منشی اور وکیل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

منشی (کلرک۔ آفس کوآرڈینیٹر، آفس ایڈمنسٹریٹر، آفس انچارج یا کسی بھی اور نام سے موسوم) وکالت کے پیشہ کی ریڑھ کی ہڈی کی اہمیت رکھتا ہے۔ منشی کے بغیر وکیل بنا نب کے پین کی صورت ہوتا ہے۔ وکالت کے اوائل میں راقم نے جتنی بھی پریٹیکل وکالت سیکھی وہ استاد محترم کے منشی (جنہیں میں آج بھی احتراماً استاد جی ہی کہتا ہوں) سے سیکھی۔ اسی لئے شاید سوشل میڈیا کے اس دور میں سوشل میڈیا پر مختلف مزاح نگاروں نے وکیل کی تعریف کرتے ہوئے یہ تک لکھا کہ ”17 سال کی پڑھائی کے بعد میڑک فیل منشی کی شاگردی کرنے والے کو وکیل کہتے ہیں“

منشی کی اہمیت پر جتنا لکھوں کم ہے، سید اصغر حسین شاہ سبزواری سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان Limitation Act کا مذاق اڑاتے ہوئے اور منشی کی اہمیت جتاتے ہوئے فرمایا کرتے کہ ”ایہہ تے منشیاں دا قانون اے“ ۔ تحریر کے عنوان میں بھی راقم نے منشی کی اہمیت کی پیش نظر منشی پہلے اور وکیل بعد میں لکھا۔ القصص! پیشہ وکالت کی بقا کی اکائی منشی ہے۔

منشی بہت اہم ہے مگر منشی منشی ہے۔ ایک منشی جتنا بھی اہم وہ کبھی افسر آف دی کورٹ کی برابری نہیں کر سکتا۔ جو دوست ہائی کورٹ کے وکلاء ہیں جو اپنے کیسزز میں پیش ہوتے ہیں تو وہ اس امر سے بخوبی واقف ہیں کہ ہائی کورٹ کے روسٹرم تک منشی ابھی تک نہیں پہنچ پایا تو اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ منشی جو بھی ہو افسر آف دی کورٹ نہیں ہے۔

ہمارا المیہ یہ ہے کہ میاں آفتاب احمد سپراء ایڈووکیٹ ہائی کورٹ کے بقول ”پہلے وکلاء نے منشی رکھے ہوتے تھے آج کل منشیوں نے وکیل رکھے ہوئے ہیں۔“

پہلے وکیل امپلائر اور منشی امپلائی تھا مگر آج کچھ کالی بھیڑوں کے مرہون منت منشی امپلائر اور وکیل امپلائی بنے پھرتے ہیں۔ بار کونسل ایکٹ میں مقننہ نے ٹاؤٹ کو سخت ناپسند کیا ہے۔ واللہ! جو وکلاء منشیوں کے امپلائی ہیں وہ ان ٹاؤٹس سے بھی بدتر ہیں۔

ہمارا المیہ ہے کہ ہم اپنی منفی پریکٹسزز پر کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔ ہمارے چند وکلا بھائیوں نے منشی کو اس کی اصل جگہ سے کہیں اوپر پہنچا دیا ہے۔ جو کہ قابل افسوس ہے۔ سسٹم کے تحت جس شخص کی جو جگہ بنتی ہے اسے ملنی چاہیے اور اس بات سے کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا کہ جو بھی حالات ہوں وکیل صاحب ہمارا نظام عدل میں منشی سے بہتر درجہ رکھتے ہیں۔

معترض کہیں گے کہ میں BIASED ہو رہا ہوں۔ مگر ان کے لئے اتنا ہی کہوں گہ کہ جو بھی ہو جائے کلرک کلرک ہوتا ہے اور افسر افسر ۔ ہاں یہ الگ بات ہے کہ کلرک محنت کر کے افسر بن جائے۔ اور یہ ہوا بھی ہے میں ایسے کئی دوستوں کو جانتا ہوں جن کا کچہری کا کیریئر بطور منشی ہوا اور آج وہ بہت ہی کمال کے وکیل ہیں کیونکہ انہوں نے بروقت مطلوبہ تعلیم حاصل کر کے خود کو بار سے رجسٹر کروا لیا۔

میرا دل جب غبار سے بھر جاتا ہے تو میں پھٹ پڑتا ہوں۔ آج بھی اسی لئے یہ تحریر لکھ رہا ہوں۔ میں وکلاء کے بہت سے WhatsApp گروپس میں شامل ہوں مگر افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ ہر ایک گروپ میں ایک منشی ضرور ہوتا ہے۔ جو کہ نہیں ہونا چاہیے اور ہاں اگر منشی کا ہونا اتنا ہی ضروری ہے تو وہ گروپ وکلاء کا نہیں کہلایا جانا چاہیے۔

آج کل لائرز فورمز کا بہت رواج ہے۔ الیکشن مقاصد کے لئے ہم خیال دوست اکٹھے ہو کر سیاسی مقاصد کے لئے لائرز فورم کا اعلان کرتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے اپنے لائر فورم بھی ہوتے ہیں مثال کے طور پر حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف کا اپنا انصاف لائرز فورم ہے۔ کل کہیں ایک بار ایسوسی ایشن کے ایک دوست کی فیسبک پر پوسٹ دیکھی اس میں اسی طرح کے ایک فورم کی تشکیل کا اعلان تھا۔ چونکہ ابتدا کے ایک دو نام میرے جاننے والوں کے تھے تو میں نے سارے نام پڑھنا شروع کردے۔ یقین مانیں اس لائرز فورم میں بھی ایک منشی صاحب کا نام بتصویر درج تھا۔ میرا ان منشی صاحب سے واسطہ تب پڑا تھا جب میں اسلام آباد میں وکالت کرتا تھا کیونکہ وہ منشی صاحب بھی ایک مشہور چیمبر پر اسلام آباد میں کام کرتے تھے۔

اس فورم کی تشکیل کے بروشر نے مجھے جھنجوڑ کر رکھ دیا۔ ابھی ایسے کیے اور واقعات لکھ سکتا ہوں مگر شاید ان کے لکھنے سے قریبی دوستوں کی دل آزاری ہوگی اور مجھے کسی کی دل آزاری مقصود نہیں ہے۔ آخر میں میری تمام احباب سے اس تحریر کی رو سے یہ دست بستہ گزارش ہے کہ خدارا منشی کو منشی ہی رہنے دیں کیا خبر ہمارے پیشے کے وقار میں کمی کی یہ ہی وجہ ہو کہ منشی منشی نہیں رہا بلکہ وکیل سے بھی بڑا ہو گیا۔ عین ممکن ہے کہ پیشے کی بدحالی کی اصل وجہ ٹاؤٹسزم اور منشیزم ہی ہو؟

سوچیئے گا ضرور!

اختتامی طور پر اپنے بھائی جنید تارڑ (جو اس وقت وکیل تھے آج اگرچہ سروس میں چلے گئے تو ان کے پاس بلاشبہ قانون کی ڈگری تو ہے مگر اب وہ وکیل نہیں رہے) کے تاریخی الفاظ دہراوں گا۔ ہوا کچھ یوں کہ جنید بھائی اپنے منشی کے ساتھ عدالت میں جا رہے تھے کہ میں نے طنزاً کہا کہ ”جنید بھائی! اپنے افسر کے ساتھ کدھر؟“ تو انہوں نے سنہری جواب دیا کہ ”رانا صاحب! وکالت کے باہر میرا منشی میرا بھائی ہے مگر وکالت میں جو بھی ہو میرا منشی میرا افسر نہیں ہے“ !

خدارا! منشی کو منشی رہنے دیجیئے۔ وکالت باوقار پیشہ ہے اسے باوقار رہنے دیجئے۔

آخر میں میں تمام منشی حضرات کی بطور منشی اور کچہری کا اہم جزو ہونے کی حیثیت سے تہہ دل سے عزت کرتا ہوں۔ منشی لفظ کا استعمال اس لئے کیا کہ یہ اصل لفظ ہے اور کلرک وغیرہ بعد میں بڑھا کر بیان کیے گئے الفاظ ہیں۔ وضاحت اس لئے کہ ہم تو حق کہنے والے چوہدری اعتزاز احسن کا داخلہ کچہری میں ممنوع کر دیتے ہیں۔ میں نے تو پھر بھی تنقید کی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •