خبر لیجیے دہن بگڑا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نواز شریف درست ہی کہتے تھے کہ اقتدار پھولوں کی سیج نہیں بلکہ کانٹوں کا بچھونا ہے۔ قوم یہ نہ سمجھے کہ اگر آپ نے ہمیں تخت اقتدار پر بٹھا دیا ہے تو ہم عیش و آرام میں ہیں۔ نواز شریف ہی کیا، ہر شریف انسان یہ بات خوب اچھی طرح جانتا ہے کہ ذمہ داری کیسی بھی ہو، ہر ذمہ دار انسان کے لئے بڑی آزمائش ہوا کرتی ہے، لہٰذا کوئی بھی ذمہ دار انسان نہ تو خود سے آزمائش طلب کرتا ہے اور نا ہی اس کی خواہش اپنے دل میں رکھتا ہے۔ البتہ اگر آزمائش آہی جائے تو وہ آزمائش کو، من جانب اللہ سمجھ کر صبر، شکر اور استقامت کے ساتھ اس کا مقابلہ کرتا ہے۔

ذمہ داری تو ایک گھر کی ہی ہر ذمے دار انسان کی کمر دہری کر دیا کرتی ہے۔ چہ جائے کہ کسی پر پوری قوم و ریاست کی ذمہ داری آن پڑے۔ اتنا پہاڑ بوجھ آ پڑنے کے با وجود، اگر وہ زندہ بچ جائے تو بڑی بات ہے۔ میں نے اسلامی جمعیت طلبہ کے کئی رہنماؤں کے سر پر نظامت اعلیٰ کا تاج سجتے دیکھا ہے۔ اعلان ہونے کہ بعد کئی کئی گھنٹے بے ہوشی کے بعد بھی انھیں پہلے خطاب کے لئے کندھا دے کر اسٹیج تک لایا جاتا تھا، تب بھی وہ چند الفاظ سے زیادہ کچھ نہ کہہ پاتے تھے۔ احساس ذمہ داری جن کے اندر کوٹ کوٹ کر بھرا ہو، وہ خوب اچھی طرح جانتے ہیں کہ کسی بھی ذمے داری کی جواب دہی کوئی آسان کام نہیں اور پھر وہ ذمے داریاں جن کا تعلق بندوں کے حقوق سے ہو، ان کا بوجھ تو نہ جانے کتنے ہمالیہ کے برابر ہوتا ہے۔

ملک و قوم کی ذمہ داریاں جن کے کندھوں پر آن پڑیں تو ان کی تو شکل ہی بدل جانی چاہیے۔ رونقیں فکر مندی میں بدل جانی چاہئیں۔ چال ڈھال میں عاجزی آ جانی چاہیے، باتوں میں دل نوازی پیدا ہو جانی چاہیے، تنگ نظری وسعت قلبی میں ڈھل جانی چاہیے، مکر و فریب سچائی میں بدل جانا چاہیے، وعدہ خلافیوں کو ایفائے عہد بن جانا چاہیے اور عیش و آرام بے چینی و بے کیفی میں تبدیل جانی چاہیے۔ یہ ذمے داری جشن منانے کی اجازت نہیں دیا کرتی، بلکہ اللہ کے حضور اس کی تائید، نصرت طلبی اور گڑگڑانے کے لئے ہوتی ہے۔ اس کی تائید و مدد شامل حال نہ ہو تو یہ ہمالیہ جیسی ذمہ داری نبھائی ہی نہیں جا سکتی۔

یہ ایسی کامیابی ہے جس میں مخالفین تو شمشیر براں بن ہی جاتے ہیں، وہ لوگ جو موافقین میں سے ہوتے ہیں، ان میں سے بھی ایک بڑی تعداد حسد کا شکار ہو کر منہ پر رام رام بغل میں جھری والی بن جاتی ہے۔ ایسے موقعوں پر موافقین پر اعتماد بحال رکھنا اور مخالفین کو اپنا دوست بنانے کی جن میں صلاحیتیں ہوتی ہیں، وہی کامیاب ہوا کرتے ہیں۔

صرف جمہوریت میں ہی نہیں، ہر قسم کی طرز حکومت میں وہ تمام افراد جن کو عوام کہا جاتا ہے، ان کو مطمئن رکھنا بہت ضروری ہوتا ہے۔ ایک گھر کے سربراہ سے اس کے چھوٹے بھائی، بہن اور بیوی، بچے کبھی دھن دولت کی برسات نہیں مانگا کرتے۔ عزت مانگتے ہیں، پیار مانگتے ہیں، لحاظ مانگتے ہیں اور جیسے سب ہوں گھر کے سربراہ کو بھی ویسا ہی دیکھنا چاہتے ہیں۔ بہت زیادہ فرق، سلوک میں بے اعتدالی، گفتار میں کھا جانے والا انداز اور سب کو ایک نظر سے نہ دیکھنا گھر کو جہنم بنا کر رکھ دیتا ہے اور سربراہ اپنی عزت و آبرو کھو دیتا ہے۔

جب ایک گھر سارے توازن کے بغیر نہیں چلایا جا سکتا تو پھر پوری ریاست کو غیر متوازن طریقے سے کیسے چلایا جا سکتا ہے۔ کیا پاکستان میں امیر و غریب کا فرق نہیں، کیا عدل کی ترازو کے دونوں پلڑے سب کو انصاف سے تول رہے ہیں، کیا یہاں ہر ایک کی عزت نفس کا خیال رکھا جاتا ہے، کیا حکمران اتنے ہی بد حال ہیں جتنے عوام، وہی کچھ کھا رہے ہیں، جو سب کھاتے ہیں، کیا ان کے گھر بھی ویسے ہیں، جیسے سب کے ہیں، ان کی آواز میں لوچ ہے یا گالم گلوچ اور کیا ان کے لہجے میں پیار ہے یا کھا جانے والا انداز۔

بے شک مخالفین کا انداز کبھی دوستانہ نہیں ہوا کرتا تو کیا حکمران کو بھی اسی سطح تک گر جانا چاہیے۔ کیا مخالفین کی بیان کردہ حکومتی کوتاہیوں پر کسی بھی سربراہ کو تلخ ہو جانا چاہیے، کیا کسی بھی سربراہ کو آئین و قانون سے متجاوز کوئی رد عمل دینا مناسب ہے۔ کیا ملک کا سربراہ عدالتوں کو اپنی خواہش کے مطابق فیصلوں پر مجبور کر سکتا ہے، کیا کسی کو قانون سے ہٹ کر سزا دلوائی جا سکتی ہے، کیا دھمکی آمیز لہجے کسی جمہوری حکمران کے لئے مناسب ہیں، کیا مخالفین کا مضحکہ اڑانا مدبرانہ طرز عمل ہے۔

پاکستان میں ہر قسم کی غلط، غیر آئینی و غیر قانونی تقاریر اور غیر ریاستی اقدامات کے خلاف کارروائیوں کے لئے آئین پاکستان نے بہت سارے ادارے تشکیل دیے ہوئے ہیں۔ یہ کام اداروں کا ہے کہ وہ کسی بھی باغیانہ یا غدارانہ بیانات کے خلاف اپنی کارروائیاں عمل میں لائیں۔ ایک جمہوری حکمران اور ایک آمر میں بہت بڑا فرق ہوتا ہے لیکن افسوس اسی بات کا ہے کہ کل کے کنوینشن ہال میں جمع افراد کے سامنے ملک کے حکمران نے جو بھی کہا، جس انداز میں بھی کہا، جس لہجے میں بھی کہا اور جس جھلاہٹ کے عالم میں مخالفین کو دھمکایا وہ کسی بھی صورت قابل ستائش نہیں۔

ممکن ہے کہ مہذب حلقہ احباب میں ان کا انداز، الفاظ کا چناؤ، لہجے کی تلخی، آواز کی کرختگی اور مخالفانہ گھن گرج کسی حد تک قابل قبول بھی ہو ہی جاتی لیکن جس عامیانہ انداز میں اپنے منہ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے، انھوں نے ایک خاص شخصیت کو للکارا، وہ کہیں سے کہیں تک بھی مناسب نہیں تھا۔ میں ان کی خدمت میں ایک شعر پیش کرنے کی جسارت کے ساتھ ہی اجازت چاہوں گا:

لگے منہ بھی چڑانے دیتے دیتے گالیاں صاحب
زباں بگڑی سو بگڑی تھی، خبر لیجیے دہن بگڑا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •