ہے کوئی جو سالنگ کو اُس کی ماں کے پاس پہنچا دے؟

سالنگ کی بد بختی تو اُسی دن شروع ہوئی جب وہ افغانستان میں پیدا ہوا۔ مگر یہ دُکھ تو اُن د کھوں کا عشرعشیر بھی نہ تھا۔ جو اُس کی قسمت میں لکھ دیے گئے۔ سالنگ اتنا بد قسمت کیونکر ہوا۔ کیا واقعی یہ سب اُس کے نصیب میں تھا یہ پھر کوئی پلان تھا۔ برسوں پُرانا پلان۔ جس میں اُس کے بڑوں کا بہت بڑا کردار تھا۔ جو اِس خطے کا ہر پیدا ہونے والا بچہ ہی بد نصیب نکلا۔ ہر بچے کی تقدیر سالنگ یا پھر سالنگ سے بھی بد تر ہے۔ او ر آنے والی سات نسلیں بھی وہ سب بھگتیں گی جو پچھلی سات نسلوں نے بھگتا۔ مگر کسی نے مذمت تک نہ کی بلکہ اس جنگ کو مقدس بنا کر پیش کیا گیا۔جنگ کے اثرات کی اِس سے بُری تشریح اور کیا ہو سکتی ہے۔ جو سالنگ کے چہرے پر لکھی تھی۔ وہ دُکھ، وہ ویرانی، سراپا اُداسی، بچپن کی کو ئی جھلک ڈھونڈنے سے بھی نہ ملے۔ مشکل سے گیارہ سال کی عمر میں اُس نے وہ سب دیکھ لیا جو میں نے، آپ نے اپنی عمر ِ رفتہ میں نہ دیکھا۔ اُس کے گردوں نے پانچ سال پہلے کام کرنا چھوڑ دیا تھا۔

Read more

ایک ریسٹورینٹ جہاں بوڑھی اماں چاۓ بیچتی اور محبتیں بانٹتی تھیں

ریسٹورینٹ کا نام آتے ہی دماغ میں ایک ایسی جگہ کی تصو یر اُ بھرتی ہے جہاں داخلی دروازے پر صاف شفاف یونیفارم میں ملبوس ایک نوجوان آپ کے لئے کالے شیشوں کا دروازہ کھولتا ہے اور آپ کو ایک مسکراہٹ کے ساتھ خوش آمدید کہتا ہے۔ یہ مسکراہٹ سدا اس کے چہرے پر رہتی…

Read more

گلونہ سارا اباسین پینا چاہتی تھی

خوب صورت چہرہ سفارشی پرچی کی طرح ہوتا ہے۔ یہ بات اس پر صادق آتی ہے تب ہی تو میں ڈائلیسز یونٹ کے تمام بیڈ چھوڑ کر اس کی طرف کھنچھی چلی گئی۔ اس کی معصومیت نے اسے اور بھی مظلوم بنادیا تھا۔ وہ بمشکل سولہ سترہ سال کی ہوگی آخر ایسا کیا ہوگیا تھا…

Read more