سید جعفر شاہ: سیاست میں وضع داری اور شرافت کی روشن علامت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سائل نے ہاتھ بڑھا کر فیس حوالے کر دی۔ بغیر گنے رقم جیب میں ڈال دی، تو سائل نے ہچکچاہٹ کے ساتھ کے ساتھ رقم کم ہونے کا اعتراف کیا۔ شاہ صاحب ہنسے اور کہا کہ آج تک ہم نے کسی سے نہ فیس کا تقاضا کیا اور نا ہی کبھی پوری فیس ملی، جو ملا اسی پہ اکتفا کیا۔ میں حیران ہوا کہ اتنا بڑا وکیل اور اتنی درویشی۔ یہ غالباً 1999ء کی بات ہے، جب میں اپنے چچا، ممتاز کاروباری اور سماجی شخصیت حاجی محمد اکبر خان کے ساتھ شاہ صاحب کے نگرل میں واقع لیگل چیمبر میں موجود تھا اور سید جعفر شاہ صاحب سے پہلا پہلا بالمشافہ تعارف تھا۔

ان کی ذات کے حوالے سے بہت کچھ سن رکھا تھا۔ ہمارے خاندان کے بیش تر افراد کا شاہ صاحب سے قریبی خاندانی تعلقات اور نیاز مندی کا رشتہ رہا ہے۔ ان عزیزوں میں خاص طور پر حاجی محمد اکبر خان کے ذریعے شاہ صاحب کا غائبانہ تعارف اور ان کی شخصیت کے کئی پہلو سے آگہی حاصل تھی اور پھر 1999ء میں ان کے دفتر میں ملاقات ہوئی اور پھر ہمیشہ کے لئے ان کے گرویدہ ہوئے۔

سید جعفر شاہ کا خاندان سکردو کی وادی روندو کے گاؤں تہوار سے ہجرت کر کے جلال آباد گلگت میں سکونت پذیر ہوا اور وہیں پر شاہ صاحب پلے بڑھے۔ ابتدائی تعلیم کے کے بعد کراچی کا رخ کیا اور قانون کی تعلیم حاصل کی۔

سید جعفر شاہ صاحب نے صرف وکالت کو حرز جاں نہیں بنایا بلکہ اسے خدمت خلق کے لئے ایک ذریعہ سمجھا۔ مشہور وکلا عیسیٰ خان، الطاف حسین کی موجودگی میں ذاتی پریکٹس شروع کی اور اپنی منفرد پہچان بنائی۔ وکالت کے دوران میں ہی انہیں احساس ہوا کہ اس خطے کے مسائل کتنے زیادہ ہیں اور کس طرح غریب لوگ بنیادی سہولیات کے لئے جاں بلب ہیں۔ تب انھوں نے مین سٹریم پالیٹکس میں حصہ لیا اور بنیادی منشا نہ نمود و نمائش اور نہ صلے کی پروا تھی بلکہ اپنی بساط کے مطابق خدمت خلق کرنا تھا۔

ملک بھر میں ذوالفقار علی بھٹو کا شہرہ تھا اور ان کی بے چہرہ اور کچلے طبقات کو زبان دینے اور عوامی سیاست کے انداز نے جہاں لاکھوں لوگوں کو متاثر کیا تھا، وہیں پر سید جعفر شاہ صاحب بھی کہاں الگ رہ پاتے۔ انھوں نے پیپلز پارٹی کو دل و جاں سے اپنایا اور خوب نبھایا۔ گزشتہ تین سالوں سے ان کی پارٹی سے علیحدگی ایک الگ کہانی ہے، جس کا تذکرہ پھر کبھی۔ انھوں نے سیاست میں جب قدم رکھا تو بڑے بڑے برج میدان میں تھے جن میں بلتستان سے شیخ غلام محمد، غذر سے پیر کرم علی شاہ، نگر ہنزہ سے قربان علی، شیخ غلام حیدر، سکردو سے وزیر صادق پیپلز پارٹی کے سرخیل تھے۔

ان نامور شخصیات کے درمیان انھوں نے نا صرف اپنا لوہا منوایا بلکہ سب ان کے معترف رہے۔ عملی سیاست میں حصہ لیا اور تین بار اس وقت کی ناردرن ایریا کونسل کے ممبر رہے۔ وہ سیاست میں کبھی بھی گو مگو کا شکار نہیں رہے اور نا ہی کبھی مفاداتی سیاست کو گلے لگایا، بلکہ پیپلز پارٹی میں رہ کر بھی دبنگ انداز میں اپنا نقطہء نظر رکھا۔

وہ سیاسی یا ذاتی کام سے جب بھی بلتستان آتے، تو ہمارے محلہ حاجی گام سکردو میں ضرور تشریف لاتے۔ اس کی بنیادی وجہ حاجی محمد اکبر خان اور دیگر شخصیات تھیں، جن سے نا صرف ان کی ذاتی تعلق داری تھی، بلکہ گلگت بلتستان کی سیاسی معاملات کے لئے مشاورت ہوتی تھیں۔ ہمارے عزیز انجینیئر غلام مرتضیٰ جو کاروبار کے علاوہ سپریم کورٹ آف پاکستان میں گلگت بلتستان کا آئینی مقدمہ وہاب الخیری کے ذریعے لڑنے کے حوالے سے مشہور رہے، کے پاس حال ہی میں ایک پرانی 1991ء کی ویڈیو دیکھی کہ ان کے گھر دعوت میں قربان علی صاحب اور سید جعفر شاہ صاحب گلگت، استور اور دیامیر کی سیاسی شخصیات کے ہم راہ، ہمارے بزرگوں حاجی علی نور، حاجی سلیمان، حاجی محمد اکبر خان، صوبیدار یوسف، صوبیدار دلاور خان، حاجی رحمت علی، حاجی عذر خان، یوسف علی، احمد خان، محمد بشیر اور شریف شاہی وغیرہ کے ساتھ مشاورت کرتے دکھائی دیتے ہیں اور ایسا صرف ایک بار نہیں بلکہ ہر ہر مرحلے میں ان کا ہمارے خاندان سے رابطہ رہا۔ بعد ازاں سید جعفر شاہ سے ہمارے انکل مرحوم محمد اسحاق، ڈاکٹر محمد شریف، محمد عبداللہ حیدری اور غلام نبی ایڈووکیٹ سمیت نئی نسل کا بھی سیاسی اور نیاز مندی کا تعلق عمر بھر کا رہا۔

گلگت بلتستان کے تشخص اور آئینی حیثیت کے لئے سید جعفر شاہ کا موقف واضح اور بلند رہا۔ چاہے پارٹی کا فورم ہو یا کوئی اور تقریب انھوں نے اپنے موقف کو کبھی نہیں چھپایا، نا ہی انھوں نے جھجک محسوس کی اور نہ کسی کی پروا۔ انہوں نے گلگت بلتستان کے لئے ایک سیاسی اصلاحات کا پیکج تیار کیا جس میں گلگت بلتستان میں با اختیار سیٹ اپ کے لئے طریقہ کار وضع کیا گیا تھا اور اس وقت کے ناردرن ایریاز کونسل کے تمام ارکان سے متفقہ طور پر منظور بھی کرایا تھا، جس کی ایک کاپی از راہء عنایت مجھے بھی دی تھی۔ ان کا دوسرا بڑا کام گلگت بلتستان گڈ گورننس آرڈر 2009ء کی تیاری تھی، جس کے لئے پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت نے ان کی صائب رائے کو محترم جانا اور آرڈر کا حصہ بنایا۔ گو کہ تمام کا تمام آرڈر ان کی خواہش کے مطابق نہیں بنا۔

سید جعفر شاہ صاحب کی طرز سیاست سے ہو سکتا ہے۔ بہت سے لوگوں کو اختلاف ہو، مگر کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ انھوں نے کبھی لسانی، علاقائی تضادات اور مسجد و محراب کو اپنی نشست جیتنے یا سیاست کے لئے استعمال کیا ہو یا کبھی اقتدار میں اپنی جیبیں بھری ہوں۔ گلگت بلتستان جنرل ضیا الحق کے دور آمریت کے دوران میں اور بعد میں بھی مذہبی انتہا پسندی اور تشدد کا شکار رہا، مختلف لوگوں نے ان مواقع سے اپنے اپنے مفادات کے لئے دروازے بنا لئے مگر سید جعفر شاہ صاحب نے مرتے دم تک اجتماعی سیاست اور وسیع علاقائی مفادات کو پیش نظر رکھا اور بڑے نقصان بھی اٹھائے لیکن متزلزل کبھی نہیں ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ آج گلگت بلتستان کا ہر فرد ان کی بے وقت رحلت پر سوگوار ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •