حفیظ سنٹر سانحہ اور پاک فوج کے جوان کی دلیری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حفیظ سنٹر لاہور کا سب سے بڑا تجارتی مرکز ہے جہاں کمپیوٹرز، لیپ ٹاپ، موبائل فونز، ڈیجیٹل کیمرے اور پرنٹرز سمیت متعدد دیگر الیکٹرانکس کا کاروبار ہوتا ہے۔ 17 کنال رقبے پر مشتمل اس سنٹر میں ایک ہزار سے زائد دکانیں ہیں۔ تاجر رہنماؤں کے ایک اندازے کے مطابق اس سنٹر میں روزانہ 15 سے 20 کروڑ روپے تک کاروبار ہوتا ہے اس لحاظ سے دیکھا جائے تو ہزاروں افراد اور ان کے اہل خانہ کا ذریعہ معاش اسی سنٹر سے جڑا ہوا ہے۔ بدقسمتی سے اتوار کی صبح 6 بجے سنٹر کی دوسری منزل میں بجلی کے شارٹ سرکٹ کی وجہ سے ایسی ہولناک آگ لگی کہ جس نے حفیظ سنٹر کو راکھ کا ڈھیر بنا کر رکھ دیا۔

ایک طرف آگ کے شعلے حفیظ سنٹر کو اپنی لپیٹ میں لے رہے تھے تو دوسری جانب تاجر دھاڑیں مار مار کر اپنے ذریعہ معاش کو ختم ہوتا دیکھ رہے تھے، انھیں اس بات کا غم تھا کہ اب ان کے بیوی بچوں کو دو وقت کی روٹی کیسے نصیب ہوگی کیونکہ کورونا وائرس نے تو پہلے ہی معیشت کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ لاک ڈاؤن اور وبا کی وجہ سے تاجر اور کاروباری لوگ پہلے ہی قرضوں میں ڈوبے ہوئے ہیں، انہی حالات سے دلبرداشتہ آئے دن کسی نہ کسی تاجر کی خود کشی کی خبریں میڈیا میں آ رہی ہیں، ایسے میں اب جبکہ کچھ کچھ کاروبار چلنا شروع ہوئے اور تاجر اور ان کے اہل خانہ کے دال دلیہ کا کچھ سبب بننا شروع ہوا ہی تھا کہ کمبخت اس آگ نے سب کچھ برباد کر دیا اور پھر انھیں فاقہ کشی کی جانب دھکیل دیا۔

ایک طرف آگ کے خوفناک شعلے فضاوں میں بلند تھے تو دوسری جانب متاثرہ تاجروں کی جانب سے اذان کی صدائیں آسمان تک پہنچائی جا رہی تھیں۔ تاجر تو دھاڑیں مار مار کر رو ہی رہے تھے، ان کو دیکھنے والوں کی آنکھوں میں بھی پانی بہہ رہا تھا کہ شاید اس پانی سے لگی آگ بجھ جائے۔ ریسکیو اور فائر بریگیڈ کی 33 سے زائد گاڑیاں اور 60 سے زائد ریسکیو اہلکار آگ بجھانے کی انتھک کوشش کرتے رہے لیکن آگ 11 گھنٹے گزرنے کے بعد اس وقت مدھم ہوئی جب سب کچھ جل کر خاکستر ہو چکا تھا۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق 400 سے زائد دکانیں جل چکی ہیں۔ جب آگ بجھی تو تاجر اپنی اپنی دکانوں کی طرف دوڑے کہ شاید جینے کا کچھ سہارا مل جائے لیکن کسی کو راکھ ملی تو کسی کو پانی۔ آگ اور پانی کے اس ہولناک کھیل میں سب کچھ تباہ ہو چکا تھا۔ جو دکانیں آگ سے بچ گئی تھیں ان میں آگ بجھانے کے لئے استعمال ہونے والا پانی بھر چکا تھا۔ کچھ تاجر بدحواسی میں اپنی دکانوں کی راکھ چھانتے رہے کہ شاید کچھ بچ گیا ہو لیکن انھیں دوسروں کی تسلی اور ہمدردی کے سوا کچھ نہ ملا۔

اس افسوس ناک واقعہ کے دوران انسانیت کی تذلیل تب ہوئی جب کچھ چوروں نے آگ کی لپٹوں کی پرواہ کیے بغیر اس وقت بھی چوری کی وارداتیں کیں جب ریسکیو عملہ آگ بجھانے میں مصروف تھا۔ چور دکانوں سے قیمتی موبائل فونز اور دیگر سامان چرا رہے تھے کہ اینٹی رائٹ فورس نے انھیں پکڑ لیا اور تھانہ گلبرگ میں پہنچا دیا۔ دوسری جانب انسانیت کی ایک اعلیٰ مثال بھی اسی سانحہ کے دوران دنیا کو دیکھنے کو ملی جب ایک فوجی جوان نے تاجر کو روتا دیکھ کر اس کی مدد کرنے کی خاطر آگ کے شعلوں میں چھلانگ لگادی۔

ہوا کچھ یوں کہ ایک تاجر دھاڑیں مار مار کر روتے ہوئے مدد کے لئے دوسروں کے پاؤں پکڑ رہا تھا۔ دراصل تاجر کے پچاس لاکھ روپے اس کی دکان میں پڑے تھے، وہ اپنے ساتھیوں سے التجا کر رہا تھا کہ کوئی اس کے ساتھ چلے اور وہ رقم نکال لائے لیکن کسی میں بھی اتنی ہمت اور حوصلہ نہ تھا کہ تاجر کی مدد کے لئے خود کو آگ کے شعلوں میں دھکیل دے۔ اسی اثناء میں ایک فوجی جوان وہاں سے گزر رہا تھا اس نے تاجر کو التجا کرتے دیکھا تو فوری مدد کرنے کا فیصلہ کیا اور آگ کے شعلوں میں چھلانگ لگادی۔

57۔ بلوچ رجمنٹ کے فوجی جوان انتظار علی نے ثابت کیا کہ پاک فوج کا ایک ایک جوان کتنا دلیر ہے۔ فوجی جوان نے نہ صرف تاجر کی رقم اسے واپس دلوانے میں مدد کی بلکہ آگ میں پھنسے آٹھ سے زائد افراد کی جانیں بھی بچائیں۔ اس دوران ایک موقعہ پر فوجی جوان ایک دکان کے شٹر کے نیچے دب گیا اور عین ممکن تھا وہ آگ کی لپیٹ میں آ کر شہید ہوجاتا لیکن اس فوجی جوان نے ہمت اور بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے خود کو شٹر کے نیچے سے نکالا اور اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر دوسروں کی جان بچانے میں لگ گیا۔ سلام ہے پاک فوج کے جوانوں کو۔ حکومت کو چاہیے کہ حفیظ سنٹر کے تاجروں کو ہر ممکن امداد دے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •