مہنگائی کنٹرول کی جا سکتی ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مہنگائی ہونے کی بہت سی وجوہ ہو سکتی ہیں، لیکن ان میں طلب و رسد کا بنیادی کردار ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں حکومت وقت کو اب تک بری طرح نا کامی کا سامنا ہے۔ اس تحریر کے ذریعے میں اپنی محدود سمجھ اور قلیل تجربے کی بنیاد پر مصنوعی مہنگائی اور گراں فروشی کو لگام ڈالنے کی تجاویز دینا چاہتا ہوں اور آپ سب سے بھی امید کرتا ہوں کہ آپ کے ذہن میں اس حوالے سے کوئی اچھی تجاویز ہیں، تو آپ ضرور شیئر کریں گے۔

1۔ طلب و رسد کسی بھی چیز کی قیمت کا تعین کرتی ہے، کوئی بھی چیز ہو، متعلق اداروں کا فرض بنتا ہے کہ وہ اس کی طلب و رسد کا حساب رکھیں اور رسد کم ہونے کی صورت میں قبل از وقت اقدامات لیتے ہوئے در آمد کا انتظام کریں اور زیادہ ہونے کی صورت میں بر آمد کرنے کا انتظام کریں۔ اس سے اس چیز کی قیمت کو استحکام دینے میں مدد ملے گی۔

2۔ کسی بھی چیز کو عامتہ الناس تک پہنچانے کے زیادہ نہیں، تو کم از کم دو چینل لازمی ہوں۔ مثال کے طور پر کریانہ آئٹم کو لیں، تو یوٹیلٹی سٹورز کی استطاعت کو کم از کم اتنا بڑھایا جائے کہ عوام کے پاس آپشن ہو کہ وہ پرائیویٹ کریانہ سٹور کی گراں فروشی سے بچنے کے لئے یوٹیلٹی سٹورز کا رخ کر سکیں اور کریانہ سٹور کی کسی ممکن بلیک میلنگ اور ہڑتال کی صورت میں یوٹیلٹی سٹور متبادل کے طور پر موجود ہوں۔

3۔ یوٹیلٹی سٹورز کی طرز پر روزمرہ کی دوسری اشیا، مثلاً: ادویہ، گارمنٹس وغیرہ کے لئے حکومتی سر پرستی میں سپر سٹورز بنائے جائیں، جہاں اعلی معیار کی ادویہ اور دیگر اشیا، ایک مناسب منافع سے عامتہ الناس کو میسر ہوں کہ اس منافع سے ان سٹوروں کو چلانے کے اخراجات نکل سکیں۔ اس اقدام سے نا صرف مہنگائی کنٹرول کرنے میں مدد ملے گی بلکہ خاصے لوگوں کو روزگار ملنے کے ساتھ ساتھ جعل سازی اور اجارہ داری کا بھی خاتمہ ہو سکے گا۔

4۔ چھوٹی سے چھوٹی چیز سے لے کر بڑی سے بڑی چیز کی قیمت اس کی پیکنگ پر واضح پرنٹ ہونی چاہیے، جس میں دکاندار کا منافع بھی واضح درج ہو، تا کہ دکانداروں کی طرف سے گراں فروشی کی صورت میں زیادہ سے زیادہ رپورٹ ہو سکے اور گراں فروشوں کے خلاف قانونی کارروائی ہو سکے۔

5۔ دکانداروں کو پابند کیا جائے کہ وہ ہر چیز کی رسید لازمی دیں اور پرنٹ اور سوشل میڈیا کے ذریعے گاہکوں کو آگاہی دی جائے کہ وہ رسید کے بغیر دکانوں سے چیزیں نہ خریدیں۔ رسید نہ صرف کاروبار کو دستاویزی بنانے میں مدد دے گی بلکہ ان رسیدوں پر جرمانے کر کے گراں فروشی کو لگام ڈالی جا سکے گی۔

6۔ بازاروں میں جگہ جگہ شکایات کے اندراج کے لئے نہ صرف ٹال فری نمبرز آویزاں کیے جائیں بلکہ متعلقہ پرائس کنٹرول مجسٹریٹ کے نمبر بھی آویزاں کیے جائیں اور شکایات کے اندراج اور اختتام تک تمام ریکارڈ مرتب کیا جائے۔

مندرجہ بالا اقدامات محدود وسائل میں رہتے ہوئے انتظامی دل چسپی اور توجہ سے با آسانی ممکن ہیں، جو کہ گڈ گورننس لانے اور مہنگائی کو قابو کرنے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •