کرونا اور قرنطینہ: ایک تجربہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے بہت سے بھائی اب بھی کرونا کی حقیقت ماننے کو تیار نہیں ہیں، اسے مغرب والوں کی ایک سازش قرار دیتے ہیں۔ لیکن جن کو کرونا نے اپنے رنگ دکھایا ہے، وہ اسے ماننے لگ گئے ہیں۔ پاکستان میں کرونا شروع ہونے پر ہم نے چار ماہ تو اس کے ڈر سے گھر میں ہی رہ کر گزارے۔ لیکن پھر بھی اتنی زیادہ پابندی نہیں تھی۔ ہم دونوں میاں بیوی اور وہ بھی پچاس سے اوپر کے، سبھی ڈراتے تھے۔ بچے پردیس میں علیحدہ پریشان کہ وطن میں والدین اکیلے ہیں۔ احتیاطاً اپنے سارے پروگرام موقوف کر کے گھر بیٹھ گئے۔ لے دے کر ایک ہفتہ وار ریڈیو پروگرام رہ گیا، جس کے لئے ریڈیو سٹیشن پر جانا اور وہ بھی بڑی احتیاط کے ساتھ۔

پھر جب برطانیہ میں کرونا کا زور کچھ کم ہوا اور فلائٹیں بحال ہوئیں تو بچوں نے اپنے پاس برطانیہ بلانے کے لئے ٹکٹ بھیج دیا۔ اگست کے آخری ہفتے کی سیٹ بھی بک کرا دی۔ پہلے پہل بچوں کے پاس جانے پر بڑی تیاریاں اور چھوٹے بچوں کے لئے بڑی خریداری ہوتی تھی، لیکن اس دفعہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے وہ بھی بہت محدود رہی۔ فلائٹ سے دو ہفتے پہلے ایئرلائن والوں کی طرف سے ای میل آئی کہ سفر سے تین دن پہلے کرونا کا ٹیسٹ کروائیں، ورنہ جہاز پر نہیں بٹھائیں گے۔ صرف کرونا ٹیسٹ منفی آنے پر ہی جہاز میں بیٹھنے دیا جائے گا۔

اب منی لندن کہلانے والے شہر میر پور میں کرونا ٹیسٹ کی پرائیویٹ سہولت ہی موجود نہیں۔ اسلام آباد سے کرونا ٹیسٹ کروانا پڑا۔ اب یہ پریشانی کہ اگر ٹیسٹ مثبت نکل آیا تو کیا بنے گا۔ اسی پریشانی میں پیکنگ بھی نہ ہو سکی۔ فلائیٹ سے ایک دن پہلے کرونا کی منفی ٹیسٹ رپورٹ آئی تو اطمینان ہوا اور فوراً پیکنگ وغیرہ کر کے تیاری کر لی۔ بچوں کی طرف سے بڑی لمبی چوڑی ہدایات کہ سفر میں ہر وقت ماسک پہن کر رکھنا ہے۔ ہاتھوں میں گلوز پہن کر رکھنے ہیں، کسی سے ہاتھ نہیں ملانا وغیرہ۔

اسلام آباد ایئرپورٹ پر پہنچے تو دیکھا کہ ہر طرف لوگ بغیر ماسک کے گھوم رہے تھے۔ صرف مسافروں نے ماسک پہن رکھا تھا۔ امیگریشن کے مراحل سے گزر کر لاؤنج میں پہنچے تو لاؤنج کے اندر بھی بہت کم لوگوں نے ماسک یا گلوز پہنے ہوئے تھے۔ بلکہ ایک منسٹر بھی اس کے بغیر ہی لاؤنج میں گھومتے نظر آئے۔ جہاز میں سوار ہونے لگے تو جہاز والوں نے سب کو ماسک پہننے کی ہدایت کی، تو سب مسافروں نے ماسک پہن لئے مبادا جہاز پر سوار نہ ہونے دیا جائے۔

جہاز میں کوئی سیٹ خالی نہیں تھی۔ سب لوگ ساتھ ساتھ بیٹھے تھے۔ البتہ اسلام آباد سے دبئی تک سارے راستے فلائیٹ میں ایئر ہوسٹس مسافروں کے ماسک چیک کرتی رہیں۔ دبئی اترے تو سب لوگ ہی بہت محتاط تھے اور فاصلہ رکھ کر چل رہے تھے۔ سیکیورٹی چیک پوائنٹ پر بالکل بھی رش نہیں تھا۔ دبئی ایئرپورٹ بالکل ویران تھا۔ بہت سے سیکیورٹی چیک بند تھے۔ ایک سیکیورٹی چیک پر تین چار عربی اور ایک خاتون کھڑی تھیں۔ سب مسافروں نے فوراً اس کے سامنے لائن بنائی اور مناسب فاصلہ رکھ کر کھڑے ہو گئے۔

دبئی ایئرپورٹ پر میں بہت عرصے بعد آیا تھا۔ لیکن اتنے مصروف ایئرپورٹ کو ویران دیکھ کر کچھ عجیب سا لگا۔ عموماً عربیوں سے سبھی ڈرتے ہیں اور پاکستانیوں کے ساتھ تو ان کا رویہ اور بھی ہتک آمیز ہوتا ہے۔ سب بڑے الرٹ کھڑے تھے۔ سیکیورٹی چیک سے گزر کر ہم لاؤنج میں پہنچے، تو ہر سیٹ کے ساتھ ایک سیٹ پر سرخ نشان لگا تھا کہ اس پر نہیں بیٹھنا اور وہ خالی بھی تھی۔ صبح کے پانچ بجے تھے، سوائے ایک آدھ ریستوران کے ساری ڈیوٹی فری شاپس بند تھیں۔

ہر طرف ایک عجیب سی ویرانی تھی اور ماحول میں ایک ان جانے خوف کا عنصر شامل تھا۔ ایک گھنٹہ گزرنے کا پتا ہی نہیں چلا۔ مانچسٹر کی فلائٹ کا اعلان ہونے پر ہم کاؤنٹر پر پہنچے سب کا کرونا ٹیسٹ کا ریکارڈ دیکھ کر جہاز میں سوار کرایا گیا۔ اس جہاز میں بھی سب مسافر ساتھ ساتھ بیٹھے تھے کوئی سیٹ خالی نہیں تھی۔ چھے گھنٹے کی اس فلائٹ میں ہم سوتے جاگتے دن بارہ بجے مانچسٹر ایئرپورٹ پر پہنچ گئے۔ بچوں نے فون پر ہمیں بہت ڈرایا ہوا تھا کہ ایئرپورٹ پر دو میٹر کا فاصلہ رکھنا ہے۔

ایئرپورٹ پر امیگریشن کے کاؤنٹر کے سامنے ہر دو میٹر پر نشان بھی بنے ہوئے تھے، لیکن سب لوگ پاس پاس کھڑے تھے۔ ہم میاں بیوی اپنے اگلے مسافر سے دو میٹر کے فاصلے پر کھڑے ہو گئے، لیکن ہمارے پیچھے دو مسافر ہمارے بالکل ساتھ آ کر کھڑے ہو گئے۔ امیگریشن افسر نے بھی ماسک نہیں پہنا ہوا تھا۔ وہ شا ید ابھی ٹریننگ پر تھا، ہمارے کاغذات اور پاسپورٹ چیک کرتے کرتے اس نے آدھے گھنٹے سے زیادہ لگا دیا۔ امیگریشن سے فارغ ہو کر ہم نے اپنا سامان اٹھایا اور باہر آئے۔

باہر نکلے تو دیکھا کہ بہت ہی کم لوگوں نے ماسک پہنا ہوا تھا اور کوئی فاصلہ نہیں رکھا ہوا تھا سب ساتھ ساتھ کھڑے تھے۔ اب گھر پہنچ کر ہم نے امیگریشن کی ہدایت کے مطابق دو ہفتے قرنطینہ میں رہنا تھا۔ ایئرپورٹ پر امیگریشن افسر نے کہا تھا کہ آپ نے چودہ دن تک گھر سے نہیں نکلنا اور فارم پر دیے ہوئے ایڈریس پر موجود رہنا ہے۔ پولیس چیک کرے گی اور اگر آپ فارم میں دیے گئے ایڈریس پر موجود نہ ہوئے تو ایک ہزار پاؤنڈ جرمانہ ادا کرنا ہو گا۔

بیٹی کے گھر پہنچ کر ہم نے چودہ دن کے لئے قرنطینہ کر لیا۔ برطانیہ میں پاکستان کی نسبت گھر بہت ہی چھوٹے ہوتے ہیں۔ گو کہ بیٹی کا گھر بہت بڑا ہے لیکن چودہ دن تک آپ بالکل گھر میں بند ہو جائیں، تو آدمی بالکل پاگل سا ہو جاتا ہے۔ بڑی مشکل سے ٹی وی دیکھ دیکھ کر اور کتابیں پڑھ پڑھ کر چودہ دن پورے کیے۔ ایک دن کچھ ضروری اشیا خریدنے کے لئے باہر دو تین سٹورز پر گئے۔ اگلے دن چھے سال کا نواسہ سکول سے واپس آیا تو اسے کچھ فلو سا تھا۔

شام کو کھانے پر جب اس نے کہا کہ اسے کھانے کا ٹیسٹ نہیں آ رہا تو سارے فکرمند ہو گئے۔ اگلے دن کے لئے اس کا کرونا ٹیسٹ بک کروایا گیا۔ اس کا ٹیسٹ ہو گیا اب اس کا رزلٹ چوبیس گھنٹے بعد آنا تھا۔ چوبیس گھنٹے سب نے قرنطینہ کیا۔ رزلٹ منفی آنے پر سب کی جان کی جان آئی اور قرنطینہ ختم کر دیا گیا۔ اگلے دس دن بڑے اچھے گزرے۔ تمام احتیاط کے ساتھ بھائی سے ملنے کے لئے لندن کا ایک دن کا ٹور کیا۔ بہنوں سے نہیں رہا گیا تو وہ ایک دن ملنے چلی آئیں۔

لیکن اس سے اگلے دن ہی برمنگھم کے نزدیک ہمارے ٹاؤن میں کسی کے گھر جانے پر پابندی لگ گئی، اس لئے دوسری سب فیملی سے فون پر ہی سلام دعا ہوئی۔ دو ایک دن بعد داماد نے شام کو کھانا کھاتے ہوئے کہا کہ اس کو کھانے کا ٹیسٹ نہیں آ رہا۔ آکسیجن لیول چیک کیا تو وہ بھی کم تھا۔ فوراً این ایچ ایس کے پاس اس کا ٹیسٹ بک کروایا گیا۔ اگلے دن بیٹے کا ٹیسٹ ہوا، اب اس کا رزلٹ چوبیس گھنٹے بعد آنا تھا۔ وہ چوبیس گھنٹے سب کے لئے بہت ہی اذیت والے تھے۔

بیٹے کو کھانے کا ٹیسٹ ختم ہونے کے علاوہ کوئی اور علامت نہیں تھی، وہ بالکل ٹھیک تھا۔ لیکن اس کا کرونا ٹیسٹ کا پازیٹو رزلٹ آیا تو سبھی پریشان ہو گئے۔ اب کیا ہو گا۔ اس کے والد بھی ایک ماہ قبل کرونا کی وجہ سے زیادہ بیمار رہے تھے۔ برطانیہ میں پہلے مرحلے میں بہت زیادہ لوگ کرونا کا شکار ہوئے تھے، ان میں پاکستانی کمیونٹی کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ بیٹے کو اس کے کمرے میں آئسولیٹ کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ اب ہم چار بڑے اور تین بچے گھر میں تھے۔

اب گھر کے دوسرے افراد کے ٹیسٹ بھی کروائے گئے جو کہ اللہ کی رحمت سے سب کے منفی آئے۔ بیٹی این ایچ ایس میں ڈاکٹر ہے اور جی پی ہے۔ اس نے اپنی سرجری میں بتایا تو انہوں نے اسے گھر آئسولیٹ کرنے اور گھر سے کام کرنے کو کہہ دیا۔ ایک لیپ ٹاپ اسے دے دیا۔ اب وہ گھر سے کام کر رہی ہے۔ روز صبح وہ لیپ ٹاپ لے کر بیٹھ جاتی ہے اور فون پر اپنے مریضوں کو ہدایات اور ادویات لکھ کر دیتی رہتی ہے۔ اللہ تعالی کا شکر ہے کہ بیٹے کو سوائے ٹیسٹ ختم ہونے کے کوئی اور تکلیف نہیں ہوئی اور وہ مکمل صحت یاب ہو گیا ہے۔ لیکن ہم سب لوگ پھر چودہ دن کے لئے قرنطینہ میں ہیں۔ سارا دن گھر میں گزارنا ہمارے لئے ایک میٹھی جیل سے کم نہیں ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •