EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

نئی تعلیمی پالیسی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان تعلیمی لحاظ سے پسماندہ ملک ہے جہاں شرح خواندگی بنگلہ دیش اور مالدیپ سے کم ہے اور اس کی وجہ پاکستان میں ناکام تعلیمی پالیسیاں ہیں۔ پاکستان میں ہمیشہ ناکام تعلیمی پالیسیاں بنائی جاتی رہی ہیں کیونکہ ہم ہمیشہ امریکہ اور یورپ کے نظام کو نقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو کہ ہمارے ماحول میں لاگو کرنا مشکل ہے۔ ہمیں اپنے ماحول اور لوگوں کے روپے کے مطابق پالیسی بنانی چاہیے تاکہ اس پالیسی کو آسانی سے لاگو بھی کیا جا سکے۔

حال ہی میں ایک نئی پالیسی کے بارے میں سننے کو ملا ہے جس میں تعلیمی نظام میں تبدیلیاں کی گئی ہیں جو کہ پاکستان میں لاگو کرنا ناممکن نظر آتا ہے۔ اس پالیسی میں میٹرک تک کی کلاسز کو بورڈ امتحان سے مستثنیٰ کرنے کی تجویز دی گئی ہے جو کہ مضحکہ خیز بات ہے اور صرف انٹرمیڈیٹ کے امتحان بورڈ کے تحت لینے کی تجویز ہے۔ اب اگر پاکستان کی صورتحال دیکھی جائے تو ہمارے ہاں تعلیمی نظام خرابی کا شکار ہے۔ ہمارے ہاں سرکاری و نجی اداروں میں اساتذہ اس ڈر سے پڑھاتے ہیں کہ بچوں کو بورڈ امتحان پاس کرانا ہے اور نجی ادارے اس غرض سے اچھے اور قابل اساتذہ کو رکھتے ہیں تاکہ وہ بورڈ میں نمایاں پوزیشن لینے میں معاون ثابت ہوں اور ادارے کا نام بنے اور اگلے سال زیادہ سے زیادہ داخلے کیے جا سکیں اور سرکاری اداروں میں بھی نتیجے کی جواب طلبی کے ڈر سے پڑھاتے ہیں۔

جس کی وجہ سے جب بچہ انٹرمیڈیٹ تک پہنچتا ہے اس کے پاس کچھ حد تک علم ہوتا ہے اور وہ آگے اعلیٰ تعلیم کے قابل ہو جاتا ہے۔ لیکن اب جو تعلیمی پالیسی متعارف کرائی جا رہی ہے میرے خیال میں یہ تعلیمی نظام کی بربادی کا سبب بنے گی کیونکہ جب اداروں اور اساتذہ پر بورڈ امتحان کا پریشر نہیں ہو گا اور انہوں نے خود امتحان لے کر پاس کرنا ہے تو وہ پڑھانا چھوڑ دیں گے اور بس ٹائم پاس کریں گے اور طالب علم بھی سست روی کا شکار ہوں گے کیونکہ جب ان کے ذہن میں یہ بات ہو گی کہ امتحان تو ادارے نے خود لینا ہے تو وہ نہیں پڑھیں گے اور اس کے ساتھ ساتھ پاس ہونے کے لئے ناجائز ذرائع استعمال کریں گے۔

نجی اداروں میں حالات زیادہ ابتر ہوں گے کیونکہ نجی ادارے کم تنخواہ لینے والے نا اہل لوگوں کو نوکری پر رکھ لیں گے اور پاس کرنے کے لئے رشوت کے بازار گرم ہوں گے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ ایک ایسا طالب علم جس نے کچھ بھی نہ پڑھا ہو تو ہم اعلیٰ تعلیمی اداروں میں اس سے اچھی امید کیسے رکھ سکتے ہیں اور وہ قومی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کیسے کر سکتا ہے؟ یہ نظام یورپ اور امریکہ میں لاگو ہو سکتا ہے کیونکہ وہاں معاشرتی ادب و آداب اور اصول و قواعد کی پاسداری ہے اور ہمارے ہاں بدقسمتی سے اصول و قواعد اور قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے تعلیم یافتہ ہی ہوتے ہیں۔

اگر ہمیں اس طرح کی پالیسی لاگو کرنا ہے تو پہلے قوم کی تربیت کرنے کی ضرورت ہے جو کہ مشکل ہے کیونکہ 56 فیصد خواندگی والے ملک میں سوچ بدلنا ناممکن سا نظر آتا ہے۔ لہذا حکومت اور پالیسی بنانے والوں کو چاہیے کہ وہ اس پالیسی پر نظرثانی کریں اور اس پالیسی کے بجائے یکساں نظام تعلیم والی پالیسی کی طرف توجہ دیں اور ملک یکساں نظام تعلیم لاگو کریں تاکہ امیر اور غریب کا بچہ ایک جیسی تعلیم حاصل کر سکیں اور ہر میدان میں یکساں مقابلہ کر سکیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •