے نام نہاد جمہورت کے علمبردار صاحب اقتدار ہیں، اس کے باوجود خواتین کی عزتیں غیر محفوظ اور معصوم بچوں کے ساتھ زیادتی کے بعد قتل کیا جا رہا ہے۔ موجودہ حکومت عوام کو تحفط فراہم کرنے کے دعوئے تو بہت کرتے ہیں، قانون سازی کی باتیں بھی کی جاتی ہیں، مگرزمینی حقائق بالکل برعکس ہیں، اگر زینب سے لے کر موٹروئے حادثے تک جنسی زیاتی کی برہتی وارداتیں دیکھی جائیں تو انتظامیہ بالکل غیر فعال نظر آتی ہے، ملک بھر میں سب سے زیادہ واقعات پنجاب اور کے پی میں ہو رہی ہیں، جبکہ ان دونوں صوبوں میں تحریک انصاف کی حکومت ہے۔ حکومت نے قصور کی معصوم بچی زینب کے نام پر زینب الرٹ بنا دیا، لیکن اس کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہوا ہے، کیا ایسے نمائشی اقدامات سے کبھی جرائم کا خاتمہ ہوا ہے؟ یہ سب کچھ عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے حربے کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔

وزیر اعظم عمران خان کی نیت پر شک نہیں، وہ جرائم کے سد باب کرنے کے ساتھ مجرموں کو نشان عبرت بنانے کے خواہاں ہیں، تاہم حکومت عملی طور پر عوام کے جان و مال و عزت و آبرو کی حفاظت کرنے میں مکمل ناکام نظر آتی ہے، ملک میں بڑھتے ہوئے جرائم اور خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات کو روکنا وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی بڑی ذمہ داری ہے، لیکن اس ذمہ داری کو کہاں تک پورا کیا جا رہا ہے، اس کا اندازہ بڑھتے واقعات کے تناسب سے لگایا جاسکتا ہے۔

اس ملک میں جب تک جرم و سزا کا تصور عملی طور پر قائم نہیں ہوگا، ایسے واقعات کی روک تھام نہیں ہو سکے گی، تھانوں میں پولیس کی کمزور تفتیش، عدالتوں میں وکلاء اور ملزمان کی عدم موجودگی کے باعث سماعتوں کا ملتوی ہو تے رہنا، جرائم میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔ اگر قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنا کام فرض شناسی کے ساتھ سرانجام دیں اور عدلیہ فیصلے سنانے میں لیت و لعل اور تاخیر سے کام نہ لے تو ایسے واقعات میں بڑی حدتک کمی لائی جا سکتی ہے۔

اس میں شک نہیں کہ حکومت کو کئی قسم کے چیلنجز کاسامناہے، لیکن ملکی حالات کو جواز بنا کر ایسے واقعات کی روک تھام میں تساہل سے کام لیا گیا تو قوم کسی صورت معاف نہیں کرے گی۔ خواتین اور بچیوں کے ساتھ رونما ہونے والے واقعات اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ معاشرے میں انصاف کا فقدان ہے۔ معاشرے میں انصاف کا فقدان اسی وقت ہوتا ہے کہ جب حکومت مظلوم کی بجائے ظالم کا ساتھ دینے لگے، انصاف فراہم نہ کرنا حکومت کا سب سے بڑا ظلم ہے۔

حضرت علی کام اللہ وجہ کا قول ہے کہ کفر کی حکومت قائم رہ سکتی ہے، مگر ظلم کی حکومت قائم نہیں رہ سکتی، تحریک انصاف حکومت ہوش کے ناخن لے کر انصاف کی فراہمی کو یقینی بنائے، حکومت کو پولیس نظام اور کار کردگی بہتر بنانے کے لیے جرات مندانہ فیصلے کر نا ہوں گے۔ بچوں اور خواتین سے زیادتی کے مقدمات کی سنوائی بہت تیز ہونی چاہیے اورملوث افراد کو سرعام چوک پر لٹکا کر عبرت کا نشان بنایا جائے۔ ایسے مقدمات کی پیروی کے دوران پائے جانے والے قانونی سقم فی الفور اسی جذبے اور فعالیت کے ساتھ دور کیے جانے چاہیے کہ جس جذبے کے ساتھ مشترکہ مفادات کے حصول کو ممکن بنایا جاتا ہے۔

ہمیں اسلامی قوانین کو فالو کرتے ہوئے بہترسے بہتر قانون سازی کرنا ہوگی، اگر ریاست مدینہ کا اعلان کرنے والے حکمران بڑی عالمی طاقتوں کے دباؤ سے نکل کر پاکستان میں حقیقی شرعی قوانین کو عملی جامہ پہنانے کی جانب گامزن ہو جائیں تو ناصرف بنت حوا کو تحفظ کے ساتھ مکمل حقوق مل جائیں گے، بلکہ ہمارا پورا معاشرہ بھی سدھر جائے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •