معیدیوسف کا کرن تھاپرکو انٹرویو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ کوئی معمولی اور روایتی انٹرویو نہیں تھا کیونکہ چودہ ماہ بعد وزیرعظم پاکستان کے مشیر برائے قومی سلامتی ڈاکٹر معید یوسف نے بھارتی صحافی کرن تھاپر کو انٹرویودینے کا فیصلہ کیا۔کرن ایک منجھے ہوئے اور نوکیلے سوال کرنے کی شہرت رکھتے ہیں۔ وہ پاک بھارت تعلقات کی باریکیوں سے بھی خوب واقف ہیں۔

معید یوسف کا یہ طویل انٹرویو کئی پہلوؤں سے اہمیت کا حامل ہے۔ اس انٹرویو میں پہلی بار کھل کر دلائل کے ساتھ پاکستان کا نقطہ نظر پیش کیا گیا اور بھارت کی پاکستان کے داخلی معاملات میں مداخلت کا ذکر بھی عمومی انداز کے برعکس واقعات کے پس منظر میں شواہد کے ساتھ کیاگیا ۔جو کرن تھاپر کے لیے ایک دھچکے سے کم نہ تھا۔چنانچہ وہ انٹرویو کے دوران صحافی کی بجائے ایک تفتیش کار کے طور پر سامنے آئے۔ بھارتی نیوز ویب سائٹ ‘دی وائر پر 75 منٹ کے انٹرویو میں معید یوسف محض روایتی پاکستانی موقف پر ہی نہیں اڑے بلکہ انہوں نے بھارت کو پیغام دیا کہ پاکستان کھلے دل کے ساتھ مذاکرات کی بساط بچھانے بلکہ لچک دکھانے پر آمادہ ہے۔ وہ کہتے ہیں دونوں ممالک کے درمیان کشمیر اور دہشت گردی دو مسائل ہیں۔ میں دونوں کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہوں۔

انہوں نے پراعتماد اور متوازن لہجے میں کہا کہ اگر بھارت ایک قدم آگے بڑھے گا، تو وزیر اعظم عمران خان کا پاکستان دو قدم آگے بڑھے گا۔اس طرح معید نے پاکستان کو ایک بڑے دل گردے کا مالک ملک ثابت کیا ،جو مشکل حالات میں بھی مخالف کے ساتھ تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہتاہے۔ کشمیر پر پاکستان میں آج کل حزب اختلاف اور خاص کر مولانا فضل الرحمان نے ایک ہنگامہ برپا کررکھا ہے کہ پاکستان سودے بازی کرچکا ہے۔ وہ کشمیریوں کی نہیں بلکہ جو علاقے اس کے زیرانتظام ہیں محض ان پر اپنا کنٹرول مستحکم کرنا چاہتاہے۔

معید یوسف نے اس پروپیگنڈے کا بڑی مہارت سے تدارک کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کے نقطہ نظر سے کشمیری تنازع کے اصل فریق ہیں۔ ان کی خواہشات اور امنگوں کو پاک بھارت مذاکرات کا لازمی حصہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان امن کی خواہش رکھتا ہے اور بھارت کے ساتھ مذاکرات کا خیرمقدم کرے گا اگر بھارت مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کی زندگی معمول پر لائے، کشمیریوں کو مذاکرات میں بنیادی پارٹی تسلیم کرے۔ یہ نقطہ بہت ہی اہمیت کا حامل ہے کہ کشمیریوں کی شمولیت کے بغیر کوئی تنازعہ حل نہیں ہوسکتا اور کشمیریوں کو ایک پارٹی کے طور پر تسلیم کیا جائے۔

معید یوسف کا یہ مطالبہ بھی جائز اور صائب تھا کہ بھارت کوئی بھی بات چیت شروع کرنے سے پہلے پانچ اگست کی پوزیشن بحال کرے تاکہ کشمیر یوں کی داخلی خودمختاری بحال ہو اور آبادی کا تناسب بگاڑنے کی مہم روکی جاسکے۔ گلگت بلتستان کے حوالے سے معید یوسف سے بڑے تلخ سوالات کیے گئے ۔مثال کے طورپر کہا گیا کہ اگر بھارت نے مقبوضہ جموں وکشمیر کا اسٹیٹس بدلا ہے، تو پاکستان بھی تو گلگت بلتستان میں یہی کرنے جارہاہے۔انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ گلگت بلتستان پر پاکستان کشمیر پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مغائر کوئی فیصلہ نہیں کرے گا۔

معید یوسف کے انٹرویو کے ذریعے دونوں ممالک میں پبلک ڈائیلاگ کی کھڑکی کھلی ہے۔تلخ ہی سہی لیکن میڈیا کی سطح پر کھل کر ایشوز پر بات چیت شروع ہوئی ہے، جسے جاری رہنا چاہیے۔ اگلے مرحلے میں بھارتی میڈیا کے ذریعے مزید گفتگو ہونی چاہیے تاکہ کشمیریوں اور بھارتی رائے عامہ تک پاکستان کا نقطہ نظر پہنچ سکے۔ بے شمار بھارتی چینلز اور اخبارات نے اس انٹرویو پر تبصرے کیے۔سوشل میڈیا پر یہ انٹرویو بھی مسلسل کئی روز زیر بحث رہا۔

عائشہ صدیقہ جو معید یوسف پر نکتہ چینی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتیں انہوں نے اپنے ٹوئیٹر پیغام میں لکھا کہ کرن تھاپر کے برعکس معید یوسف زیادہ پر اعتماد نظر آتے تھے۔معید چونکہ پائے کے دانشور اور لکھاری ہیں۔دلائل کے ساتھ گفتگو میں تاک ہیں، لہٰذا ان کا پلہ بھاری رہا۔ کشمیریوں کے فعال طبقات نے اس انٹرویو کو بہت پسند کیا۔ کشمیر پر بہت ساری غلط فہمیوں کا بھی ازالہ ہوا اور عمومی اضطراب میں کمی آئی۔

اس ایک برس میں کشمیریوں پر ایک قیامت ٹوٹی۔ اپنی بقا کا چیلنج انہیں درپیش ہوا۔کشمیرکی بھارت نواز جماعتوں نے نوشتہ دیوار پڑھ لیا اور بتدریج بھارت نوازی کے بیانیے سے فاصلہ اختیار کیا۔ کشمیر کی تمام سیاسی قوتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے کا موقع پیدا ہوا لیکن اس سے ابھی تک کوئی خاطر خواہ فائدہ نہ اٹھایا جاسکا۔ پاکستان میں اقتدار کی رسہ کشی تھمتی تو حکومت کسی اور کام کی طرف متوجہ ہوتی۔ حزب اختلاف کی جماعتوںنے ہر موقع کو حکومت گرانے کے لیے استعمال کیا۔ حتیٰ کہ فیٹف تک میں قانونی سازی کے لیے تعاون سے انکار کردیا۔

ان حالات میں سرکار ہو یا ادارے ،کسی کے پاس وقت اور توانائی نہیں بچتی کہ وہ طویل المعیاد منصوبہ بندی کریں۔ ہمہ جہتی حکمت عملی مرتب کریں۔ اس پر وار گیمز کریں اور اس کے بعد مستقل مزاجی کے ساتھ آگے بڑھیں۔ میڈیا کو اگرچہ میں دوش نہیں دیتا لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ صحافیوں اور لکھاریوں کا ایک بہت بڑا طبقہ حکومت کے کسی بھی اچھے کام کی تعریف تو درکنا ر اس کا ذکر کرنا بھی مناسب نہیں خیال کرتا۔ہر کام اور ہرا قدام میں کیڑاکاری کی جاتی ہے ۔

بڑے منظم اور سائنٹیفک طریقہ سے ناامیدی پیدا کی جارہی ہے تاکہ عوام کا حوصلہ ٹوٹ جائے۔وہ ہمت ہار بیٹھیں۔ ذرائع ابلاغ میں ان عناصر کو بروئے کار آنا ہوگا جو پاکستان کا درد رکھتے ہیں۔ ملک کو کسی بحران میں نہیں دھکیلنا چاہتے ۔ انہیں امیدکا چراغ روشن کرنا ہوگا تاکہ عوام کا حوصلہ بلند رہے اور وہ درپیش مشکلات کا بہادری سے مقابلہ کرسکیں۔ اللہ تعالے نے بھی قرآن میں فرمایا ہے ـ’’ہرمشکل کے بعدآسانی ہوتی ہے‘‘۔

بشکریہ روزنامہ نائنٹی ٹو

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ارشاد محمود

ارشاد محمود کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک سینئیر کالم نویس ہیں جو کہ اردو اور انگریزی زبان میں ملک کے موقر روزناموں کے لئے لکھتے ہیں۔ ان سے مندرجہ ذیل ایمیل پر رابطہ کیا جا سکتا ہے [email protected]

irshad-mehmood has 162 posts and counting.See all posts by irshad-mehmood