آئینی جنگ کون لڑے گا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اہم آئینی عہدوں پر تعینات شخصیات نے عہدوں کے تقدس کو پامال کر کے رکھ دیا ہے۔ خفیہ ملاقاتیں اور خلاف قانون اقدامات زبان زد عام ہیں۔ یوں لگتا ہے یہ لوگ آئین شکن اداروں میں غلط راستے سے گھس گئے ہیں اور نظام کو یرغمال بنا لیا ہے۔ صوبے میں انارکی کی صورت احوال ہے اور صوبہ بنانا ریپبلک کا منظر پیش کر رہا ہے۔ بچے بچے کو معلوم ہے کہ کس نے کس سے ملاقات کی، لیکن ڈر کا ایک ایسا ماحول ہے کہ کوئی شخص کھلے عام یہ بات نہیں کرتا۔ نجی محفلوں میں یہ باتیں خوب دل کھول کر کی جاتی ہیں۔ آپ حساس شخص ہیں تو اس کو منافقت قرار دیتے ہیں کہ یہ سب باتیں تو برملا کرنے کی ہیں۔

یہ سب زیر لب کیوں کر رہے ہیں یا کیسا خوف ان پر طاری ہوا ہے کہ غلط اقدامات میں مدد بھی دیتے ہیں اور خود ندامت کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ پبلک سروس کمیشن کے لئے چیف سیکرٹری بلوچستان کے ارسال کردہ 17 ناموں کی فائل،وزیر اعلی بلوچستان نے واپس کر کے 6 نام اپنی طرف سے شامل کر کے، چیف سیکرٹری بلوچستان کو ان کا انٹرویو کرنے کا حکم دیا۔ حیران کن طور پر چھے نام وزیر اعلیٰ نے دیے اور 17 کی ریکمنڈیشن جو چیف سیکرٹری بلوچستان نے کی تھی، میں سے نئی لسٹ میں 5 ارکان کی پوزیشنوں کے لئے 8 نام وزیر اعلیٰ بلوچستان کو ارسال کیے گئے، جن میں صرف 3 ارکان کی تعیناتی کی سفارش کی گئی۔ اس میں 70 سالہ سلام بلوچ، فضل داد کاکڑ اور مدثرہ اسرار کے نام شامل ہیں۔ جب کہ چیف سیکرٹری بلوچستان کی جانب سے بھجوائے گئے دوسرے ناموں میں نصیب اللہ بازئی، عبداللہ، رانا نصیر احمد، سرور جاوید کے نام شامل تھے۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان نے دانستہ طور پر 5 پوسٹوں میں سے دو پوسٹ خالی رکھ کر اپنے معاملات اور اپنوں کو نوازنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس میں ایک ممبر کی پوسٹ ایک آئینی عہدے پر تعینات، دوسرے شخص کے قریبی رشتہ دار کو دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ تا کہ معاملات درست سمت میں چلائے جا سکیں اور یوں صوبے میں معاملات حکومتی کو معاملات مفاداتی بناتے ہوئے، کچھ لو کچھ دو کے تحت کام چلایا جائے۔ خبر ہے کہ سر عام کرپشن کی داستان رقم کرنے والے سابق ڈی جی ڈاکٹر سلیم ابڑو جن پر تقریباً ایک ارب روپے کرپشن کا الزام ہے، نے آج مبلغ صرف دو لاکھ روپے کے عوض 15 دن کے لئے حفاظتی ضمانت بلوچستان ہائیکورٹ کورٹ سے حاصل کر لی ہے۔ یوں اس حوالے سے سوشل میڈیا پر جو ایک توانا آواز تھی اس کو 15 دن کے لئے خاموشی کی طرف دھکیلنے میں کرپٹ لوگ کامیاب ہوئے۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ اس شخص نے کینسر کے مریضوں کے لئے 7 کروڑ روپے 27 لاکھ کا حصہ، جو کہ ناواٹس ادویہ ساز کمپنی کے ساتھ شراکت داری کے طور پر، حکومت بلوچستان کا جاری پروگرام کے لئے بطور حصہ رکھا گیا تھا، اس سے کینسر کی ادویہ کے بجائے غیر ضروری طور پر لاکھوں کے حساب سے غیر ضروری ادویات خریدیں، جو کہ بہت جلد ایکسپائر ہونے والی ہیں۔ یہ ادویات کورونا وائرس کے نام پر خریدیں گئیں۔ جب کہ اس سلسلے میں کینسر کے موذی مرض میں مبتلا مریض، ادویات نہ ہونے کی وجہ سے احتجاج بھی کر چکے ہیں، لیکن کسی کو خیال نہیں آیا۔

جام فیملی کے ذاتی معالج ڈاکٹر سلیم ابڑو جو کہ جام کی حکومت میں اہم ترین عہدوں پر فائز رہے ہیں، نے کرپشن کی آخری حدوں کو چھوا۔ انہوں نے بطور ڈی جی صحت بلوچستان ڈی ڈی او کی جگہ بھی بلوں پر اپنے دستخط کیے اور تمام ٹھیکے اپنے دستخطوں سے ایوارڈ کرتے رہے، لیکن کسی کو خیال نہیں آیا۔ انہوں نے کورونا کے نام پی پی ای کٹس جو کہ اس وقت مارکیٹس میں مہنگے ترین ریٹس 2500 روپے کے مکمل تھے، نے 6 ہزار روپے کے ایک لاکھ کی تعداد میں خریدیں۔ المیہ یہ دیکھیں کہ نا ہی ان کو احساس ندامت ہے، نا ہی ان کا دفاع کرنے والوں کو، بلکہ حیران کن طور پر وہ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ بولان میڈیکل کالج کوئٹہ کے عہدے پر بھی تعینات ہیں۔

کہنے والے کہتے ہیں کہ چیف سیکرٹری بلوچستان کپتان ریٹائرڈ فضیل اصغر ان کے حامی ہیں اور ان کو بھی شامل تفتیش کرنا چاہیے۔ لیکن جس ڈی جی انٹی کرپشن کو ایف آئی آر درج کرنے کے لئے ڈیڑھ ماہ تک اپنے نوٹ پر چیف سیکرٹری کی اجازت کا انتظار رہا ہو، وہ ایسے شخص کو کس طرح شامل تفتیش کر سکتا ہے۔ آج بھی ہم برملا کہتے ہیں کہ اگر ہم یہ چیزیں سوشل میڈیا پر وائرل نہیں کرتے تو ڈاکٹر ابڑو کو دو لاکھ روپے ہائیکورٹ میں بطور ضمانت نہیں رکھوانے پڑتے۔ موجود چیف سیکرٹری بلوچستان کی موجودگی میں یہ فائل کبھی نہیں نکلتی۔

یہاں تک کہ وزیر اعلی بلوچستان کابینہ کے سامنے بے خوف و خطر رہنے والے چیف سیکرٹری بلوچستان کو کہہ چکے ہیں کہ وہ انٹی کرپشن کو ایف آئی آر درج کرنے کی اجازت دیں، لیکن انہوں نے وزیر اعلی اور پوری کابینہ کی توہین کرتے ہوئے، سنی ان سنی کر دی۔ میں کوئی جج یا احتسابی ادارہ نہیں، تاہم ان تک بات پہنچانا، میری ذمہ داری ہے۔ اپنے حصے کا کام میں کرتا آ رہا ہوں۔ غلط کی نشان دہی کرنا اپنی ذمہ داری سمجھتا ہوں۔ اب کسی سزا یا جیل میں نہیں ڈال سکتا ہوں۔ اخلاقی طور ہر شخص کو اپنی ذمہ داریاں کا احساس از خود کرنا ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •