انڈیا کی جانب سے پاکستان کو مذاکرات کے لیے کوئی پیغام نہیں بھیجا گیا: انڈین وزارت خارجہ

شکیل اختر - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دلی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انڈین حکومت کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انھوں نے پاکستان کو مذاکرات شروع کرنے کے لیے کوئی پیغام نہیں بھیجا ہے۔

انڈیا کی وزارت خارجہ کے ترجمان انوراگ شریواستو نے یہ بیان پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف کے اُس بیان سے متعلق ایک سوال کے جواب میں دیا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ انڈیا نے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

انوراگ شریواستو نے کہا ‘میں یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ ہماری جانب سے ایسا کوئی پیغام نہیں بھیجا گیا ہے۔’

واضح رہے کہ چند روز قبل پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر معید یوسف نے انڈیا کے سرکردہ صحافی کرن تھاپڑ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا تھا کہ انڈیا کی طرف سے کشمیر کے سوال پر بات چیت شروع کرنے کا پیغام ملا ہے۔

معید یوسف نے انٹرویو میں کہا کہ پاکستان نے مذاکرات کے لیے یہ شرط رکھی کہ انڈیا پہلے ‘پاکستان کے علاقوں میں دہشت گردی کی سرگرمیاں بند کرے، اور دوسرا یہ کہ کشمیر پر ہونے والی بات چیت میں کشمیری رہنماؤں کو بھی شامل کیا جائے ۔’

انڈین وزارت خارجہ کے ترجمان نے انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے ایک انڈین میڈیا گروپ کے ساتھ پاکستان کے ایک اعلیٰ اہلکار کے انٹرویو کی خبریں پڑھی ہیں ’جس میں انھوں نے ہمیشہ کی طرح اس بار بھی انڈیا کے اندرونی معاملے پر تبصرہ کیا ہے‘۔

ان کا کہنا تھا ‘انڈیا کا نام اچھال کر یہ داخلی محازوں پر موجودہ حکومت کی ناکامیوں سے توجہ ہٹانے اور اپنی عوام کو گمراہ کرنے کی پاکستان کی کوشش ہے۔’

انھوں نے مزید کہا کہ وہ پاکستان کے اہلکار کو یہی صلاح دیں گے کہ ’وہ اپنے مشورے اپنی حکومت تک محدود رکھیں اور انڈیا کے اندرونی معاملات پر تبصرہ کرنے سے گریز کریں‘۔

ترجمان نے الزام لگایا کہ ’پاکستان نے انڈیا کے خلاف سرحد پار دہشت گردوں کی اعانت اور حمایت کا سلسلہ جاری رکھا ہے اور پاکستانی قیادت انڈیا کے خلاف نامناسب، نفرت انگیز اور اشتعال انگیز بیانات دیتی رہی ہے‘۔

انھوں نے کہا ‘پاکستان سرحد پار سے دہشت گردوں کی دراندازی کے لیے بلا اشتعال جنگ بندی کی خلاف ورزیاں کر رہا ہے۔ دہشت گردی کی حمایت اور ہتک آمیز اور غیر مہذب زبان کے استعمال سے تعلقات سازگار کرنے میں مدد نہیں ملتی۔’

کشمیر

EPA
پاکستان کے قومی سلامتی کے مشیر ڈاکٹر معید یوسف نے مسئلہ کشمیر کے کسی بھی حل میں کشمیریوں کی شرکت پر زور دیا

تعلقات برسوں سے منجمد

انڈیا اور پاکستان کے درمیان گذشتہ کئی برسوں سے تعلقات منجمد ہیں۔ گذشتہ برس اگست میں انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی آئینی حیثیت میں غیر معمولی تبدیلی کے بعد دونوں ملکوں کے تعلقات مزید خراب ہو گئے ہیں۔

اس کے علاوہ رواں برس جون میں مشرقی لداخ کی وادی گلوان میں لائن آف ایکچول کنٹرول (ایل اے سی) پر انڈیا اور چین کے فوجیوں کے درمیان ایک خونریز ٹکراؤ میں کم از کم بیس انڈین فوجی ہلاک اور ستر سے زیادہ زخمی ہوئے تھے۔

اس ٹکراؤ کے درمیان انڈین حکام کے مطابق چینی فوجیوں نے ایل اے سی کے کئی مقامات پر انڈیا کے علاقے پر قبضہ کر لیا ہے اور اب وہ پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

انڈیا کے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے لداخ خطے میں اپنے حالیہ دورے کے دوران کہا تھا کہ ایسا لگتا ہے کہ چین اور پاکستان سرحد پر کسی مشن کے تحت مشکلیں پیدا کر رہے ہیں اور انڈیا کو دونوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

کشیدگی ختم کرنے کے لیے انڈیا نے چین کے ساتھ فوجی اور سفارتی سطح پر کئی مذاکرات کیے ہیں لیکن ابھی تک بات چیت میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔

رواں ماہ کے اواخر میں امریکہ کے وزیر خارجہ اور وزیر دفاع اپنے انڈین ہم منصب سے بات چیت کے لیے دلی آ رہے ہیں اور خیال کیا جا رہا ہے کہ اس گفتگو کا محور چین اور پاکستان سے تعلقات ہوگا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 15932 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp