آسٹیو پوروسس: روک تھام غذا اور ورزش کے ذریعے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انسانی جسم میں دو سو سے زائد ہڈیاں پائی جاتی ہیں۔ ہڈیاں جسم کو خوبصورت ساخت اور بنیادی ڈھانچا فراہم کرتا ہے۔ حرکات و سکنات اور دوسرے اعضا، جیسے کہ دل، دماغ اور پھیپھڑوں کو تحفظ دیتیں ہیں۔ ہڈیوں کی حفاظت کرنا اور اسے بیماریوں سے محفوظ رکھنا، ایک معیاری زندگی گزارنے کے لئے نہایت اہم ہے۔ ہڈیوں کو بھی باقی اعضا کی طرح بیماریوں سے دور رکھا جائے اور اس کی حفاظت کی جائے۔ اس مقصد کے لئے دنیا بھر میں ہر سال 20 اکتوبر کو آسٹیو پوروسس ڈے منایا جاتا ہے، جس کا مقصد عام لوگوں میں اس موذی بیماری کے بارے میں شعور و اگہی اجاگر کرنا ہے۔

آسٹیو پوروسس ایک ایسی بیماری ہے جس میں ہڈیاں بھر بھری کمزور اور خستہ ہو جاتی ہیں۔ یہاں تک کہ ایک چھینک کے آنے سے بھی چٹخ سکتی ہیں۔ جب کہ عام حالات میں اگر چھے افراد کا وزن بھی کولہے کی ہڈی پر ڈالا جائے تو نہیں ٹوٹے گی۔

ایک اندازے کے مطابق ہر چار میں سے ایک مرد، اور ہر دو میں سے ایک عورت اس بیماری میں مبتلا ہیں۔ مختلف تحقیقات کے مطابق 45 سال کی عمر کے بعد خواتین میں اس مرض کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ جب کہ مردوں میں 50 سال کی عمر کے بعد اس مرض کا تناسب بڑھ جاتا ہے۔ خواتین میں آسٹیو پوروسس کا تناسب مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ جس کی وجوہ سن یاس کے بعد ایسٹرورجن کی کمی ہے۔ اس کمی کی وجہ سے ہڈیوں کے گھلاو میں تیزی آ جاتی ہے۔ ایسٹرورجن ہڈیوں کو مضبوط رکھنے اور اس میں کیلشیم کی سطح برقرار رکھنے میں نہایت اہم ہے۔ اس کے علاوہ متعدد بار حاملہ ہونا، حمل اور دودھ پلانے کے دوران میں اپنی غذا کا خیال نہ رکھنا اور معیاری غذا کی کمی بھی آسٹیو پوروسس کی وجوہ میں شامل ہے۔ جنوبی ایشیا میں خواتین اس بیماری میں انہی وجوہ کی بنا پر زیادہ مبتلا ہیں۔

آسٹیو پوروسس کی تشخیص عموماً اس وقت ہوتی ہے جب کوئی ہڈی فریکچر ہو جاتی ہے۔ عمومی طور پر کولہے، ریڑھ یا کلائی کی ہڈی کے ٹوٹنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔ مگر اس وقت تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ ابتدا ہی میں ایسی تدابیر کر لی جائیں کہ اس بیماری سے خود کو اور اپنے پیاروں کو بچایا جائے۔

ہماری روزمرہ کی عادات، کھانے کے طور طریقے اور ورزش وہ عوامل ہیں، جن پر توجہ دے کر ہم اس بیماری سے بچ سکتے ہیں۔

غذائی عوامل:
بہت سارے غذائی عوامل ایسے ہیں، ہمیں یا تو آسٹیو پوروسس سے بچا سکتے ہیں یا پھر آسٹیو پوروسس کا باعث بن سکتے ہیں۔ مثلاً: کیلشیم وٹامن ڈی، وٹامن کے، میگنیشیم، اور پروٹین کی صحیح مقدار، ہمیں اس بیماری سے بچنے میں مدد دیتی ہے۔ جب کہ سوڈیم، فاسفورس اور وٹامن اے زیادہ مقدار میں لینے سے آسٹیو پوروسس ہو سکتا ہے۔

بہت سی تحقیقات نے یہ ثابت کیا ہے کہ کیلشیم مقرر مقدار میں لینے سے آسٹیو پوروسس کے خطرے سے نمٹا جا سکتا ہے۔

کیلشیم دودھ، دہی، پنیر، سبز پتوں والی سبزیوں اور بادام سے پوری کی جا سکتی ہے۔ کوشش یہ ہونی چاہیے کہ غذا سے ہی اپنی کیلشیم پوری کی جائے۔ دوائیوں کی طرف نہ جایا جائے۔ اس لیے کہ دوائیں مہنگی ہیں اور دوائیوں میں موجود بہت کم کیلشیم خون میں جذب ہوتی ہے۔ اگر دن میں دو گلاس دودھ اور ایک گلاس دہی لی جائے تو کیلشیم کی مقررہ مقدار پوری ہو جاتی ہے۔

ہڈیوں کی صحت میں وٹامن ڈی کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ یہ آنتوں اور گردوں سے کیلشیم خون میں جذب کرنے معاون ہے۔ وٹامن ڈی دودھ، دہی، انڈوں، مچھلی، مشروم، اور گوشت سے حاصل کی جا سکتی ہے، مگر وٹامن ڈی کا سب سے اچھا ذریعہ دھوپ ہے، جو قدرت کی طرف سے ایک رحمت ہے اور پاکستان میں آپ سردیوں میں بھی وٹامن ڈی بنا سکتے ہیں۔

10 سے 3 بجے کے درمیان تیس، چالیس منٹ کی دھوپ، ہفتے میں تین دفعہ لینے سے آپ کا ہدف پورا ہو جاتا ہے۔ وٹامن ڈی نہ صرف ہڈیوں کو مضبوط بناتا ہے، بلکہ بلند فشار خون، ذیا بیطس، دل کی بیماریوں اور انفیکشن سے بھی بچاتا ہے۔

میگنیشیم ایک ایسا نمک ہے جو ہڈیوں کی مضبوطی میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کی کمی کی وجہ سے وٹامن ڈی اپنا کام ٹھیک طرح سے انجام نہیں دے سکتا۔ یعنی اگر آپ کی غذا میں میگنیشیم کی کمی ہے، تو آپ کا کیلشیم اور وٹامن ڈی لینا بے سود ہے۔ میگنیشیم بادام، مونگ پھلی، آلو، کیلا، سیب، انناس، دہی، دودھ اور مچھلی وغیرہ میں پایا جاتا ہے۔

پروٹین کی صحیح مقدار لینا نہایت ضروری ہے۔ کیوں کہ آگر مقرر کردہ مقدار سے زیادہ لیا تو یہ کیلشیم کو پیشاب کے راستے خارج کرتا ہے اور اگر مقرر مقدار سے کم لیا تو پروٹین کی کمی ہڈیوں میں بھی ہونے لگتی ہے، جس کی وجہ سے ہڈیوں کا بھر بھرا پن شروع ہو جا تا ہے۔ عام طور پر ایک گرام فی کلوگرام فی دن کے حساب سے لینا چاہیے۔ حیوانی اور نباتاتی دونوں قسم کے پروٹین کا خوراک میں ہونا ضروری ہے۔

غذائی احتیاط:
سوڈیم یا عام نمک لینے میں احتیاط برتنی چاہیے۔ کیوں کہ زیادہ سوڈیم لینے سے کیلشیم پیشاب کے راستے نکلنا شروع ہو جا تا ہے۔ عام طور پر چوبیس گھنٹوں میں ایک چائے کے چمچ سے زائد نمک نہیں استعمال کرنا چاہیے۔

فاسفورس بھی ایک قسم کا نمک ہے۔ فاسفورس کی غیر نامیاتی شکل زیادہ خطرناک ثابت ہوتی ہے۔ کیوں کہ یہ خون میں نوے فی صد سے زائد جذب ہو جاتی ہے۔ خون میں شامل ہو کر یہ کیلشیم کے ساتھ جڑ جاتی ہے، جس کی وجہ سے فنکشنل کیلشیم کی کمی ہو جاتی ہے۔ اس کمی کو پورا کرنے کے لیے ہڈیوں سے کیلشیم نکلنے لگتی ہے۔ اس وجہ سے ہڈیوں کا گھلاو شروع ہو جاتا ہے۔ فاسفورس سافٹ ڈرنکس اور پیکٹ والی غذائی چیزوں میں پایا جاتا ہے۔ اس لیے ان غذاؤں سے مکمل پرہیز کرنا بہت ضروری ہے۔

سفید شکر لینے سے جسم میں تیزابیت بڑھ جاتی اور اس عمل کو متوازن کرنے کے لیے کیلشیم اور میگنیشیم پیشاب کے راستے خارج ہونے لگتی ہے۔ اس طرح کیلشیم اور میگنیشیم ہڈیوں سے نکلنے لگتی ہے۔ اور اس عمل میں ہڈیاں کمزور ہونے لگتی ہے۔ اس لیے کوشش یہ ہونی چاہیے کہ سفید شکر کا استعمال دن میں دو چائے کے چمچ سے زیادہ نہ ہو۔

آپ دیکھیں کہ کوئی ایک بھی غذائی جزو آپ کو آسٹیو پوروسس سے اکیلے نہیں بچا سکتا۔ ایک متوازن غذا میں ہی وہ تمام اجزا شامل ہیں، جو آپ کے لیے مفید ہیں اور آپ کو ہڈیوں کے بھربھرے پن سے بچا سکتے ہیں۔

مختلف قسم کی ورزش، مثلاً: چہل قدمی، ایروبکس، توازن برقرار رکھنے والی وہ تمام ورزش ہیں، جو ہڈیوں اور پٹھوں کو مضبوط بناتے ہیں اور اعضا کو فعال رکھتے ہیں۔ ہڈیوں کو مضبوط رکھیے اور ایک مفید، بھر پور اور خوش باش زندگی جئیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •