قائد ملت نوابزادہ لیاقت علی خاں : حیات و خدما ت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قائد اعظم کے دست راست پاکستان کے پہلے وزیر اعظم شہید ملت نوابزادہ لیاقت علی خاں کا شمار مجاہدین تحریک آزادی اور معماران وطن میں ہوتا ہے۔ قیام پاکستان اور استحکام پاکستان کے لئے اس بطل جلیل کی ملی خدمات ہماری تاریخ کا ایک روشن باب ہیں۔ وہ ایک باصلاحیت، دیانتدار، محنتی، بے باک اور عہد ساز شخصیت تھے۔

انہوں نے یکم اکتوبر 1896 ءکو مشرقی بنگال کے ضلع کرنال میں ایک بڑے زمیندار نواب رستم خان کے گھر جنم لیا۔ پیدائش میں ان کا نمبر سجاد علی کے بعد دوسرا تھا۔ ان کا خاندان جو مشہور بادشاہ نوشیروان عادل کی نسل سے متعلق ہونے کا دعویدار تھا۔ تقریباً پانچ سو سال قبل مغلیہ عہد میں ایران سے ہندوستان آیا تھا۔ ان کی زمینیں صوبہ پنجاب اور اتر پردیش میں پھیلی ہوئی تھیں۔ برطانوی عہد میں لارڈ کنینگ نے لیاقت علی خان کے دادا نواب احم علی خان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے پنجاب کے چیف کمشنر کو ہدایت کی تھی کہ اسے اور اس کی اولاد کو ہمیشہ پانچ ہزار روپے کا مالیہ معاف کر دیا جائے اور دس ہزار روپے کی خلعت دی جائے ان کے ہاں نواب کا خطاب پشتی تھا۔

جو ان کے بڑے بھائی سجاد علی خان کو ملا۔ لیاقت علی خان کا بچپن زیادہ تر یوپی میں ہی گزرا جو اس وقت مسلم ثقافت کا بڑا مرکز تھا۔ ان کی تعلیم گھر پر ہی مکمل ہوئی تو وہ مزید تعلیم کے لئے محمڈن اینگلو اورئینٹل کالج علی گڑھ چلے گئے جہاں اسے انہوں نے 1918 ء میں بی اے کا امتحان پاس کیا۔ اس وقت ان کے اہل خانہ ان کو انڈین سول سروس میں شامل کرانے کا خواب دیکھ رہے تھے۔ لیکن دوسری طرف لیاقت علی خان ابھی مزید تعلیم کے حصول کے خواہشمند تھے۔

اس لئے 1919 ء میں وہ قانون کی اعلیٰ تعلیم کے لئے انگلستان چلے گئے۔ جہاں سے 1921 ء میں انہوں نے آکسفورڈ سے قانون کی ڈگری لی اور 1922 ء میں بارایٹ لاء کے لئے انرٹمپل چلے گئے۔ آکسفورڈ میں نوجوان لیاقت علی خان انڈین مجلس کے زیر اہتمام سیاسی مباحثوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے اور کچھ عرصہ تک اس مجلس کے خازن بھی رہے۔ 1923 ء میں وہ ہندوستان واپس آئے اور یو پی کے مقام منظر نگر میں مقیم ہو گئے۔ عملی سیاست میں بھی دلچسپی بڑھی تو اسی سال آل انڈیا مسلم لیگ میں شامل ہو گئے اور مئی 1924 ءمیں پہلی مرتبہ وہ مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس منعقدہ لاہور میں شریک ہوئے۔

1927 ء میں سائمن کمیشن کے مسئلے پر مسلم لیگ دو واضح دھڑوں جناح لیگ اور شفیع لیگ لاہور میں تقسیم ہوئی تو وہ جناح لیگ کے ساتھ کھڑے رہے۔ وہ 1926 ء میں یوپی کی لیجسلیٹو کونسل کے رکن منتخب ہوئے۔ لیاقت علی چونکہ ایک ملنسار اور وضع دار شخصیت تھے اس لیے تعلقات بنانا اور نبھانا خوب جانتے تھے۔ اس لیے مسلسل چودہ سال تک اپنی نشست پر کامیاب ہوتے رہے۔ اس دوران وہ چھ سال صوبائی مجلس قانون ساز کے ڈپٹی پریزیڈنٹ اور ڈیمو کریٹک پارٹی کے راہنما رہے۔

دسمبر 1928 ء میں وہ نہرو رپورٹ پر بحث کے لئے کلکتہ میں منعقدہ نیشنل کانفرنس میں شریک مسلم لیگ وفد کے ممبر تھے۔ اس وقت ہندو مسلم اتحاد کے سفیر محمد علی جناح سے گہری وابستگی کے باعث شروع میں ہندو مسلم اتحاد کے خواہشمند تھے لیکن نہرو رپورٹ اور ہندو انتہا پسندوں کے دباؤ پر اس کی منظوری سے وہ ہندوؤں سے مایوس ہو گئے۔

1933 ء میں انہوں نے دوسری شادی کی اور اسی سال بیگم رعنا لیاقت کے ہمراہ یورپ چلے گئے اس دورے میں انہوں نے انگلستان میں تنظیم سازی اور سیاسی جماعتوں کے ڈھانچوں کا خصوصی مطالعہ کیا۔ لیاقت علی نے اترپردیش میں پہلے ہی ڈیمو کریٹک پارٹی کے نام سے گروپ بنا رکھا تھا اس کی تصدیق نواب احمد سعید خاں آف چھتاری جو فروری 1929 ء میں لیاقت علی کے مہمان بھی رہے اپنی سوانح حیات ”یاد ایام“ میں کرتے ہیں۔ 26 اپریل 1936 ءکو بمبئی سیشن میں مسلم لیگ کی تنظیم نو کے سلسلے میں محمد علی جناح کو صدر اور سر محمد یعقوب کی جگہ نوابزادہ لیاقت علی خاں کو آنریری سیکرٹری جنرل منتخب کیا گیا لیکن ڈاکٹر رفیق افضل کے مطابق صوبائی لیگ کے بعض راہنماؤں سے اختلاف کی وجہ سے وہ جولائی 1936 ء میں مسلم لیگ پارلیمانی بورڈ سے علیحدہ ہو گئے۔

نواب احمد سعید خاں آف چھتاری کی نیشنل ایگریکلچرسٹ پارٹی میں شامل ہو گئے۔ لیکن 1937 ء کا انتخاب انہوں نے کسی پارٹی کے ٹکٹ سے نہیں لڑا تاہم 2 مارچ 1938 ء کو انہیں ایک سرکاری تجارتی وفد کے مشیر کی حیثیت سے سر ظفر اللہ خاں کی زیر قیادت لندن بھیج دیا گیا۔ 1940 ء میں وہ پھر مرکزی اسمبلی کے رکن چنے گئے اور مسلم لیگ پارٹی کے ڈپٹی لیڈر بن گئے اب آپ کا شمار قائد اعظم کے معتمد ترین ساتھیوں میں ہونے لگا تھا اور قائد اعظم نے مسلم لیگ کونسل کو خطاب کرتے ہوئے لیاقت علی خاں کو اپنا دست بازو قرار دیا تھا۔

دسمبر 1943 ء میں آپ کو دوبارہ مسلم لیگ کا جنرل سیکرٹری منتخب کر لیا گیا۔ پھر 1948 ء میں پاکستان مسلم لیگ کے قیام تک یہی فرائض سرانجام دیتے رہے آپ کی صلاحیتوں کا اصل امتحان 1946 ء میں شروع ہوا جب آپ کو مسلم لیگ کی جانب سے وائسرائے کی کونسل میں شامل کیا گیا اور عبوری حکومت میں وزیر خزانہ بنایا گیا اس وقت عام خیال یہی تھا کہ وزارت خزانہ جیسی مشکل اور اہم ذمہ داری نبھانا کسی مسلمان یا نواب کے بس کا روگ نہیں۔

چنانچہ اس بے بنیاد چیلنج کو قبول کرتے ہوئے لیاقت علی خان نے سماجی انصاف کے اصولوں پر مبنی جو تاریخ ساز بجٹ پیش کیا اسے غریب آدمی کا بجٹ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اس بجٹ سے ہندو سرمایہ دار حیران و پریشان رہ گئے اور اس کی مخالفت کرنے لگے۔ ایک پرولتاری مزاج کے حامل نوابزادے کے اس ”کارنامے“ کے سامنے آخر کار کانگریسی راہنماؤں نے گھٹنے ٹیک دیے اور کئی راہنماؤں نے بادل نخواستہ تقسیم ہند کی حمایت شروع کر دی۔

قیام پاکستان کے بعد لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی خواہش کے برعکس جب قائد اعظم نے سربراہ ریاست کی حیثیت سے حلف اٹھایا تو اپنے ساتھ بطور وزیر اعظم نوابزادہ لیاقت علی خان کا ہی انتخاب کیا بلاشبہ ابتداء میں بابائے قوم خود ہی قوم اور حکومت کی راہنمائی فرماتے تھے۔ لیکن اس دور میں بھی ان کے فیصلوں کو عملی جامہ پہنانے کی ذمہ داری وزیر اعظم ہی کی تھی لیکن صرف ایک سال بعد جب قائد اعظم قوم کو داغ مفارقت دے گئے تو نوزائیدہ پاکستان کی بنیادیں ہل گئیں بھارت نے اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حیدر آباد دکن پر ہلہ بول دیا اس سے نوزائیدہ مملکت خداداد کے بارے میں لوگوں کے دلوں میں ہزاروں اندیشے اور خطرے جنم لینے لگے۔ ایس ایم اکرام کے بقول غیر ملکی مبصرین تو یہاں تک کہنے لگے کہ

”With the builder ’s death the house that Jinnah built would collapse“

یعنی معمار کی وفات سے وہ مکان جو جناح نے تعمیر کیا قائم نہیں رہ سکے گا۔ ان تشویشناک حالات میں نوابزادہ لیاقت علی خان نے عزم و استقلال سے قوم کے آزردہ دلوں کو سنبھالا دینے اور لا تعداد مسائل کی الجھی ہوئی گتھیوں کو سلجھانے میں ناقابل فراموش کردار سرانجام دیا۔ انہوں نے خود اعتمادی، تندہی، لگن اور تدبر سے اندرون و بیرون ملک پاکستان کی ساکھ نہ صرف قائم رکھی بلکہ اس میں اضافہ کیا چوہدری محمد علی کے الفاظ میں

”Liaqat Ali rose to unexpectedly great hights as the national leader“

لیاقت علی کو جن مسائل کا سامنا تھا ان میں سرفہرست فرقہ وارانہ فسادات اور مہاجرین کی آباد کاری کا تھا آپ خود مہاجر کو نسل کے چیئرمین تھے اور شب و روز آباد کاری کے فرائض سرانجام دیتے رہے فرقہ وارانہ فسادات کی روک تھام کے لئے حکومت ہند اور لارڈ ماؤنٹ بیٹن سے ملاقات کی متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔ فضا کو خوشگوار بنانے کے لئے گاندھی کی سمادھی پر پھول چڑھائے۔ پٹیل کی عیادت کی اور نہرو لیاقت پیکٹ کے لئے راہ ہموار کی۔

عبوری دور میں ہی لیاقت علی خان ثابت کر چکے تھے کہ وہ اقتصادی و مالیاتی امور سے کماحقہ ’آگاہ ہیں۔ چنانچہ وزارت عظمی کا منصب سنبھالنے کے بعد آزاد معیشت کے لئے ملکی برآمدات پر زور دیا اور پہلے ہی سال بظاہر ناگفتہ بہ حالت اور اثاثوں کی غیر منصفانہ تقسیم اور روک کے باوجود متوازن بجٹ پیش کر کے مستحکم معاشی حالت کی نشاندہی کی۔ انہی کے دور میں اکتوبر 1948 ء میں لاہور میں سکے ڈھالنے کے لئے ٹکسال قائم کیا گیا۔

اقتصادی حوالے سے انہیں ستمبر 1949 ءمیں ایک اور کڑے امتحان سے گزرنا پڑا جب برطانیہ سمیت کئی ممالک نے اپنی معاشی بدحالی کے باعث عالمی سطح پر اپنے سکے کی قیمت گرانے کا فیصلہ کیا لیکن پاکستان اور بھارت کے درمیان ڈیڑھ سال تک معاشی سردجنگ جاری رہی بالآخر 25 جنوری 1951 ء کو بھارت نے پاکستانی سکے کی نئی شرح تبادلہ کو تسلیم کر لیا انہی دنوں کوریا کی جنگ چھڑ جانے سے بھی پاکستان نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔

نومبر 1949 ء میں نیشنل بنک آف پاکستان قائم کیا گیا۔ اسی سال کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت کے لئے سب سے پہلا سٹاک ایکسچینج کراچی میں قائم کیا گیا۔ 1950 ء میں پاکستان انڈسٹریل ڈویلپمنٹ کارپوریشن قائم کی گئی جس کا مقصد پبلک سیکٹر میں صنعتیں قائم کرنے کے بعد ان کو پرائیویٹ سیکٹر میں منتقل کرنا تھا۔ کونسل آف سائنٹفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ کا قیام بھی عمل میں لایا گیا۔ تیل کی تلاش شروع ہوئی جس کی وجہ سے سوئی گیس دریافت ہوئی۔

وارسک پراجیکٹ اور کرنافلی پراجیکٹ پر توجہ دی گئی سیلاب کی تباہ کاریوں کی روک تھام کے لئے 1950 ء میں فلڈ کمیشن قائم کیا۔ اس کی سفارشات کے مطابق قانون قومی آفات پاس کیا گیا جس کے تحت فلڈ ریلیف کمیشن قائم کیا جا سکتا ہے۔ اسی کمیشن کے فوجی ممبران کی تجویز پر بمبانوالہ بیدیاں کینال تعمیر کی گئی اس نہر نے 1965 ء کی پاک بھارت جنگ میں لاہور کی حفاظت کے سلسلے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

اس کے باوجود لیاقت علی خان کے کچھ ناقدین معترض ہیں کہ وزیر اعظم لیاقت علی خان نے دستور ساز اسمبلی میں واضح اکثریت کے باوجود دستور سازی کے معاملے میں غیر ضروری تساہل سے کام لیا لیکن معترفین بھول جاتے ہیں کہ قائد اعظم کی رحلت، مہاجرین کا سیل، رواں مسئلہ کشمیر، سرحدوں پر ہندوستانی فوج کا اجتماع ایسی حقیقتیں تھیں جس سے ان کی تمام تر توجہ قومی استحکام پر مرکوز رہی، اس کے باوجود 12 مارچ 1949 ء کو قرار داد مقاصد منظور کرائی جس کی بنیاد پر دستور بننا تھا۔ اگلے ہی روز بنیادی اصولوں کی کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا جس نے اگلے سال عبوری رپورٹ پیش کی اس پر نکتہ چینی شروع ہوئی تو اس پر بحث ملتوی کروا دی اور پھر ان کی جان لے لی گئی۔

اسکے باوجود یہ کہا جا سکتا ہے کہ ان کے دور میں مسلم لیگ اور حکومتی پارٹی تنزل کا شکار ہو گئی مگر انہوں نے بطور وزیر اعظم اور صدر پاکستان مسلم لیگ اس طرف مناسب توجہ نہ دی اسی بناء پر تمام صوبوں میں بھی مسلم لیگی قائدین اور ارباب اقتدار دست و گریبان رہے مگر اس نازک صورتحال میں وزیر اعظم خود کو مفادات کی جنگ اور ان صوبائی جھگڑوں سے بالا تر نہ رکھ سکے۔ اس سے ان کی ذات ہدف تنقید بنی ڈاکٹر مظفر احمد چوہدری کا کہنا ہے کہ ”ان کا تعلق پاکستان کے کسی صوبہ سے نہ تھا لہٰذا انہیں سیاسی حمایت حاصل کرنے کے لئے مختلف صوبوں کو وزرائے اعلیٰ کے تعاون کا سہارا لینا پڑتا تھا اور اس غرض کے لئے انہوں نے متعدد بار اصولوں کی قربانی دی۔

لیاقت علی کے عہد میں خارجہ پالیسی نے بھی واضح شکل اختیار کرنا شروع کر دی تھی۔ بھارت کے ساتھ تنازعات کو پر امن طریقے سے طے کرنے کے لے اقدامات، سالمیت پاکستان کے تحفظ کے لئے دستور کی تلاش اور اسلامی ممالک کے ساتھ خوشگوار تعلقات کو فروغ حاصل ہوا۔ لیکن مشتاق احمد نے اپنی کتاب ”گورنمنٹ اینڈ پالیٹکس ان پاکستان“ میں لیاقت دور کی خارجہ پالیسی کو ہدف تنقید بنایا ہے کہ ابتداء میں ان کی پالیسی غیر جانبدارانہ تھی اور پاکستان کسی بھی بین الاقوامی گروہ میں یا بلاک میں شامل ہونا نہیں چاہتا تھا۔ لیکن روس کی دعوت پر ماسکو نہ جانا اور ٹرومین کی دعوت پر امریکہ چلے جانا غیر جانبداری کے دعوؤں کے سراسر منافی تھا۔ بعد ازاں اس غلطی کی وجہ سے وزیر اعظم کو شہید کر دیا گیا۔

قائد ملت لیاقت علی خان 16 اکتوبر 1951 ء کو راولپنڈی کے موجودہ لیاقت باغ میں عوام کے ایک بڑے اجتماع کو خطاب کرنے آئے اور ڈائس پر جونہی انہوں نے تقریر شروع کی اور ابھی برادران ملت ہی کہا کہ سید اکبر نامی ایک پٹھان نے انہیں گولیوں کا نشانہ بنالیا وہ کلمہ طیبہ ادا کرتے ہوئے نیچے گر پڑے اور ان کی روح پرواز کرنے لگی آخری وقت ان کی زبان پر یہی الفاظ تھے کہ خدا پاکستان کی حفاظت کرے۔ وزیر اعظم کی شہادت کا واقعہ ایک گہری سازش کا نتیجہ تھا۔

اگر ہم شہید ملت لیاقت علی کی حیات و خدمات کا تجزیہ کریں اور ان کی بشری کوتاہیوں اور ملی خدمات کو ترازو میں رکھیں تو شریف النفس وزیر اعظم کی خدمات کا پلڑا بھاری رہے گا۔ سید نور احمد ”مارشل لاء سے مارشل لاء تک“ میں لکھتے ہیں کہ ان کی بعض پالیسیوں سے اختلاف ممکن ہے لیکن امر واقع یہ ہے کہ قائد اعظم کی طرح لیاقت علی خان نے بھی پاکستان ہی کو اپنا سرمایہ، اپنا خاندان اور اپنا سب کچھ سمجھا۔ انہوں نے نہ کوئی بنک بیلنس جمع کیا، نہ اپنے لئے اور نہ اپنے خاندان کے لیے کوئی منفعت حاصل کرنے کی کوشش کی وہ اقتدار کو قوم کی امانت سمجھتے رہے قائد اعظم کے بعد ملک کی قیادت اور خدمت کے لئے ان کی موجودگی بلاشبہ عوام کا حوصلہ بلند رکھنے کا باعث ثابت ہوئی۔

ان کی کابینہ کے ایک اہم وزیر چوہدری نذیر احمد خاں رقمطراز ہیں کہ لیاقت علی خان ایک سچے، محب وطن، بے لالچ قابل اور گہری سوچ و بچار کے مالک تھے انہوں نے قائد اعظم کے بعد جس طرح اس نوزائیدہ مملکت کو سنبھالا وہ انہی کا حصہ ہے۔ جبکہ مشتاق احمد نے ان کی شہادت کو عظیم المیہ قرار دیتے ہوئے یوں تبصرہ کیا تھا کہ

The Assassination of Liaqat was a mortal blow to to the young state، how grim was the tragedy، became more obvious by the events that followed his death۔ his premature exit from the scene marked a turning point in political history of Pakistan۔ ”

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •