ایڈا لوو لیس ڈے: کورونا کے باعث یہ برس ٹیکنالوجی سے وابستہ خواتین کے لیے مشکل رہا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ٹیکنالوجی سے وابستہ خواتین
BBC
کاروان سے کچن میں کام کرنے والی تک اور پاڈ کاسٹ بنانے سے حاملہ خواتین تک میں نے ٹیکنالوجی سیکٹر میں اور اس کے گرد کئی خواتین سے بات کی کہ انھوں نے کورونا وائرس کی وبا کے دوران درپیش چیلنجز کا سامنا کیسے کیا۔

محققین کا کہنا ہے کہ وبا کے دنوں میں دنیا بھر میں خواتین پر ان کی ملازمت کے ساتھ ساتھ خاندان اور گھریلو ذمہ داریاں مردوں کی کی نسبت زیادہ ہیں۔

اس بارے میں ان خواتین نے ہمیں اپنے رجحانات، مایوسیوں اور امیدوں کے متعلق بتایا ہے۔

ان میں سے ایک خاتون کلیئر مسکٹ کا کہنا ہے ‘میرا نیا کاروبار ہے اور ایک نئی زندگی ہے۔’ لاک ڈاؤن کی وجہ سے انھیں اپنے کام اور رشتے گنوانے پڑے۔

اس منگل کو (Ada Lovelace Day) ایڈا لوولیس ڈے منایا جا رہا ہے، یہ سائنس، ٹیکنالوجی، انجینیئرنگ اور ریاضیات کی دنیا میں مردوں کے غلبے میں کام کرنے والی خواتین کے سالانہ جشن کا دن ہے۔

اور رواں برس یہ کافی مشکلات کا احوال لیے ہوئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

شہرزاد: خالی ہاتھ کینیڈا آئیں اور ویڈیو کمپنی کی مالک بن گئیں

امریکی انتخابات میں حصہ لینے والی انڈین اور پاکستانی خواتین

نیُو شُو: چین میں خواتین کے لیے مخصوص خفیہ زبان

ورشا امین، ٹیکنالوجی اینڈ ڈیجیٹل سکل کوچ، ہیمشائر

’شروع میں ایسا لگا کہ کاروبار رک سا گیا ہے۔ میرا اعتماد بھی ختم ہو گیا۔ اب میں مکمل طور پر آن لائن کام کرتی ہوں اور اس کے لیے مجھے ٹیکنالوجی سے مدد مل گئی ہے۔ بہت عجیب بات ہے لیکن میرا خیال ہے کہ میں نے اس سے فائدہ اٹھایا ہے۔ میں نے مہنیوں بعد تک کی بکنگ کر رکھی ہے۔‘

ڈیجیٹل مہارت کی کمی معیشت کو اربوں کا نقصان پہنچا رہی ہے۔ لوگ حتیٰ کہ بہت سی کمپنیاں پیچھے رہ گئی ہیں۔ اس پر کووڈ کی پیچیدگیاں، ایسا لگتا ہے ہر چیز پیچھے کی طرف جا رہی ہے۔ لیکن سچ تو یہ ہے کہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔

’میں ڈیسیکسیا کی مریض ہوں اس لیے مجھے یہاں پہنچنے کے لیے ٹیکنالوجی کی مدد چاہیے۔ میرا پختہ یقین ہے کہ ٹیکنالوجی کسی کو بھی اس قابل کر سکتی ہے کہ وہ کہیں بھی اپنا کاروبار شروع کر سکے اور اسے کامیاب بنا سکے۔‘

’میرے شوہر ایک نیورو سائنٹیسٹ (اعصابی نظام کے سائنسدان) ہیں۔ جب کووڈ آیا تو وہ اس کے خلاف لڑائی میں صف اول پر کام کر رہے تھے اور ہمارے پاس بچوں کی دیکھ بھال کے لیے کوئی مدد بھی نہیں تھی۔‘

’ایسے بھی دن آئے جب میں اپنے لیپ ٹاپ کے سامنے بیٹھی رو رہی تھی۔ معاملات میں توازن قائم کرنا مشکل ہو رہا تھا۔ ستمبر میں میری بیٹی سکول جانے لگی۔ آگے چل کر جب وہ زیادہ خود مختار ہونے لگے گی تو میں اپنے کاروبار پر پوری توجہ دے سکوں گی۔‘

جیس ریٹی، ٹیکنالوجی تعلقات عامہ کمپنی کی بانی، کارن وال

کارن وال سے تعلق رکھنے والی جیس ریٹی ایک ٹیکنالوجی کمپنی کی بانی ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ’اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ میری زندگی کا مشکل ترین سال ہے۔ لاک ڈاؤن کے آعاز پر ہی میں نے صرف دو دن میں اپنے کاروبار کا 40 فیصد گنوا دیا۔‘

’میں نے اپنا مقصد حاصل کرنے کے لیے بہت محنت کی۔ میں ایک وبا کے ہاتھوں سب کچھ گنوانے کی وجہ سے سخت غصے میں تھی۔ میں اپنے صارفین کو مسلسل نظر آنے کے لیے گھنٹوں تک زیادہ سے زیادہ کام کرتی تھی۔ ‘

’مجھے خوف تھا کہ اگلے ہفتے میں کچھ اور گنوا دوں گی۔ لیکن اب میرے پاس 60 فیصد زیادہ کام ہے۔ ‘

’میں گھر سے کام کرتی ہوں۔ لیکن میرا سب سے بڑا مسئلہ میری آٹھ سال کی بیٹی کا سکول بند ہونے جانے کے باعث ہمہ وقت میرے ساتھ ہونا تھا۔ ہم جانتے تھے ایسا ہوگا لیکن یہ سب بہت تیزی سے ہو گیا۔ کام کے ساتھ ساتھ بچوں کا خیال کرنا کافی مشکل کام تھا۔ لاک ڈاؤن سے پہلے میں شاید اسے ناممکن قرار دیتی۔‘

’مجھے یہ کہتے ہوئے شرمندگی ہو رہی ہے کہ اس نے اپنا زیادہ وقت نیٹ فلیکس اور ڈزنی دیکھتے ہوئے گزارا۔ لیکن میں ہی کمانے والی تھی اور میرے پارٹنر گھر کی تزئین میں مصروف تھے اور اس کی تکمیل تک ہم ایک گاڑی میں بنے کمرے میں مقیم تھے۔‘

’اب میں ایک نیا کاروبار شروع کرنے لگی ہوں اور اس مرتبہ یہ تدریسی ٹیکنالوجی سے متعلق ہو گا۔ میں جتنا ممکن ہو سکے چیزیں کرنا چاہتی ہوں تاکہ اپنے قریبی لوگوں کو بچا سکوں اور آئندہ ‘ناممکنات’ سے نمٹنے کے لیے تیار رہ سکوں۔‘

کلیئر مسکٹ، ایسیکس

’جو میں کیا کرتی تھی وہ اب نہیں ہوتا۔ میں اپنے خوابوں کی زندگی اور کرئیرمیں جی رہی تھی۔ اور میں نے اس کے حصول کے لیے کاروباری دنیا کو ترک کیا تھا۔ اور وبا کے آتے ہی سب ختم ہو گیا۔‘

’میرے صارفین جن کے ساتھ میرا کام طے تھا انھوں نے غیر ضروری اخراجات سے منع کر دیا۔ اس کے بعد میرا رشتہ ختم ہو گیا۔ میرے بہترین دوست نے میرا گھر چھوڑ دیا۔ اور اچانک میرا دوسرے لوگوں کے ساتھ رابطہ صرف زوم پر ہی رہ گیا تھا۔‘

میں نے ایسی خواتین سے بات کی جو میری فیلڈ کی تھیں اور ہم نے اپنے احساسات بانٹنے شروع کیے۔ اس سے مجھے خیال آیا کہ ’میں اس انداز گفتگو کو دنیا کے سامنے کیسے لاؤں تاکہ دوسروں کو بھی اس سے تحریک ملے۔‘

’یہ مجھے پاڈ کاسٹگ کی طرف لے گیا۔ ایک برے تجربے کے بعد میں نے خود کو سکھایا کہ کیسے پروڈکشن کرنی ہے۔ اب میرے بل ادا ہو رہے ہیں اور پاڈ کاسٹ کے ذریعے میں اپنی ایک آن لائن کمیونٹی بنا رہی ہوں۔ وبا سے پہلے میں مستقبل کے لیے جیتی تھی اور ہر وقت کسی بڑی تقریب یا دورے کے لیے منتظر رہتی تھی۔ ‘

وہ کہتی ہیں کہ ’اب مجھے نہیں پتا مستقبل میں کیا ہو گا چیزیں واپس پہلے جیسی ہوں گی یا نہیں۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو بھی ٹھیک ہے کیونکہ اب میرے پاس ایک نیا کاروبار ایک نئی زندگی ہے۔‘

ریبیکا سائبر سکیورٹی سپیشلسٹ، آئر لینڈ

’میں پہلے گھر سے کام کرتی تھی لاک ڈاؤن کے آغاز کے دنوں میں مجھے نہیں لگا کے یہ کوئی بہت بڑا مسئلہ ہے۔ لیکن پھر احساس ہوا کہ کچن کی میز پر بیٹھ کر کام کرنا بہت مشکل ہے، پھر میں نے اپنی ایک دوست سے ایک پرانا ڈیسک لیا اور میں بہت خوش تھی۔‘

’جب سے لاک ڈاؤن کا آغاز ہوا تب سے انٹرنیٹ پر سائبر سکیورٹی کے بہت سے مسائل سامنے آنے لگے ہیں کبھی کسی بینک میں جمع کروائی گئی کسی رسید کے اصل ہونے کا مسئلہ ہوتا تو کبھی معمولی رقم کی منتقلی ایک اکاؤنٹ سے دوسرے میں ہوتی اور کبھی چھوٹی سی رقم واپس حاصل کرنا مشکل ہو جاتا۔‘

’میں اپنے پہلے بچے کے ساتھ چار ماہ کی حاملہ تھی مجھے نئے کپڑے چاہیے تھے لیکن جب آپ دکان پر جاتے ہیں تو آپ کوئی چیز پہن کر ٹرائی نہیں کر سکتے اور مجھے اس بات کا بالکل اندازہ نہیں تھا کہ میرا سائز کیا ہو چکا ہے۔

میرے باہر جانے کے اوقات بھی محدود ہو گئے تھے۔ میں گاڑی نہیں چلاتی تھی۔ مجھے کام کے ساتھ سب کچھ کرنا تھا، ہم مصروف اوقات میں باہر نہیں جاتے تھے کیونکہ قطاروں میں کھڑا ہونا بہت تھکا دینے والا عمل تھا۔‘

’مجھے ایسا لگا کہ میں نے اپنی آزادی کھو دی ہے۔ مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ میں کسی دوسرے والدین سے تب تک نہیں مل سکوں گی جب تک میرے بچوں کا سکول شروع نہیں ہو جائے گا۔‘

گلیری براڈلے، ٹیکنیکل رائٹر، لیڈز

’لاک ڈاؤن سے پہلے میں اور میرے شوہر اپنی کمپنی چلاتے تھے جس میں ہم صارفین کی رہنمائی اور ویب سائٹ کے لیے مواد لکھا کرتے تھے۔

لاک ڈاؤن کے دوران ہماری آمدن میں دو تہائی کمی ہو گئی، ہم قانونی طور پر کسی قسم کی حکومتی مدد کے بھی مستحق نہیں تھے اور چونکہ ہمارے پاس کام بھی بہت کم تھا ہم چھٹیوں پر بھی نہیں جا سکتے تھے۔‘

’مجھے ایسے لگ رہا تھا کہ ہم دھیرے دھیرے کسی کھائی کے دہانے پر پہنچ رہے ہیں۔ لیکن مجھے انتہائی حیرت اور خوشی ہوئی جب مئی میں مجھے میری خواہش کے مطابق ملازمت کی پیشکش ہوئی اور وہ تھی انٹرنیٹ اور ٹیکنالوجی کے لیے گھر سے بیٹھ کر مواد لکھنا۔

گھر میں رہ کر بچوں کی موجودگی میں کام کرنا ایسا مشکل ترین کام تھا جو ہم نے کیا۔‘

’میرا بیٹا سات سال کا ہے اور وہ بہت خوفزدہ ہے۔ ہم کبھی کبھار اس کے ساتھ وقت نہیں گزار سکتے مگر ہم ایسا کرنا چاہتے ہیں۔

ہمارے گھر میں ٹی وی دیکھنے کے اوقات کے لیے بنے اصول ختم ہو چکے تھے۔ ہمارے لیے اصل مسئلہ ٹیسٹ کروانے کا تھا۔ میری چھوٹی بیٹی کو جولائی میں کووڈ ہو گیا اور اسے حال ہی میں دوبارہ بخار ہو گیا لیکن ٹیسٹ کے رزلٹ آنے میں چھ دن لگ اور میرے بیٹے کو پھر سے سکول سے چھٹی کرنا پڑی۔ میرے شوہر آدھی رات تک کام کرتے ہیں تاکہ چیزوں کو ٹھیک کیا جا سکے۔‘

سو چارمن انیڈرسن، بانی ایڈا لوو لیس ڈے، امریکہ

وہ کہتی ہیں کہ ایڈا لولیس ڈے کے لیے ’ہم عموماً وسطی لندن میں کیبرے انداز کی تقریب منعقد کرتے ہیں۔ اب ہم نے اس کی جگہ پانچ مفت ویبینارز منعقد کیے ہے اور 50 گھنٹے کی آن لائن ایکسٹرا وگینزا منعقد کی جا رہی ہے جس میں بلاگ، سوشل میڈیا پوسٹ اور یوٹیوب کی پلے لسٹ شامل کی گئی۔‘

’ہم اپنی آن لائن کانفرنس منعقد کر رہے ہیں ہیں جو کہ 29 ممالک میں چلے گی۔ مجھے لائیو سٹریمنگ سروسز اور کانفرنس کے پلیٹ فارم کے لیے چیزوں کو دیکھنا ہے جس کے بارے میں شاید پہلے کبھی بھی نہیں سوچتی تھی۔‘

یہ کافی تھکا دینے والا کام ہے کہ کس طرح سے آن لائن ایونٹس منعقد کیے جائیں جو مناسب قیمت پر بھی ہوں اور اس کے ساتھ ساتھ جو اضافی کام ہے اسے بھی برداشت کیا جائے۔

’اس وبا کی وجہ سے ہماری آمدن پر بہت برا اثر پڑا ہے ہے کیونکہ اب کمپنیوں کے پاس تقریبات کو سپانسر کرنے کے لیے خرچ کی رقم کم ہے۔ ہمیں یہ بھی سوچنا ہے کہ ہمیں اس مندی کا مقابلہ کیسے کرنا ہے لیکن اس سب کے باوجود میں جو کر رہی ہو اس کے لیے بہت پرجوش ہوں۔ ‘

’وبا نے ہمیں ہر چیز کے بارے میں دوبارہ سوچنے پر مجبور کیا ہے اور کچھ تبدیلیاں جو اب ہم نے کی ہیں وہ شاید مستقل طور پر رہیں۔

سنہ 2020 ایک مشکل دور ہے اور ابھی ہم اس مشکل سے باہر نہیں آئے لیکن مجھے امید ہے کہ یہ ہمیں مضبوط بنائے گا اور ہم مزید خواتین تک پہنچ کر ان کی بھی مدد کر سکیں گے۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 16075 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp