آسٹیو پوروسس: روک تھام غذا اور ورزش کے ذریعے

انسانی جسم میں دو سو سے زائد ہڈیاں پائی جاتی ہیں۔ ہڈیاں جسم کو خوبصورت ساخت اور بنیادی ڈھانچا فراہم کرتا ہے۔ حرکات و سکنات اور دوسرے اعضا، جیسے کہ دل، دماغ اور پھیپھڑوں کو تحفظ دیتیں ہیں۔ ہڈیوں کی حفاظت کرنا اور اسے بیماریوں سے محفوظ رکھنا، ایک معیاری زندگی گزارنے کے لئے نہایت اہم ہے۔ ہڈیوں کو بھی باقی اعضا کی طرح بیماریوں سے دور رکھا جائے اور اس کی حفاظت کی جائے۔ اس مقصد کے لئے دنیا بھر میں ہر سال 20 اکتوبر کو آسٹیو پوروسس ڈے منایا جاتا ہے، جس کا مقصد عام لوگوں میں اس موذی بیماری کے بارے میں شعور و اگہی اجاگر کرنا ہے۔

آسٹیو پوروسس ایک ایسی بیماری ہے جس میں ہڈیاں بھر بھری کمزور اور خستہ ہو جاتی ہیں۔ یہاں تک کہ ایک چھینک کے آنے سے بھی چٹخ سکتی ہیں۔ جب کہ عام حالات میں اگر چھے افراد کا وزن بھی کولہے کی ہڈی پر ڈالا جائے تو نہیں ٹوٹے گی۔

Read more

کیا صرف وٹامن سی ہی قوت مدافعت بڑھاتا ہے؟

بیماریوں سے قدرتی طور پر لڑنے کی جو صلاحیت ہمارے جسم میں موجود ہے۔ قوت مدافعت کہلاتی ہے۔ اج کل ہر طرف یہی بحث چل رہی ہے کہ آخر قوت مدافعت کو کیسے بڑھائیں۔ چلیں کرونا نے کم از کم لوگوں کو اپنے لئے فکرمند تو کر دیا۔ انٹرنیٹ پر کہیں ویڈیوز چل رہی ہیں جس میں ہر شخص وٹامن سی کو اکسیر بتا رہا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ بازار سے وٹامن سی کی گولیاں ناپید ہو

Read more

رمضان میں کھانے کے لئے چند طبی طور پر مفید غذائیں

اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جیسے تم سے پچھلی اُمتوں پر فرض کیے تھے۔ تاکہ تم تقویٰ حاصل کر سکو۔

رمضان کا مقصد اس ایک قرانی آیت سے ظاہر ہوگئی۔ مقصد ہے تقویٰ حاصل کرنا نہ کہ دنیا جہاں کے کھانوں کو اپنے دسترخوان پر جمع کرنا اور پھر یو ں کھانا کہ جیسے زندگی بھر کچھ کھایا ہی نہیں۔ نتیجہ ان بے اعتدایوں کا کچھ یوں نکلتاہے کہ کوئی قبض کی شکایت لے کر آ رہا ہے کسی کو بد ہضمی ہوگئی۔ کوئی سردرد کی شکایت لے کر آ رہا ہے اور کسی کی شو گر کنٹرول سے باہر ہو رہی ہے۔ اگر ہم اسلام کے اصولوں پر روزے کا اہتمام کریں تو رمضان نہ صرف روحانی بالیدگی عطا کرنا ہے بلکہ جسمانی طور پر بھی انتہائی فائدہ مند ہے۔ مختلف تحقیقات سے یہ ثابت ہے کہ روزے میں بلڈ پریشر کنٹرول رہتا ہے۔ دل کی بیماریوں میں کمی واقع ہوتی ہے۔ شو گر اور کو لیسٹرول بھی اپنی حد میں رہتے ہیں مگر یہ اس وقت ہو گا جب تلی ہوئی اشیا مختلف قسم کے بازاری ڈرنکس پروسیسڈ فوڈ، اور میٹھی اشیا سے پر ہیز کیا جائے۔

Read more

ہے کوئی جو سالنگ کو اُس کی ماں کے پاس پہنچا دے؟

سالنگ کی بد بختی تو اُسی دن شروع ہوئی جب وہ افغانستان میں پیدا ہوا۔ مگر یہ دُکھ تو اُن د کھوں کا عشرعشیر بھی نہ تھا۔ جو اُس کی قسمت میں لکھ دیے گئے۔ سالنگ اتنا بد قسمت کیونکر ہوا۔ کیا واقعی یہ سب اُس کے نصیب میں تھا یہ پھر کوئی پلان تھا۔ برسوں پُرانا پلان۔ جس میں اُس کے بڑوں کا بہت بڑا کردار تھا۔ جو اِس خطے کا ہر پیدا ہونے والا بچہ ہی بد نصیب نکلا۔ ہر بچے کی تقدیر سالنگ یا پھر سالنگ سے بھی بد تر ہے۔ او ر آنے والی سات نسلیں بھی وہ سب بھگتیں گی جو پچھلی سات نسلوں نے بھگتا۔ مگر کسی نے مذمت تک نہ کی بلکہ اس جنگ کو مقدس بنا کر پیش کیا گیا۔جنگ کے اثرات کی اِس سے بُری تشریح اور کیا ہو سکتی ہے۔ جو سالنگ کے چہرے پر لکھی تھی۔ وہ دُکھ، وہ ویرانی، سراپا اُداسی، بچپن کی کو ئی جھلک ڈھونڈنے سے بھی نہ ملے۔ مشکل سے گیارہ سال کی عمر میں اُس نے وہ سب دیکھ لیا جو میں نے، آپ نے اپنی عمر ِ رفتہ میں نہ دیکھا۔ اُس کے گردوں نے پانچ سال پہلے کام کرنا چھوڑ دیا تھا۔

Read more

ایک ریسٹورینٹ جہاں بوڑھی اماں چاۓ بیچتی اور محبتیں بانٹتی تھیں

ریسٹورینٹ کا نام آتے ہی دماغ میں ایک ایسی جگہ کی تصو یر اُ بھرتی ہے جہاں داخلی دروازے پر صاف شفاف یونیفارم میں ملبوس ایک نوجوان آپ کے لئے کالے شیشوں کا دروازہ کھولتا ہے اور آپ کو ایک مسکراہٹ کے ساتھ خوش آمدید کہتا ہے۔ یہ مسکراہٹ سدا اس کے چہرے پر رہتی ہے۔ آپ یہ نہ سمجھیں کہ اُسے آپ پر یا آپ کے بچے پر کوئی خصوصی قسم کا پیار آرہا ہے۔ بلکہ یہ تو اُس

Read more

گلونہ سارا اباسین پینا چاہتی تھی

خوب صورت چہرہ سفارشی پرچی کی طرح ہوتا ہے۔ یہ بات اس پر صادق آتی ہے تب ہی تو میں ڈائلیسز یونٹ کے تمام بیڈ چھوڑ کر اس کی طرف کھنچھی چلی گئی۔ اس کی معصومیت نے اسے اور بھی مظلوم بنادیا تھا۔ وہ بمشکل سولہ سترہ سال کی ہوگی آخر ایسا کیا ہوگیا تھا کونسی بیماری تھی جو اسے ڈائلیسز کے بیڈ تک لے آئی تھی میں اسی تجسس میں اس کے پاس آئی اور پوچھا۔ تمہارا نام کیا

Read more