محاذ آرائی: تباہی کا راستہ
محاذ آرائی کا انجام، پاکستان کو کتنی قیمت چکانا ہو گی، اس کے تصور سے خوف طاری ہو جاتا ہے۔ اتنی گرد اٹھی ہے کہ کچھ سجھائی نہیں دے رہا۔ الامان الحفیظ۔
ظلمت ایسی کہ سجھائی نہیں دیتا کچھ بھی
نور اتنا کہ دکھائی نہیں دیتا کچھ بھی
خامشی کا وہ خلا، لفظ لبوں سے گر جائیں
شور اتنا کہ دکھائی نہیں دیتا کچھ بھی
محاذ آرائی در اصل فکری و عملی ہیجان کا نتیجہ ہے۔ اس کے پس منظر میں کہیں انتقام کا جذبہ کار فرما ہو تا ہے، جس کی کوئی انتہا نہیں۔ یہ ایک منتقم مزاج شخصیت سے نکل کر ارد گرد کے ماحول، معاشرے اور نظام پر حاوی ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج سیاسی، معاشی اور سماجی زندگی کے تمام پہلو اس کی زد پر ہیں۔ یہ ہماری تہتر سالہ تاریخ کا جبر ہے کہ محاذ آرائی ہمارا کل اثاثہ ہے اور یہ اثاثہ اب حکومت، اپوزیشن اور اسٹیبلشمنٹ میں مثلث کی شکل میں گردش کر رہا ہے۔
ہر وہ عمل جس کے خمیر اور کیفیت میں منفی جذبات موجزن ہوں، اس کا نتیجہ مثبت کیسے ہو سکتا ہے۔ اخلاقیات کا وجود باقی نہیں رہا، الزامات، تہمتیں، کردار کشی، بالآخر بنجر معاشرے کی صورت عیاں ہو چکا ہے کہ محاذ آرائی نقطہء عروج کو چھو رہی ہے۔
اس کے بعد کیا ہو گا؟ یہ ایک اہم سوال ہے، ایک سیدھا سادہ اور آسان راستہ یہ ہے کہ اس کشمکش کی تثلیث کے وارثان مل بیٹھ کر کسی سمجھوتا کے لئے اتفاق رائے پیدا کریں۔ اس سے یقیناً محاذ آرائی سے مستفید ہونے والوں کے وقار میں اضافہ ہو سکتا ہے اور ریاست کے 80 فی صد سے زائد پسے ہوئے عوام بھی سکھ کا سانس لیں گے۔ اسے آپ نیا عمرانی معاہدہ بھی کہہ سکتے ہیں۔ معاہدے کے جو بھی نکات ہوں، اس کی روح سول سپر میسی کی آئینہ دار ہو گی۔ اس سے ہٹ کر ہر راستہ تباہی ہے، نا مرادی ہے اور نا کامیوں سے عبارت ہے۔ کبھی غور کیا ہے کہ یہ کشمکش ہمہ وقت اور تسلسل کے ساتھ کیوں جاری و ساری ہے۔ کیا محرکات ہیں اور اسباب کیا ہیں؟
سیاسی جماعتیں بالخصوص اپوزیشن میں بیٹھ کر محاذ آرائی کا راستہ کیوں چنتی ہیں۔ اس بار تو تاریخ نیا سبق پڑھا رہی ہے کہ منتخب سیاسی حکومت بھی سمجھوتے اور صلح جوئی کی بجائے محاذ آرائی کی راہ پر گامزن ہے اور کچھ پس پردہ قوتیں اس جلتی کو ہوائیں کیوں دی رہے ہیں۔ یہ کہ کیچڑ اچھالو، چاہیے دلدل میں دھنستے چلے جاؤ، وہ وقت اب زیادہ دور نہیں کہ کوئی انگلی تھامنے والا بھی نہیں ملے گا۔ وثوق کے ساتھ کہتا ہوں کہ حکومت اور اپوزیشن بند گلی میں پہنچ چکی ہیں۔ اب اس سے آگے بساط لپٹتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔
عمران خان کے وعدے اور دعوے ڈھیر ہو چکے ہیں۔ ملک ترقی نہیں تنزلی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ لوٹ مار کرنے والے اور عقل کے اندھے اب عمران خان کے ویژن نہیں کنفیوژن کی وکالت اور تشریحات میں مصروف ہیں۔ ”مہربان“ بھی ورطہء حیرت میں ہیں کہ اس عوام بیزار اور استعمال شدہ ملبے کو ٹھکانے کیسے لگائیں۔ اس پشیمانی کا ابھی کوئی سراغ نہیں ملا تھا کہ متحدہ اپوزیشن نے احتجاج کی نان اسٹاپ ٹرین چلا دی۔ قبل از وقت کچھ کہنا مشکل ہے مگر ایک بات ذہن نشین رہے لوگوں کا غصہ اور نفرت چنگاری سے شعلوں میں بدل چکا ہے۔
گوجرانوالہ کا جلسہ آنے والے دنوں کی تصویر کشی کر رہا ہے۔ اب معاملات بگاڑ کی طرف برق رفتاری کے ساتھ بڑھ رہے ہیں۔ اب موجودہ ”نو آر نیور“ سے عوام کا جینا محال اور ملک نئے خطرات و حادثات کا شکار ہو گا۔ ملک میں حکومت نام کی کوئی چیز ہے؟ نا تجربہ کاری، حماقتوں اور غلطیوں نے عمران خان کو تنہائی کے خول میں بند کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بیساکھیوں کے سہارے چلنے والی کٹھ پتلی حکومت، دھڑام سے قصہء پارینہ بھی بن سکتی ہے۔
موجودہ حکومت کا کوئی ایک بھی کارنامہ قابل ذکر نہیں۔ رسوائی ہی رسوائی ہے، مسلم دنیا کے ساتھ تعلقات قابل رشک نہیں، ایران، ترکی، سعودی عرب اور امارات کسی ایک کے ساتھ بھی مثالی نہیں۔ باہمی اعتماد کا فقدان ہے۔ ادھر ہم روس، چین اور امریکا کے درمیان سینڈوچ بنے بیٹھے ہیں۔ کہنے کو چین ہمارا گہرا دوست ہے مگر امریکا ہماری تمام پالیسیوں پر حاوی ہے۔ کشمیر جیسے حساس خطے کی جغرافیائی حیثیت کا تعین بھی امریکا کے طے شدہ ایجنڈے کے مطابق ہی کرنے پر رضا مند ہیں۔ کیوں؟
اس لیے کہ خارجہ محاذ پر ہم بری طرح نا کام ہو چکے ہیں۔ جموں و کشمیر میں حق خود ارادیت اور استصواب رائے کے لیے کی جانے والی جد و جہد کو پس پشت ڈال کر ”جہاں ہے جیسے ہے“ کی بنیاد پر تقسیم کشمیر پر خاموشی کو سرنڈر، یا سودے بازی کے سوا کیا نام دے سکتے ہیں۔ واشنگٹن میں اکیس توپوں کی سلامی اور ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی کا حقیقی مفہوم پہلی بار آشکار ہوا۔ ”سلامی“ اور ”ثالثی“ کی اتنی بڑی اور بھاری قیمت، آنے والی کئی صدیوں تک اس کے اثرات بھگتیں گے۔
یہ ہے بیرونی دنیا کے ساتھ تعلقات کار کی اصل صورت احوال۔ ان حالات میں بہتری کے امکانات نہیں، کیوں کہ یہاں تک پہنچنے اور تنہائی کے گڑھے میں گرنے تک، ہمیں کئی زمانے لگے۔ غلطیوں، کوتاہیوں اور حماقتوں کی ایک طویل داستاں ہے۔ رہا اندرونی مسائل سے چھٹکارا یا یوں کہیے ترقی و خوش حالی و فلاحی مملکت کے قیام کا خواب، بری طرح پامال ہوا۔ پہلی بار احساس ہوا یہ کوئی حکومت نہیں غیر تربیت یافتہ، فہم و فراست سے عاری اور عوامی مسائل سے نا آشنا اقتدار کے رسیا چند افراد کا ٹولہ ہے۔ اس ٹولے کو طاقتور حلقے کسی طے شدہ ایجنڈے کے تحت استعمال کر رہے ہیں۔
آنے والے حالات نوشتہ دیوار ہیں، مگر کئی اسباق پوشیدہ ہیں عقل والوں کے لیے۔ مگر طاقت کے نشہ میں چور، پارسائی کے دعوے داروں اور اپنی ذات کے زعم میں مبتلا کسی فرد یا گروہ کو اللہ رب العزت عقل سلیم عطا فرمائیں، یہ دعا ہی کی جا سکتی ہے۔ بہر حال تباہی اور بربادی ہی آنے والے حالات کا پیش منظر ہے۔
سات دہائیوں سے فوجی آمریت اور نام نہاد جمہوری حکومتوں کے کردار سے اخذ کیا جا سکتا ہے کہ ملک میں ترقی اور استحکام کی ایک ہی صورت رہ گئی ہے کہ ملک میں توازن کے لیے طاقت نہیں اجتماعی دانش بروئے کار لائی جائے۔ بے پناہ طاقت میں توازن پیدا کرنے کے لئے آئین میں ترامیم لائی جائیں۔ سیاست اور طاقت کو عملاً ایک صفحے پر مرتکز کرنے سے مسائل حل ہوں گئے۔ اقتدار میں پس پردہ یا براہء راست شریک کار رہنے اور اس پر اصرار سے پاکستان آہستہ آہستہ مصر، لیبیا اور عراق بنتا جائے گا۔ ہلیری کلنٹن کے وائرل انٹرویو کو نظر انداز بھی کر دیں، پھر بھی یہ تاثر خوفناک ہے اور بیرونی دنیا کا پاکستان بارے میں سوچ کا غماز ہے۔ اس سے ملک کا وقار مجروح ہو رہا ہے اور ہم ایک طویل تاریک راستے پر گامزن ہیں۔


