قصہ ایک نو آموز کا جس نے دو ناول لکھ ڈالے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

واجد ابرار اٹلی میں رہتے ہیں، لیکن سانس پاکستان میں لیتے ہیں۔ ابھی کھیلنے کودنے اور تفریح کے دن تھے کہ نا جانے اسے کیا سوجھی، کاغذ قلم اٹھایا اور گھر کے کونے میں کسی پارک کے بینچ پر اور کسی جنگل میں جھیل کنارے بیٹھ کر لکھنا شروع کر دیا۔ لکھتے رہے اور بس لکھتے رہے۔ تین ماہ بعد گھر والوں اور دوستوں پر انکشاف ہوا کہ موصوف ایک عدد ناول لکھ چکے ہیں۔ کسی نے یقین نہ کیا۔ کیوں کہ اس نے کوئی ادبی ناول تو کجا، کبھی کوئی ادبی کتاب تک نہیں پڑھی تھی۔ البتہ وہ مطالعے کا شوق رکھتا تھے۔

آج کے اردو ادب اور اس کے ”درخشاں ستاروں“ سے اسے کوئی شناسائی نہیں تھی۔ حتیٰ کہ اسے کلاسیک ادب اور کلاسیک مشاہیر ادب سے بھی شدھ بدھ نہ تھی۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ قدرت اللہ شہاب کون ہے؟ امجد اسلام امجد، اشفاق احمد، ممتاز مفتی اور تو اور وہ مستنصر حسین تارڑ کے مشکل نام اور اس سے وابستہ واقعات سے بھی واقف نہیں تھا۔ وہ صرف پاکستان کے ایک نامور ادبی بزرگ ”فصیح باری خان“ کے نام سے واقف تھا۔ وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ فصیح باری خان نامور تو تھا، لیکن ادبی بزرگ ہر گز نہیں تھا۔

اس نے کبھی نہیں سوچا کہ وہ مستقبل میں رائٹر بنے گا یا کوئی راک سٹار۔ اس کے گھر انگلش اور دیگر اقوام کی لکھی کتابیں تو موجود تھیں۔ اردو کی کوئی ایسی قابل ذکر کتاب پڑھنے کو موجود نہ تھی، جس سے اسے کسی قسم کے ادیب افسانہ نگار یا شاعر بننے کی مہمیز یا تحریک ملتی۔ اس نے کبھی سکول کالج کے میگزین میں بھی بھولے سے کچھ نہیں لکھا تھا۔ لیکن اس نے ایک کے بعد دوسرا ضخیم ترین ناول بھی لکھ لیا۔

گھر والوں کو مشکل سے یقین آیا، جب اس نے ناول کا پہلا مسودہ انہیں دکھایا۔ پڑھایا یوں نہیں کہ کون مائی کا لال چار پانچ سو صفحات ایک ہی نشست میں سنتا۔ ویسے بھی سارا گھرانا اور ماحول غیر ادبی تھا۔ بالآخر گھر والوں اور دوستوں کو یقین ہو گیا کہ اس نے جو کاغذ کالے کر لیے ہیں، وہ کوئی کتاب نما ہی چیز ہو گی۔ یہ ناول چھاپے گا کون؟ کسی نے سوال داغا، جسے سن کر ماحول میں ایک سناٹا سا چھا گیا۔ یہ تو مصنف غریب نے سوچا بھی نہیں تھا۔ اب کون اس بے استادے لکھاری کا پہلا ناول چھاپے؟

جس کا ادب میں اور ادبی حلقوں میں کوئی نام نہیں اور نا کوئی اسے جانتا تھا۔ لہذا سوال پیدا ہوا کہ کون کاغذات کے اس پلندے کو، جسے واجد ابرار بہت یقین اور آنکھوں میں چمک لاتے ہوئے ناول کہتا تھا، کو شائع کرے گا۔ اٹلی میں تو ویسے بھی کوئی ایسا پبلشر نہیں تھا جو واجد ابرار میاں کے اردو زبان کے اس ”معرکتہ الآرا“ کو شائع کرتا۔ دوسرا اسے اور اس کے خاندان تک کے کسی فرد کو نہیں پتا تھا کہ پبلشرز نام کی مخلوق پائی کہاں جاتی ہے؟ آخر انٹر نیٹ پر پبلشرز کی کھوج کاری شروع ہوئی، تو بات پہنچی پاکستان تک۔

بہت سے پبلشروں کو جب پتا چلا کہ پارٹی یورپ کی ہے او ر لامحالہ ادائیگی پونڈز میں ہو گی، تو ان کے منہ سے رال ٹپک پڑی۔ جب معصوم مصنف نے ان سے پوچھا کہ آپ مجھے اس ناول کے کتنے پیسے دیں گے؟ ان پبلشروں کا کرارا جواب سن کر مستقبل کے متوقع نامور مصنف موصوف کا نا صرف منہ لٹک گیا، بلکہ اس کا اچانک مصنف بننے کا خواب اور مستقبل بھی اندھیرے میں جیسے ڈوب سا گیا ہو۔ کم بختوں نے تھوڑی سی بھی ڈھارس، امید یا حوصلہ نہیں دیا، جس سے بچے کا مورال بلند ہو جاتا۔ دوسری طرف یورپی پبلشروں نے بھی پاکستانی پبلشروں سے خیر سگالی اور سفارتی تعلقات اور امور مشترک میں دل چسپی کی تجدید نو کرتے ہوئے، بالآخر ایک مشترک علانیہ جاری کر دیا، جس کا لب لباب یہ تھا کہ ”مینوں نوٹ وکھا میرا موڈ بنے“۔

منہ لٹکا دیکھ کر اور پبلشروں کے اس متوقع جواب پر اس کے اکثر دوست اور بد خواہوں کے چہروں پر بہار چھا گئی۔ آخر اس کا دل رکھنے کی خاطر، سب ایک بار پھر سر جوڑ کے بیٹھ گئے اور لگے سوچنے۔ ادھر واجد ابرار بھی سوچنے لگا کہ کیسے دنیا بھر کے شاعروں ادیبوں کی کتابیں دھڑا دھڑ چھپتی ہیں اور کیسے ہاتھوں ہاتھ بک جاتی ہیں؟ وہ دیر تک یہ معما حل نہ کر سکا۔ بہر حال اسٹریٹیجی تبدیل کی گئی اور ایک نئے عزم اور نئے حوصلے سے دوبارہ پبلشروں کی تلاش شروع ہوئی، اب ٹارگٹ پاکستان سمیت تمام ایشیا بلکہ دنیا کے تمام شہروں تک بڑھا دی گیا۔

ہر جگہ سے ٹکا سا جواب سن کے سب کا مشترک فیصلہ سامنے آ گیا کہ اس مخطوطہ نما مسودہ کو وینس شہر کے کسی خوبصورت پل پر کھڑا ہو کے بہتے ہوئے پاک پانی میں ہمیشہ کے لیے بہا دیا جائے۔ البتہ اس فعل حسنہ سے پہلے اس کی ویڈیو اور ایک ٹک ٹاک بھی بنا لی جائے۔ تا کہ سند رہے اور دوسروں کو بطور عبرت کے دکھایا جا سکے۔

دل شکستہ واجد ابرار نے ظالم سماج کا سن رکھا تھا، آج اس نے وہ ظالم سماج اپنی آنکھوں سے دیکھ بھی لیا تھا۔ اس نے اس جذباتی لمحات میں ایک فیصلہ کن اعلان کیا کہ جب تک ہے جاں، وہ اس کو چھپوا کے رہے گا۔ ( سب انگشت بدنداں۔ جس کا مطلب عظیم مصنف سمیت کسی کو نہ آتا تھا، رہ گئے)۔ ایک ماہ کی سر توڑ کوشش کے بعد، ملنے والی نا کامی میں، اسے امید کی ایک کرن نظر آئی۔

اپنا وطن ہی اس کے کام آیا اور القریش پبلی کیشنز نے کچھ لینے دینے کے بعد، اس کے مسودے کو قبول کر لیا۔ گمان غالب ہے کہ اٹلی میں اس دن لڈی ہے جمالو پاو، کی دھن پر رقص بھی سنائی دیا گیا تھا۔

ایگریمنٹ اور دیگر معاملات انٹر نیٹ ہی پر طے پا گئے، کیوں کہ کرونا کی وبا کے باعث، وہ اٹلی سے لاہور نہیں آ سکتا تھا۔ اس نے اطمینان کی سانس لی اور آرام دہ کرسی پر دراز ہو گیا۔ اب اس نے صرف اور صرف ناول چھپنے کا انتظار کرنا تھا۔ سو وہ کرتا رہا۔

انتظار کی سولی پر وہ کئی مہینے لٹکا رہا۔ اس دوران میں اس نے انتظار کے حوالے سے ہر وہ تحریر پڑھ ڈالی، جس سے انتظار کرنے والوں پر جو کوفت اور قیامت گزرتی ہے۔ حتیٰ کہ اس نے انتظار کی کیفیت پر ایک اور ناول لکھنے کا بھی عزم کر لیا۔ لیکن انتظار ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ سو سو اندیشے بھی اسے گھیرتے کہ کہیں پبلشر مکر نہ جائے۔ کہیں اس کا مسودہ گم نہ ہو گیا ہو، یا ممکن ہے پبلشر اس کو چھاپ کے لاکھوں کروڑوں کھرے کر چکا ہو۔ اس عرصے میں، اس کے گھر والے اور دوست احباب اس مذکورہ ناول کو بھول کے کرونا میں کھو چکے تھے۔
اللہ اللہ کر کے وہ وقت سعید بھی آ پہنچا۔ اسے خوش خبری ملی کہ اس کا ناول زیور طباعت سے آراستہ ہو کے مکمل آب و تاب کے ساتھ پبلشر کی میز پر جلوہ افروز ہو چکا ہے۔ پبلشر نے کتاب کے ساتھ ایک سیلفی بنا کر اسے واٹس اپ کر دی تھی۔

واجد ابرار کی دنیا، رنگ و نور سے اور چاند ستاروں سے جیسے سج سی گئی ہو۔ وہ آسمان ادب پر کنکورڈیا جہاز پر بیٹھ چکا تھا اور جہاز نے ابھی اڑان بھرنا ہی تھی کہ ظالم سماج نے اسے کنکورڈیا سے نیچے اتار دیا۔ اس کی تو جیسے دنیا لٹ گئی ہو۔ جب پبلشر نے یہ منحوس خبر سنائی کہ کرونا کی وجہ سے فی الحال وہ کتاب کے دیدار مبارک سے محروم رہے گا، جب تک انٹر نیشنل فلائٹس شروع نہیں ہوتیں۔ پھر چراغوں میں روشنی نہ رہی۔

کرونا عہد بھی تمام ہوا، لیکن واجد ابرار اپنے پہلے ناول ”من مٹی“ کے لمس سے محروم رہا۔ 479 صفحات پر مشتمل اس کے پہلے ناول نے سب سے پہلے اس کے گھر اور فیملی کے ناقدین کا منہ بند کر دیا۔ پھر اس کا ارادہ ادبی ناقدین کا منہ بند کرنے کا بھی تھا لیکن خوش قسمتی سے وہ ناقدین اس کی پہنچ سے دور تھے۔ ویسے ادبی ناقدین اسے جانتے ہی نہیں تھے۔ لہذا منہ بند کرنے والا پروگرام خود ہی دم توڑ گیا۔ واجد خوش قسمت ہے کہ اس کا پہلا ناول من مٹی کا اب تک تین ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔ اب اس کا دوسرا ناول ”آب زدہ“ منظر عام آ گیا ہے۔

اب کے ظالم نے 448 صفحات پر بریک لگائی۔ یوں قاری کو کچھ سستانے کا موقع مل گیا۔ ایک کام کی اسے بہت داد ملی کہ اس بار اس نے پبلشر ارد و سخن کے ناصر ملک کا انتخاب کیا۔ دونوں ضخیم ناول مجھے ملے تو میرے چھکے چھوٹ گئے، لیکن ہمت کر کے دونوں پڑھ ڈالے۔ تب انکشاف ہوا کہ ہم اب تک واجد ابرار کو بس ایک نٹ کھٹ، لا ابالی اور رومینٹک سا عام نوجوان سمجھتے تھے۔ لیکن اس نے اپنے ان ناولوں میں جو تھیم رکھی، جو مکالمے، سیچویشنز اور کردار تخلیق کیے وہ کسی بھی بڑے لکھاری کے کسی ناول سے کم نہیں تھے۔ وہ چھپا رستم نکلا۔ اس نے سب کو پہلے یہ باور کرایا کہ جیسے اسے کچھ پتا نہیں۔ یہ تو بعد میں بھید کھلا کہ اس کی نظریں اردو ادب کی تمام اصناف پر ہیں۔

کون کس مزاج کا ناول کتاب اور تحریر لکھتا ہے اور کون پسندیدہ لکھاری ہے۔ اچھی بات یہ کہ ہمارا یہ نوجوان ناول نگار جانتا ہے کہ ادب میں با ادب با نصیب کا کیا فلسفہ ہے۔ اور وہ اس فلسفہ کو سینے سے لگائے پھرتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •