ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور انسانی سماج

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ٹیکنالوجی موجودہ انسانی سماج میں روز مرہ زندگی کا ایک لازمی جزو بن چکی ہے اور گزرتے وقت کے ساتھ زندگی کے تمام شعبہ جات میں ٹیکنالوجی سے استفادے کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹیکنالوجی پر دسترس یا فوقیت رکھنے والے ممالک کو، دیگر ممالک پر کئی اعتبار سے سبقت حاصل ہے۔ مختلف ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کے حوالے سے مذاکرات کے دوران میں ”ٹیکنالوجی ٹرانسفر“ بھی بات چیت کا ایک اہم موضوع بن چکی ہے۔

امریکا، چین سمیت یورپی ممالک ٹیکنالوجی کے میدان میں خاصے آگے ہیں، لیکن ترقی پذیر اور پس ماندہ ممالک بدستور اس شعبے میں بہت پیچھے نظر آتے ہیں۔ اس کی اہم وجوہ میں ”ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ“ کو توجہ نہ دینا، پالیسی سازی کا فقدان، مالیاتی وسائل کی کمی اور دیگر بے شمار مسائل شامل ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک کے بر عکس چین ایک ترقی پذیر ملک کی حیثیت سے ٹیکنالوجی کے میدان میں عالمی سطح پر اپنا لوہا منوا چکا ہے اور وقتاً فوقتاً چین کی جانب سے ایسی کانفرنسوں اور تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے، جس میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں تبادلے اور تعاون سے متعلق بات کی جاتی ہے۔

چین کے شہر فوجو میں اس وقت بھی تیسری ”چائنا ڈیجیٹل سمٹ“ جاری ہے۔ اس سمٹ کی خاص بات دنیا کو کووڈ۔ 19 کی روک تھام اور کنٹرول کے لیے چین کی جانب سے استعمال کی جانے والی جدید ٹیکنالوجی سے متعارف کروانا ہے۔ جب کہ سمٹ کے دوران میں دنیا یہ بھی جان پائے گی کہ چین کی اقتصادی سماجی ترقی میں ٹیکنالوجی نے کیا اہم کردار ادا کیا ہے۔ سمٹ میں ہواوے، علی بابا اور ٹینسنٹ جیسے عالمی شہرت یافتہ اداروں کی شرکت سے جدید ترین ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، مثلاً: 5 G، آرٹیفیشل انٹیلی جنس، بگ ڈیٹا اور بلاک چین وغیرہ میں تبادلوں اور تعاون کا بھی مضبوط پلیٹ فارم میسر آیا ہے۔

چین کی جانب سے اس سمٹ کا انعقاد ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے، جب دنیا کے بیشتر ممالک بدستور، وبا کی سنگینی کا شکار ہیں۔ دنیا نے دیکھا کہ چین میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے موثر استعمال کی بدولت کووڈ۔ 19 کی روک تھام میں نمایاں مدد ملی ہے۔ اس سمٹ کے دوران میں بھی فائیو جی نیٹ ورک پر مبنی ایسے آلات رکھے گئے ہیں، جنہیں چھوئے بغیر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ان کا مقصد وبائی صورت احوال میں ممکن حد تک احتیاطی تدابیر کے حوالے سے معاونت فراہم کرنا ہے۔

چین میں آرٹیفیشل انٹیلی جنس کی مدد سے مریضوں کی تشخیص اور علاج معالج کو بہتر بنایا گیا، بگ ڈیٹا کی بدولت مرض کے کلینکل خد و خال کو سمجھا گیا، ڈرون ٹیکنالوجی کے استعمال سے مختلف علاقوں میں وبائی صورت احوال پر نظر رکھی گئی، روبوٹ ٹیکنالوجی نے اسپتالوں میں ادویات اور طبی سامان کی ترسیل سمیت مریضوں کی طبی دیکھ بھال میں مدد فراہم کی، ٹیلی میڈیسن سینٹرز کے قیام سے دشوار گزار علاقوں میں مشاورتی خدمات فراہم کی گئیں، ورچوئل کانفرنس کے ذریعے چینی طبی ماہرین نے دنیا بھر کے ماہرین کے ساتھ انسداد وبا میں چین کے کامیاب تجربات کا تبادلہ کیا۔ اس طرح چین نے صحت عامہ کے نظام کو جدید ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کرتے ہوئے، دنیا کو ”ڈیجیٹل ہیلتھ سسٹم“ سے روشناس کروایا۔

اس وقت عالمی سطح پر ایک جانب جہاں اقتصادی بحران کے باعث، کاروباری اداروں کے مستقبل کو چیلنجوں کا سامنا ہے، وہاں دوسری جانب کووڈ۔ 19 نے دنیا کو اقتصادی سماجی سرگرمیاں جاری رکھنے کے لیے ٹیکنالوجی پر انحصار سے متعلق بھی سکھایا ہے۔ وبائی صورت احوال میں ویڈیو اجلاس، ورک ایٹ ہوم، ورچوئل کانفرنس، آن لائن تعلیم، وغیرہ کے تصورات ابھر کر سامنے آئے ہیں اور انہیں عالمی سطح پر مقبولیت بھی حاصل ہوئی ہے۔

چین اس ضمن میں سرفہرست ہے، جس نے نا صرف اندرون ملک ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو فروغ دیا ہے، بلکہ دنیا کو بھی جدت سے روشناس کروایا ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ چین میں اس وقت انٹرنیٹ صارفین کی مجموعی تعداد 940 ملین ہے، دنیا بھر میں 4 G صارفین کے اعتبار سے چین دنیا میں سرفہرست ہے، جب کہ ملک بھر میں پانچ لاکھ سے زائد 5 G بیس اسٹیشن بھی تعمیر کیے جا چکے ہیں، جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے، چینی سماج میں ٹیکنالوجی کس تیزرفتاری سے فروغ پا رہی ہے۔

چین کی ڈیجیٹل معیشت گزشتہ برس ء2019 میں 35.8 ٹریلین یوان تک جا پہنچی ہے، جو امریکا سے پانچ ٹریلین ڈالرز زائد ہے۔ چین نے ترقی کے روایتی تصورات کو جدت سے ہم آہنگ کیا ہے اور اسمارٹ مینو فیکچرنگ، انڈسٹریل انٹرنیٹ، ای کامرس، اسمارٹ ویئر ہاؤسنگ اور شیئرنگ اکانومی، چین کی تیزرفتار اقتصادی ترقی کا انجن بن چکے ہیں۔ ڈیجیٹل معیشت کی ترقی نے ملک میں روزگار کے مواقع کو بھی وسعت دی ہے اور گزشتہ سال 2019ء میں اڑتالیس ملین لوگوں کو ای کامرس کے شعبے میں روزگار ملا ہے۔ زراعت کو ٹیکنالوجی سے ہم آہنگ کیا گیا ہے اور جدید زرعی اصولوں کی بدولت، آج چین خوراک میں خود کفیل ہو چکا ہے۔

چین کی کوشش ہے کہ ڈیجیٹل ترقی کے سفر میں اپنے ہمسایہ ممالک، بالخصوص ترقی پذیر ممالک کو بھی شامل کیا جائے۔ دنیا ڈیجیٹل بیلٹ اینڈ روڈ کے تصور سے بھی بخوبی آگاہ ہے، جس کا ایک مقصد پاکستان سمیت بیلٹ اینڈ روڈ سے وابستہ دیگر ممالک میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں تبادلے اور تعاون کی مضبوطی ہے۔ ایک بڑے ذمہ دار ملک کے طور پر چین چاہتا ہے کہ ڈیجیٹل ترقی کے ثمرات صرف مغربی ترقی یافتہ ممالک تک ہی محدود ہو کر نہ رہ جائیں بلکہ دنیا کے ہر فرد کی ٹیکنالوجی تک رسائی چین کا مشن ہے اور ”چائنا ڈیجیٹل سمٹ“ جیسا پلیٹ فارم اس ہدف کی تکمیل میں انتہائی معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •