انقلاب اسلامی کی اہمیت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آغاز میں کسی بھی معاشرے کے اندر لائی جانے والی کسی بھی تبدیلی کو انقلاب کہا جاتا تھا۔ تدریجاً لفظ انقلاب نے اپنا درست مطلب ڈھونڈ لیا اور اپنے اندر ایک مخصوص معنی کو شامل کر لیا۔ لہذا اب ہر تبدیلی یا اصلاح کو انقلاب سمجھنا غلط ہو گا۔ جیسا کہ ہمارے یہاں پہلے سے موجود فاسد نظام کی ملمع کاری کو بھی انقلاب کہہ دیا جاتا ہے، یا ایک ایک کر کے مختلف شعبوں کی اصلاح کا نام بھی انقلاب رکھ دیا جاتا ہے۔ جب کہ انقلاب اس معاشرتی تبدیلی کو کہتے ہیں، جو نا گہاں ہو، ہمہ جہت ہو، اور یہ تبدیلی کسی آئیڈیالوجی کے نتیجے میں رو نما ہوئی ہو۔

تاریخ میں انقلابی تحریکوں کا بغور مطالعہ اور ان کا عملی تجزیہ معاشرے کے سنجیدہ اور علم دوست افراد کے لیے مفید اور قوی ثابت ہو سکتا ہے۔ جس طرح اپنے حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے، کسی دوسرے معاشرے کا کامیاب زرعی، تعلیمی یا صنعتی ماڈل مطالعہ کر کے ان شعبوں کے اندر کئی مثبت تبدیلیاں لائی جا سکتی ہیں، بالکل اسی طرح دنیا بھر میں رو نما ہونے والے انقلابات کے اسباب، عوامل، اثرات اور نتائج کا مطالعہ کر کے اپنے معاشرے کے لیے درست نظام تشخیص دیا جا سکتا ہے۔

عصر حاضر میں اسلامی تحریک کا ایک کامیاب نمونہ انقلاب اسلامی کی شکل میں پیش کیا جا سکتا ہے، جسے ارادی یا غیر ارادی طور پر نسل انسانیت سے اوجھل رکھا گیا۔ بد قسمتی سے ہمارے معاشرے میں کسی بھی طرح کے حادثات و واقعات یا اجتماعی و سیاسی تبدیلیوں کا علمی و تحقیقی تجزیہ و تحلیل نہیں کیا جاتا، بلکہ اہم ترین واقعات بھی صرف صحافیانہ رپورٹنگ تک محدود ہو کے رہ جاتے ہیں۔ اخباری طرز مطالعہ کے رائج ہو جانے کی وجہ سے عوام کے اندر بھی کسی سیاسی یا سماجی تبدیلی کے علمی و تحقیقی جائزہ سے متعلق دل چسپی ختم ہو چکی ہے اور ان کی ساری توجہ ایک خاص طرز کی اخباری معلومات تک ہی محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ اس ضمن میں کئی وجوہ، ذکر کی جا سکتی ہیں، لیکن دو اہم ترین اسباب سر فہرست ہیں جو انقلاب اسلامی کی ترویج و صدور کی راہ میں رکاوٹ بن گئے۔ ایک عالمی طاقتوں کا اس انقلاب کی طرف سے احساس خطر اور دوسرا علمائے دین کی طرف سے جمود و تحجر۔

طاغوتی حکومتیں اور حکمران کبھی بھی نہیں چاہتے کہ ان کے زیر حکومت ایسے تعلیمی نصاب پڑھائے جائیں، جو آگے چل کر سب سے پہلے انہی حکومتوں کے لیے خطرہ بن جائیں۔ انقلاب اپنی ذات کے اندر ٹکراؤ رکھتا ہے، تصادم انقلاب کا لازمہ ہے، کون حکمران اس تصادم کو پروان چڑھانے کا خطرہ مول لے سکتا ہے؟

لیکن طاغوتی حکومتوں سے زیادہ نہیں تو کم از کم اتنا ہی بڑا ظلم انقلاب اسلامی پر اس متحجر دین دار طبقے نے کیا ہے، جس نے دین کو چند مسائل تک محدود رکھا۔ صدیوں تک کئی حیاتی موضوعات کو متروک رکھ کر انسانیت کے حق میں بہت بڑی خیانت کے مرتکب ٹھہرے۔ ادھورا دین پڑھایا جا تا رہا، پڑھا جاتا رہا اور تبلیغ کیا جاتا رہا۔ لیکن در عین حال حکومتوں اور متحجر طبقے کا کسی موضوع کو نصاب کے طور پر رائج نہ کرنا، اس موضوع کے کم اہمیت ہونے پر ہرگز دلالت نہیں کر سکتا۔

حکومتی مفادات کی خاطر صدیوں تک موضوع امامت کو کسی بھی طرح کے علوم میں شامل نہیں رکھا گیا، اور پھر دنیا نے دیکھا کہ اسی موضوع امامت نے دنیا بھر کے سامنے انقلاب اسلامی کی شکل میں عملی ظہور کیا اور صدیوں تک حتی علم کلام میں بھی متروک و مہجور رکھے جانا والا موضوع مستقل نظام حکومت میں ڈھل گیا۔

انقلاب روس اور انقلاب فرانس جن کے بغیر آج کا علم سیاست غیر مکمل سمجھا جاتا ہے اور ہر طالب علم سیاست کے لیے لازمی ہے کہ وہ ان انقلابات کے پس منظر، اسباب، نتائج اور اثرات کا مطالعہ کرے، ایسے میں انقلاب اسلامی کو تعلیمی نصاب کا حصہ نہ بننے دینا یقیناً انسانیت کے حق میں ظلم سمجھا جائے گا۔

انقلاب اسلامی ہر اعتبار سے انقلاب فرانس (کہ جس نے اس وقت کی بشریت کا رخ موڑا) سے کہیں زیادہ ہمہ جہت اور گہرا ہے۔ انقلاب اسلامی فقط سیاسی پہلو نہیں رکھتا بلکہ دین کی حقیقی روح کا عملی نمونہ ہے۔ وہ زمانہ جب دنیا فقط ٹیکنالوجی کو اپنا امام مان چکی تھی اور عصر دین کے خاتمے کا اعلان کیا جا چکا تھا، ایسے میں انقلاب اسلامی کا اپنی پوری عظمت و قدرت کے ساتھ رونما ہونا کئی پہلوؤں سے خود کو دیگر انقلابات سے ممتاز کرتا ہے

وہ دین جسے عملی زندگی سے باہر نکال کر فقط ذہنی حالت تک محدود کر دیا گیا تھا، وہ دین جس کی عملی شکل کا کوئی تصور موجود نہیں تھا، وہ دینی تعلیم جس کا فارغ التحصیل انسان کتابوں کا بوجھ اٹھائے حیران و سر گرداں ادھر ادھر گھومتا رہتا تھا اور اپنے علم کی بڑی سے بڑی قیمت یہ لگاتا کہ چھوٹی سے چھوٹی ملازمت لے کر راضی ہوجاتا تھا اور اس قرآنی مثال کا مصداق نظر آتا تھا

” مثل الذین حملوا التوراة ثم لم یحملوھا کمثل الحمار یحمل اسفاراً۔ (سورہ جمعہ آیت 5 )

اس زمانے میں انقلاب اسلامی نے بتایا کہ دین صرف ذہنی حالت کا نام نہیں بلکہ سارے کا سارا عملی و تجربی ہے، جس طرح میڈیکل، انجینئرنگ اور اکنامکس کا طالب علم روز اول سے اپنے علم کا عملی میدان جانتا ہے اسی طرح دینی تعلیم حاصل کرنے والا بھی اپنے علم کو معاشرے میں نافذ کر سکتا ہے۔ اب اس کی حیرت و سر گرداںی ختم ہو گئی، اب اس کے علم کو ایک جہت مل گئی۔ در حقیقت انقلاب اسلامی نے علم، دین اور زندگی تینوں کو ایک واضح و روشن سمت عطا کی ہے۔ لہذا با لعموم تمام بشریت و بالخصوص پاکستانیوں کے لیے لازمی ہے کہ اپنے پڑوس میں وقوع پذیر ہونے والے اس عظیم انقلاب اسلامی کا علمی و نظریاتی بنیادوں پر مطالعہ اور تجزیہ و تحلیل کریں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •