سب سے پہلے پاکستان تو عمران خان واحد چوائس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

قدرت کے بہت سے قوانین میں سے ایک قانون، زندہ چیزوں کے ساتھ ساتھ بے جان چیزوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ اس قانون کے مطابق ہر چیز کو حاصل کرنے کی ایک قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔ جب تک وہ قیمت ادا نہ کی جائے، مطلوبہ چیز کا حصول تقریباً نا ممکن ہوتا ہے۔ پھولوں کی ایک بیل، مہینوں میں پھیلتی ہے اور مہینوں قائم رہتی ہے، جب کہ ایک درخت برسوں میں تیار ہوتا ہے اور سالہا سال اپنے سائے سے لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے۔ قوموں کی تعمیر بھی ایک عظیم مقصد ہے، اور اس مقصد کے حصول میں توسیع کی بجائے، استحکام کے پہلو کو ہمیشہ مدنظر رکھا جاتا ہے۔ استحکام کے بغیر توسیع کی مثال، ایسے ہی ہے جیسے بنیاد کے بغیر کسی بھی مکان کی تعمیر۔

پاکستان موجودہ وقت میں بہت سے مسائل کا شکار ہے۔ مسائل کے گرداب سے نکلنے کے لئے حکومت پوری کوشش کر رہی ہے۔ سال 2020ء پاکستانی تاریخ کا ایک اہم سال، جس کا اختتام بہت سی تبدیلیوں اور بدلتے رجحانوں کے ساتھ ہو رہا ہے۔ نئی سوچ اور نئے نظام میں احتساب کے خدشات نے مملکت پاکستان کے مختلف اداروں اور حلقوں میں خوف، دہشت اور تذبذب کی کیفیت پیدا کر دی ہوئی ہے، چناں چہ اس نئی سوچ اور نئے نظام کو نا کام بنانے کے لئے تمام اداروں میں شامل بد عنوان عناصر، بشمول سیاسی و مذہبی قائدین کی فوج اور حکومتی بس کے مسافر بھی اپنی پوری توانائیاں اور وسائل استعمال کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

ان گروہوں کا مقصد اپنی آل، مال اور کھال کو بچانے کے لیے پاکستان میں عدم استحکام اور بے یقینی کا پھیلاؤ ممکن بنانا ہے۔ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اپوزیشن جماعتوں کی ٹاپ لیڈر شپ شدید ترین مالی بد عنوانیوں اور اقربا پروری جیسے الزامات کی زد پر ہے اور ان الزامات کے واضح اور ٹھوس شواہد بھی موجود ہیں۔ بدمعاشیہ کی اس فوج میں مفلوج، کرپٹ، مجرم، ملزم، منی لانڈر صف اول میں نظر آتے ہیں، جو اس نئی سوچ اور احتساب کے نئے نظام کو ملیا میٹ کرنے کے لیے پر عزم ہیں۔

ان سب کا ہدف صرف اور صرف عمران خان کی ذات ہے۔ عمران خان کوئی سمجھوتا کرنے پر تیار نہیں اور اس وجہ سے اپوزیشن جماعتیں شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ اگر آج عمران خان کے ارادے متزلزل ہو جائیں، تو ان کے راستے آسان ہو جائیں گے۔ کیوں کہ حکومت کے اکثر اراکین تو در اصل ”مانگے تانگے“ کے لوگ ہیں، جو ہر دور میں چڑھتے سورج کی پوجا کرنا فرض سمجھتے ہیں۔ ان سازشی عناصر کے لیے پاکستانی تاریخ میں پہلی بار سیاسی، عدالتی اور فوجی حکام میں تمام نازک اور مشکل فیصلوں میں اتفاق کا پایا جانا بھی باعث تکلیف ہے۔

عوام میں جاگتے شعور، سیاسی اور فوجی قیادت میں ہم آہنگی اور دنیا میں پاکستان کی سر بلندی نے اپوزیشن جماعتوں کو موجودہ حالات میں، ایک دوسرے کے قریب آنے پر مجبور کیا ہے۔ حقیقت میں قربت کی وجہ دو پارٹی لیڈروں کا اپنی گردن بچانے کے لئے ساز باز کرنا اور این آر او کی خواہش ہے۔ پاکستان کی موجودہ سیاسی صورت احوال بظاہر سیاسی بحران کی نشان دہی کرتی ہے، مگر حقیقت میں عدم اعتماد اور بے یقینی کے عنصر نے اپوزیشن کے اتحاد کو زیرو کر دیا ہے اور ان سب کی بیان بازی اور دکانداری کا بازار، ٹی وی ٹاک شو، پریس کانفرنسوں اور جلسے جلسوں تک ہی محدود رہے گا۔

سچی بات ہے کہ اپوزیشن جماعتوں میں دم ہی نہیں۔ جس کی وجہ سے یہ ملک میں کسی قسم کی تبدیلی کا پیش خیمہ بنتے نظر نہیں آتے۔ اپوزیشن کا یہ اتحاد احتساب سے ڈرے ہوئے لوگوں کا ایک گروہ ہے، جہاں ملک و قوم کی فلاح و سلامتی کا کوئی ایجنڈا نہیں۔ بلکہ اصل مقصود اپنی ذات کے فرار کا نیا راستہ تلاش کرنا ہے۔ ملک کی موجودہ صورت احوال کی مثال ایسے ہی ہے، جیسے جب بند کمرے کی صفائی کی جائے تو ابتدا میں خوب گرد اڑتی ہے، حتی کہ سانس لینا دوبھر ہوجاتا ہے، مگر جونہی گرد بیٹھتی ہے تو سانس نارمل ہو جاتا ہے اور کمرا پہلے سے زیادہ صاف دکھائی دیتا ہے۔

آج پوری قوم کو ”سب سے پہلے پاکستان“ کے نعرے کے مطابق، اپنے ارد گرد کے ماحول کا از سر نو جائزہ لیتے ہوئے، دانشمندانہ فیصلے لیتے ہوئے مثبت کردار ادا کرنا ہو گا، تا کہ نا صرف پاکستان مخالف قوتیں نا کامی کا منہ دیکھیں بلکہ ذاتیات اور انتشار کی سیاست کرنے والے سیاستدان بھی اپنے انجام کو جلد از جلد پہنچیں۔ اس موقع پر ہم سب کو ملک دشمن قوتوں کا آلہ کار نہیں بننا۔ ہمیں دشمن اور دوست کی پہچان کرنی ہے۔ اب عوام کا مال لوٹنے والوں، ذاتی کاروبار بڑھانے والوں، کمیشن کھانے والوں، بے نامی اکاؤنٹس والوں، ٹی ٹی ای سے فائدہ اٹھانے والوں، دشمن سے راہ و رسم بڑھانے والوں، سلامتی کے اداروں پر جھوٹے الزام لگانے والوں اور عدالتی فیصلے نہ ماننے والوں کو بچانے ولا کوئی نہیں آئے گا۔

اگر چہ سازشی لوگ عوام کو بہکائیں گے، سبز باغ دکھائیں گے، نیا راگ سنائیں گے مگر پاکستانی لوگوں کو اس بار دھوکے میں نہیں آنا اور ملزموں کو کیفر کردار تک پہنچانا ہے۔ پاکستانی قوم کے شعور کا یہ سفر اگر چہ صبر آزما، طویل اور کٹھن ہے مگر مقصد کے حصول کے لئے طویل عرصے کی محنت کرنا پڑتی ہے۔ مگر خوشی کی بات یہ ہے کہ بحیثیت قوم ہم اپنے ملک پاکستان کی بقا کی خاطر اس سفر کو طے کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس ضمن میں صرف اپنی ذات سے بالا تر ہو کر پاکستان کی بقا کو ترجیح دینے کی ضرورت ہے۔ کیا پاکستان اس وقت کسی معرکا آرائی کا متحمل ہو سکتا ہے؟ کیا احتجاج اور جلوس کی سیاست کرنے والے ملک کی معاشی ترقی کو روکنا چاہتے ہیں؟ اب ذات کے بتوں کو توڑ نا ہو گا۔ آئیں فیصلہ کریں ”سب سے پہلے پاکستان“۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •