پدی گروہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سب جانتے ہیں کہ ہر جھگڑے، ہر جنگ اور ہر الیکشن میں شامل دو فریقین میں سے ہر ایک خود کو حق پر اور دوسرے کو باطل پر قائم سمجھتا ہے اور یہی طریق ازل سے رائج ہے۔

حلقہ ارباب ذوق لاہور کے الیکشن میں بھی یہی ہوتا ہے کہ ہر فریق خود کو زیادہ اہل سمجھتا ہے اور چند روزہ الیکشن کیمپین کے ذریعے اس بات کو ثابت کرنے کی ہر ممکن کوشش بھی کرتا ہے۔

پھر الیکشن ہوتا ہے اور آخرکار دونوں میں سے کوئی ایک زیادہ ووٹ حاصل کر کے سال بھر کی ذمہ داریاں سنبھال لیتا ہے جبکہ کم ووٹ لینے والا عموماً فتح یاب ہونے والے کی حیثیت کو خوش دلی سے قبول اور تسلیم کرتا ہے۔ سو اس بار بھی یہی ہوا اور تمام معاملات بظاہر خوش اسلوبی سے اپنے انجام کو پہنچے۔ ہارنے والے فریق نے جیتنے والے کو خندہ پیشانی سے مبارکباد دی اور جیتنے والے گروہ نے خوش دلی سے قبول کی۔

لیکن بدقسمتی سے قصہ یہیں تمام نہیں ہوا۔

کوئی جنگ ہو، غزوہ ہو یا کسی بھی نوعیت کا الیکشن مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب دو بڑے گروہوں کے اندر چھوٹے چھوٹے مزید گروہ پیدا ہونے لگتے ہیں جن کے مقاصد تعمیری کے بجائے تخریبی ہوتے ہیں۔

ان گروہوں میں سے کچھ سازشی ہوتے ہیں، کچھ شریر اور کچھ منافق اور یہی سب اصل خرابی کی وجہ بنتے ہیں۔

حلقۂ ارباب ذوق لاہور کا جہاز اس وقت طوفانی لہروں کی زد پہ ہے۔ سنا ہے کہ کپتان مشاق ہو تو تقدیر بھی مہربان ہوتی ہے اور ڈوبتا جہاز بھی کنارے جا ہی لگتا ہے۔

لیکن یہاں تو معاملہ ہی اور سے اور ہوا جاتا ہے۔

بات یہ ہے کہ جب سے اس جہاز میں سوار چوہوں نے شیر کی دوستی والی کہانی پڑھی ہے ان کے ننھے دماغ ساتویں آسمان کی بجائے خلا میں ہی معلق ہیں۔ فطرت سے مجبور یہ چوہے جس جہاز میں سوار ہیں اسی میں سوراخ کرنا چاہتے ہیں اور اس بات سے بے خبر ہیں کہ یہ کھیل ان چوہوں کو بھی لے ڈوبے گا۔ ایسی صورت میں ضرورت ہے کہ خود کپتان اور باشعور، ادب دوست سوار اپنے آس پاس گھومتے ان چوہوں کو پہچانیں اور ان سے انہیں کے انداز میں معاملہ کریں یا پھر چوہے مار گولیوں سے کام لیں۔

کیونکہ یہی اندر کے پدی گروہ، یہی چوہے حلقے کے دو بڑے گروہوں کے درمیان رہ کر اپنے اپں ے تخریبی مقاصد کے تحت تعمیری سوچ کی تباہی کے درپے ہیں۔ یہ عناصر سازشی مکر کو بے باکی کا نام دے کر دوسروں کو سامنے آنے پر اکساتے ہیں اور خود مسلسل ٹک ٹک کر کے ایک دوسرے کو کم اور حلقے کی ساکھ کے ساتھ ساتھ ادب کی بوسیدہ ہوتی عمارت کو بھی اندر ہی اندر زیادہ کھوکھلا کیے جا رہے ہیں۔

یہ شر پسند عناصر اپنی منافقتوں اور ایک دوسرے سے حسد کے قبیح جذبے کی تسکین کے لیے چند دوست دار فطرت کے حامل، ڈنکے کی چوٹ پر اپنوں کا ساتھ نبھانے والے افراد کو سامنے رکھ کر خود پس پردہ مسلسل حرکت میں ہیں کیونکہ اپنے نام کے ساتھ اپنا پیغام دوسروں تک پہنچانے کی اخلاقی جرآت ان میں عنقا ہے۔

ان پدی گروہوں، ان چوہوں سے دست بستہ گزارش ہے کہ بس اب اپنی یہ ”ٹک ٹک“ بند کر کے اپنے اپنے بلوں میں واپس گھس جائیں ورنہ ”کیک“ کا یہ ٹکڑا حلق میں پھنس سکتا ہے۔ آخر اک ٹکٹکی کسی اندھیرے کونے میں رکھنے پہ دیر ہی کتنی لگتی ہے۔

ٹکٹکی تو سمجھتے ہی ہوں گے، اووووہی کڑکی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •