بنام ابو جی!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میں ابو جی کے جانے سے پہلے خود کو بہت بہادر ہمت والا ہر مصیبت سے جنگ کرنے والا کبھی ہار نہ ماننے والوں میں خود کو شمار کرتا تھا، مگر ابو جی کے جانے کے بعد ہر چھوٹی سی تکلیف بھی پہاڑ جیسی لگتی ہے اور ہر خوشی پھیکی سی۔ اللہ نے مجھے اتنے مضبوط اعصاب کے ساتھ پیدا کیا تھا، میں زندگی میں کبھی رویا نہیں تھا لیکن نا جانے کیوں اب ہر خوشی غمی میں آنکھیں اتنی جلدی نم ہو جاتی ہیں کہ آنکھیں خشک ہونے کے بعد کچھ سکون سا میسر آنے لگتا ہے، لیکن وہ سکون کہاں جو کبھی ابو جی کے گلے لگ کر ملتا تھا۔ آنکھیں خشک ہونے کے بعد پتا نہیں کیوں اندر سے یقین آ جاتا ہے، جیسے ہم ابو جی کو سنا رہے ہوں اور ابو جی سے ملاقات ہو گئی ہو اور ابو جی صرف جواب نہیں دے رہے۔

زمانے کی ہزار شاباشی بھی ہمارا اتنا حوصلہ نہیں بڑھا سکتی، جتنی ابو جی کی ایک تھپکی کے ساتھ ”میں ہوں نا“ سے ہمارا سینہ چوڑا ہو جاتا اور حوصلہ آسمان کو چھونے لگتا تھا۔ ہمیشہ سے سن اور پڑھ رکھا تھا کہ ماں جنت اور باپ چھپر (سایہ) ہوتے ہیں، مگر میں اب سمجھتا ہوں باپ صرف سایہ ہی نہیں بلکہ باپ ایک ایسا کریڈٹ کارڈ ہوتا ہے جس میں بیلنس نہ ہوتے ہوئے اولاد کے لئے بیش قیمت خزانے موجود ہوتے ہیں۔
ان کے سائے میں بخت ہوتے ہیں
باپ گھر میں درخت ہوتے ہیں

”بابا جانی، ابو جی، پاپا جانی، دوست، محافظ، سایہ، کہوں یا زندگی کہوں کس نام سے پکاروں، کن الفاظ میں پکاروں؟ انگریزی، اردو، فارسی بلکہ تمام زبانوں میں ایسا کوئی لفظ موجود ہی نہیں، جس کو استعمال کر کے ”باپ“ کی ہستی یا عظمت کو بیان کیا جا سکے، یا باپ کے مکمل روپ کی عکاسی ہو سکے۔ بھلا کیسے ممکن ہے کہ کل کائنات کو کسی ایک یا چند لفظوں میں سمیٹ لیا جائے۔ باپ کو محبت میں سمیٹوں تو احساس کہاں جائے؟

احساس میں سمیٹوں تو احسان کہاں جائے؟ احسان میں سمیٹوں تو شفقت کہاں جائے؟ شفقت میں سمیٹوں تو محافظ کہاں جائے؟ محافظ میں بیان کروں، تو سایہ کہاں جائے؟ سائے میں سمیٹ لوں تو چاہت کہاں جائے؟ چاہت میں سمیٹوں تو رحمت کہاں جائے؟ کاش ابو جانی آپ ہمیں چھوڑ کر نہ جاتے۔

میں نے جب جب یہ سوچنے کی کوشش کی کہ ہمت، سچائی، حوصلہ، نیکی، پیار، علم اور سادگی کا کوئی چلتا پھرتا کردار ممکن ہے، تو جواب مجھے اپنے ابو جی کے علاوہ کہیں نہیں ملتا تھا اور آپ بے حد خاموشی سے ہمیں چھوڑ کر چلے گئے۔ ابو جی آپ نے یہ کیا کیا؟ کوئی یوں بھی بھلا اولاد کی خوشیاں دیکھے بغیر جاتا ہے؟

آج مجھے آپ کے دکھ کی وجہ پتا چلی۔ ابو جی سب کے بہت پیارے ہوتے ہیں۔ ابو جانی نہ ہوں تو کوئی جانی کہہ کر سینے سے بھی نہیں لگاتا۔ یہ ابو جانی ہوتے ہی بہت سخت دل ہیں، جب ضرورت ہوتی ہے چھوڑ کر چلے جاتے ہیں اور جب ہوتے ہیں تو ہم انہیں چھوڑ دیتے ہیں اور تب ہم انہیں انہی کے توسط سے چار کلاسیں پڑھنے کے بعد کہہ رہے ہوتے ہیں:
”ابو جی آپ تو بادشاہ ہیں۔“ (یعنی ہم اب عاقل بالغ آپ سے زیادہ ہیں) جب کہ ہم سرا سر غلطی پر ہوتے ہیں۔

جانے والے کبھی نہیں لوٹتے، مگر آپ ہمیشہ ہر اس موڑ پر ضرور یاد آتے ہیں، جہاں ہمیں کسی نے ٹوکنا ہو۔ مگر آج کوئی نہیں ٹوکتا، جہاں پھسلنا ہو، وہاں کوئی نہیں سنبھالتا۔ جہاں داد دینی ہو، جہاں غصہ کرنا ہو، ابو جی، اب کوئی نہیں کرتا۔ ایک اور بات ابو جی، بے شک آپ سادہ نرم دل صاف گو غصے والے سب کو معاف کرنے والے تھے، کسی کے دیے دکھ کو اللہ پر چھوڑنے والے تھے اور جن کو آپ دل سے پسند اور محبت کرتے تھے، ہمیں نہیں معلوم، انہوں نے بھی آپ کو محبت دی یا آپ ان کی محبت کے جذبات لیے منوں مٹی تلے چلے گئے۔

مگر ابو جی، آپ جن کو چاہتے تھے، وہ سب رشتے دار اکٹھے آپ کی روح پرواز کرنے پر حیراں تھے۔ جی ابو، وہ لوگ بھی آئے تھے، جن کو کبھی اپنے جیتے در پہ نہ دیکھا تھا۔ روٹھے رشتے بھی۔ مصروف سے مصروف تر لوگ بھی۔ جن کے پاس ایک منٹ نہ تھا، کیسے اس دن آپ کے جنازے کے لئے انتظار میں بیٹھے تھے۔

ابو جی، ہماری یہاں اللہ کے سوا سننے والا کوئی نہیں تو یہ خط یہی جذبات شاید بذریعہ اللہ آپ تک پہنچ جائیں۔ جواب نہ بھی دینا چاہیں، تو اب آپ کی مرضی۔ اس دنیا میں بھی ہمیشہ اپنی مرضی کرتے تھے۔ اب بھی آپ اپنی ہی مرضی کے مطابق اولاد کے سر سے شفقت کے ہاتھ تو اٹھا کر چلے گئے، مگر اللہ نے ہمارے ہاتھ پکڑ لیے۔ دعا کیجئے گا۔ ہم بھی اللہ کو تھام لیں۔

مگر ابو جی میرے صرف دو سوال ہیں؟ مجھے یاد ہے جب میں چھوٹا سا تھا تو بیمار رہتا تھا۔ آپ سردیوں کی ٹھنڈی یخ بستہ راتوں میں بائیک پر دور کسی ڈاکٹر کے پاس لے جاتے تھے۔ مجھے ٹھنڈ لگتی تھی۔ میں نے اپنی جیکٹ بھی پہن بھی رکھی ہوتی تھی، پھر آپ اپنی جیکٹ اور چادر اتار کر مجھے پہنا دیا کرتے تھے، تو آپ کیسے بھانپ لیتے تھے کہ مجھے سردی زیادہ لگ رہی ہے؟ کیا خالی قیمص میں تب آپ کو سردی نہیں لگتی تھی؟ کیا اب ہم سے ایسی محبت کرنے والا کوئی ہو گا؟ یقیناً نہیں۔
شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
مجھ کو چھاؤں میں رکھا اور خود جلتا رہا دھوپ میں
میں نے دیکھا ہے اک فرشتہ باپ کے روپ میں

ابو جی، یقیناً ہم بچے تھے۔ نا دانستہ طور پر کئی بار آپ کا دل بھی تو دکھایا ہو گا نا! کیا آپ خدا نخواستہ ہم سے ناراض ہو کر تو نہیں گئے؟ اگر ہاں تو معافی کیسے ملے گی؟ ورنہ یہ احساس ہمیں ہر دکھ تکلیف والے موڑ پر اندر ہی اندر جھنجوڑتا اور مارتا رہے گا۔

ابو جی جیسے آپ کے ہوتے ہوئے کبھی کسی نے آپ سے ہماری شکایت نہیں کی تھی۔ اب بھی ان شا ا،للہ ہم آپ کی کی گئی تربیت کو داغ دار نہیں کریں گے۔ آپ کہتے تھے نا، دنیا آپ کی مثال دیتی ہے۔ کیا اب بھی ہمارے اچھے برے کی خبر گیری آپ تک پہنچے گی؟

چلیں آپ کسی سوال کا جواب نہ دیں، صرف اتنا بتا دیں، کیا آپ ہم سے راضی گئے تھے؟ امید ہے، آپ راضی گئے ہوں گے۔ نجانے کیوں، اب کوئی چوٹ لگتی ہے، تو ایسا کیوں لگتا ہے، کہیں آپ کی ناراضی تو نہیں؟

وہ صحیح کہتے تھے سارے باپ ایک جیسے ہوتے ہیں۔ سب اولاد کو ہمیشہ یہی کہتے تھے، اولاد کو سمجھانے کی غرض سے یہ کہتے ہوتے تھے کہ میڈا پتر، میں تیڈا پیو ہاں!

ایک دوست درست فرما رہے تھے، کہیں پر پڑھا تھا، سارے والدین اکثر جب مختلف موضوعات، سیاست، مذہب، اور دنیا کے معاملات پر گپ شپ کے بعد، ہم بچے لا جواب ہو جاتے تھے، تمام والدین یہی کہتے ہیں، بچوں کو مخاطب کر کے یہی دہراتے ہیں کہ ”میڈا پتر میں تیڈا پیو ہاں۔“

ایک شفیق باپ، ایک مہربان دوست، ایک شجر سایہ دار، یقین نہیں آتا، آپ ہمیں چھوڑ کر چلے گئے۔ آپ کی ہمت حوصلہ اور برداشت آخری سانس تک آپ کی پہچان رہی۔ خدا تعالی کی کروڑوں رحمتیں اور نبی مہربانﷺ کی شفاعت نصیب ہو۔ آمین۔

باپ ایک مقدس محافظ بن کر اپنی جان کی بازی لگا کر بھی اولاد کی حفاظت کرتا ہے، کیسی صفت رکھی ہے قدرت نے ”باپ“ کے روپ میں، مرد میں، جو اپنی سانس تک اولاد کی سانسوں میں شامل کر کے اس کی زندگی بڑھانے کا حوصلہ رکھتا ہے۔ گلیوں میں کڑی دھوپ میں چھابڑی فروش، مزدور، کمھار، موچی، غبارے بیچنے والے، دربان، اور ہر طرح کا کام کرنے والی یہ ہستیاں ملازم نہیں، بلکہ ”باپ“ ہیں۔ جن کو کسی نا کسی طرح اپنی اولاد کی ضرورتیں پوری کرنی ہیں۔

سارا سارا دن، رات، سردی، گرمی ہر موسم ہر تکلیف ہر دکھ اور پریشانی کے با وجود، یہ باپ نامی ہستیاں سڑکوں پر، بازاروں میں، دفتروں میں ہر جگہ لوگوں کی باتیں سنتے، طعنے سنتے، بے عزت ہوتے ہیں، مگر وہ مسلسل کام جاری رکھتے ہیں۔ مرتے دم تک۔ کیوں کہ ان کو اپنی اولاد کی ضروریات پوری کرنی ہیں۔ جس لمحے اولاد گھر میں سکون کر رہی ہوتی ہے، عمدہ لباس پہنے، بہترین سکول اور کالج میں پڑھ رہی ہوتی ہے، باپ پسینے میں شرابور، کسی کی جھڑکیں، اولاد کی خاطر برداشت کر رہا ہوتا ہے۔

اپ ہی سرمایہ اولاد ہے
باپ ہی اجداد کی بنیاد ہے
گود ماں کی، درس گاہ اولین
باپ ہے، روح جمال دل نشین

زندگی ہر لمحہ بدلتی ہے۔ مگر ہر پل بدلتی اس دنیا میں کوئی چیز جامد و مستقل اور نا قابل تبدیل ہے، تو وہ ہے، والدین کی محبت۔ دھیرے دھیرے گزرتے وقتوں کے ساتھ ہر رشتے کی نوعیت بدل جاتی ہے۔ لیکن والدین کا ہی وہ اٹوٹ رشتہ ہے، جو ہر وقت دنیا کے نشیب و فراز سے گزر کر بھی ویسا ہی رہتا ہے، بلکہ اور مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائے۔ آمین۔

فقط۔ آپ کا نالائق بیٹا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •